انڈین باؤلر جسپریت بُمرا کے دادا کی کہانی - آفاق احمد

جسپریت بُمرا تو آپ سب کو یاد ہوگا، آئی سی سی فائنل میں فخر زمان کو آؤٹ کردیا تھا لیکن وہ نو بال ثابت ہوئی اور بعد میں فخر نے سنچری کرڈالی۔
یہ بمرا آج کل پھر انڈیا میں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
کیوں؟
کرکٹ سے ہٹ کر خبر ہے کہ بمرا کے چوراسی سالہ دادا سنتوکھ سنگھ، جو کچھ دن پہلے لاپتہ ہوگئے تھے، کی لاش احمدآباد میں دریائے سابر ماتی سے ملی ہے۔
خبر اہم کیسے ہوئی؟
پولیس کا غالب خیال ہے کہ یہ خود کشی کا معاملہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ خودکشی کیوں کی؟
اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے سولہ پیچھے جاتے ہیں۔
سنتوکھ سنگھ آج تو کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا، وہ گجرات میں تین فیکٹریوں کے مالک تھے، خاصے خوشحال تھے اور بمرا کے والد بھی اس کاروبار میں اُن کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے،2001ء میں بمرا کے والد کا اچانک انتقال ہوگیا جبکہ بمرہ صرف سات سال کا تھا۔

یہ سنتوکھ سنگھ کی خوشحال زندگی کے زوال کا آغاز تھا، قرضے اتنے زیادہ تھے کہ فیکٹریاں بیچنی پڑ گئیں اور انھوں نے چار آٹو رکشہ خرید کر کرائے پر چلا دیے، 2006ء میں یہ لوگ بمرا اور اس کی والدہ سے بھی عیلحدہ ہوگئے اور ریاست کچا کے علاقے اودھم سنگھ نگر میں مقیم ہوگئے، بمرا کی والدہ دلجیت کور سکول میں ملازمت کرتی رہیں۔

سنتوکھ سنگھ کے برے دن اب بھی کم نہ ہوسکے، تین آٹو رکشہ بیچنے پڑ گئے اور جو ایک باقی رہ گیا، وہ انھوں نے خود چلانا شروع کر دیا، ایک پولیو سے متاثر بیٹا بھی ساتھ رہتا تھا، کچھ عرصہ بعد وہ رکشہ بھی بیچنا پڑگیا۔

سنتوکھ سنگھ اپنے پوتے بمرا سے بہت محبت کرتے تھے لیکن بہو انھیں پوتے سے ملنے نہ دیتی تھی۔
جب بمرا انڈین کرکٹ ٹیم میں شامل ہوا تو اس کے دادا بہت خوش ہوئے، ان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
پہلے وہ میری گود میں کھیلا کرتا تھا، اور آج وہ اپنے ملک کے لیے کھیل رہا ہے۔
بمرا کے دادا کی شدید خواہش تھی کہ وہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ اپنے پوتے سے مل لیں، اُسے گلے لگا لیں اور خوب پیار کرلیں، لیکن ان کی "بہو رانی" اس پر راضی نہ تھی اور بارہا کوششوں کے بعد بھی اسے ملنے نہ دیا گیا۔

پانچ دسمبر کو بمرا کی سالگرہ کے موقع کی مناسبت سے وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ ریاست گجرات کے شہر احمد آباد بہو کے سکول پہنچے، لیکن اُس نے پوتے سے ملنے کی اجازت دینے سے سختی سے انکار کر دیا، جب بمرا کا فون نمبر مانگا کہ فون پر ہی بات کرلی جائے تو وہ بھی دینے سے انکار کر دیا، سنتوکھ سنگھ جو پہلے ہی بہت دکھی دل کے ساتھ آئے تھے، اس انکار سے مزید دلبرداشتہ ہوگئے۔

آٹھ دسمبر کو جھاڑکنڈ میں مقیم بیٹے بلوندر سنگھ کو فون کیا اور کہا کہ میں تمھاری مُردہ ماں کے پاس جارہا ہوں، اس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے حتٰی کہ اُن کی لاش دریا میں دو پلوں کے درمیان تیرتی ہوئی ملی۔
بمرا کی والدہ سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بات کرنے سے ہی انکار کردیا۔

جی قارئین! کیا کہا جائے؟
پورے انڈیا میں بُمرا کی والدہ کو معتوب ٹھہرایا جارہا ہے، اس کے دادا کی ایک ویڈیو بھی ہے جس میں پوتے سے ملاقات کے لیے اُن کی بےچینی اور کرب واضح دیکھا جاسکتا ہے، پوسٹ کے ساتھ منسلک تصویر بھی بہت سی ان کہی کہانیاں سُنا رہی ہے۔
آپ بھی اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں:

اتنی سنگدلی اور اتنی بےرحمی کیسے گوارا ہوجاتی ہے، بیشک جیسے بھی اختلافات ہوں، جو بھی مسائل ہوں، قطع تعلقی کتنا بڑا، سنگین اور مہلک جُرم ہے، وہ اس واقعہ سے واضح ہے۔
اللہ ہمیں اس بے رحمی اور سنگدلی سے محفوظ رکھے۔ آمین