سیکولر طبقے کے پاس دلائل کا خاتمہ - عاطف الیاس

مجھے یوں لگتا ہے کہ سیکولر و لبرل طبقے کے پاس دلائل ختم ہوتے جا رہے ہیں. کبھی یہ پھلجڑی کہ ہم خدا کے نہیں بلکہ مولوی کے مخالف ہیں. کبھی یہ کہ ہم جدت کے قائل ہیں. کبھی یہ بودا دعوی کہ سیکولرازم ہی اس ملک کا مقدر ہے. وغیرہ وغیرہ. تازہ ارشاد یہ ہے کہ اللہ میاں تھلے آکر خود حکومت سنبھال لیں ورنہ ہم اطاعت کے قائل نہیں.

ارے بھائی!
آپ جس ادارے میں ملازمت کرتے ہیں. کیا اس کا مالک خود براہ راست آکر آپ کو ہدایات دیتا ہے؟ نہیں نا!
کیا روز مل کر پوچھتا ہے کہ بھائی آپ نے فلاں فلاں کام کیا کہ نہیں؟
ایک انتظامی ڈھانچہ (hierarchy) ہوتا ہے جس کے ذریعے آپ تک احکامات پہنچتے ہیں.
کوئی جی ایم ہوگا، کوئی ایم ڈی ہوگا، کوئی مینیجر ہوگا، کوئی سپروائزر ہوگا.
اب ذرا تصور کیجیے! کسی روز آپ اپنے سپروائزر کو کھری کھری سنا دیں کہ:
"حضرت! آپ احکامات دینے والے کون ہوتے ہیں! آپ سپروائزر ہوں گے تو اپنے گھر میں! میں تو صرف اس وقت مانوں گا جب چوہدری صاحب خود آ کر حکم دیں گے. بصورت دیگر حکمرانی کے گنبد میں بیٹھے کسی کج رو اور کم فہم سپروائزر کی حکمرانی ہمیں قبول نہیں."

پیارے بھائی!
پھر اس کے بعد جو ہوگا وہ کسی ذی ہوش سے پوشیدہ نہیں! ایسے نافرمان، ضدی، اکھڑ اور باغی ملازموں کا ٹھکانہ تین لفظ ہوتے ہیں: یو آر فائرڈ!

آخر انتظامی ڈھانچہ (hierarchy) بھی کسی بلا کا نام ہے. مالک نے کسی کو اختیار دیے ہیں تو کچھ سوچ کر دیے ہیں. اپنا نائب بنایا ہے تو کچھ دیکھ کر بنایا ہے. اپنے حاضر باس سے شکایت ہوسکتی ہے تو اس کے خلاف رپٹ کرنے کا بھی کوئی طریقہ ہوگا. یہ کیا کہ میں نہیں مانتا! میں نہیں مانتا! برا مت مانیے! ایسی بات کرنے پر لوگ دیوانہ ہی کہیں گے.

اب یہ ضد کہ اللہ کی حاکمیت تو قبول ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ خود آکر حکومت سنبھالیں، چہ معنی؟
کیا یہی ضد اور ہٹ دھرمی یہود اور مشرکین کو نہیں تھی: "ہم اس وقت تک نہ مانیں گے، جب تک اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں".

کیا یہ درحقیقت کج روی اور کج فہمی نہیں؟
کیا "اللہ میاں تھلے آ " کا مطالبہ بچکانہ نہیں؟ کیا آپ کو خبر نہیں کہ آپ کس سے مخاطب ہیں! کیا آپ کو خبر نہیں کہ یہ اس کی مشیت نہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ جو امتحان مقصود ہے اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ حقیقت "عین الیقین" اور "حق الیقین" کے درجے تک نہ پہنچے. ورنہ تو مجرم بھی جب قیامت کے دن حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو گڑگڑائیں گے کہ اے ہمارے مالک! ہمیں صرف ایک بار دنیا میں پھر سے بھیج دے تاکہ ہم تیری فرمانبرداری کرسکیں!

کیا آپ نہیں جانتے کہ رسمِ دنیا کا اپنا ایک نظم اور انتظامی ڈھانچہ ہے. اسلامی ریاست کا حکمران زمین پر اللہ کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کے احکامات کو لوگوں پر نافذ کرتا ہے. اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ٹھہرتی ہے کہ یہی رمزِ حکمرانی ہے. (اگرچہ آج زمین پر کوئی حکمران اللہ کا نائب نہیں کہ اسلامی ریاست ہی مفقود ہے)

اب آئیے اس طرف کہ آپ کو حکمران سے شکایت ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کو ٹھیک طور پر نافذ نہیں کررہا. لوگوں کے حق ادا نہیں کر رہا. اپنی ذمہ داریوں سے گریزاں ہے تو بھائی! اسے ہٹانے کا بھی ایک طریقہ اللہ نے دیا ہے تاکہ ہم اس کی جگہ کوئی دوسرا حکمران لے آئیں. لیکن یہ کیا کہ مولوی کی آڑ لے کر اللہ سے وہ تقاضے کیے جائیں جو ناممکن ہیں. تو پھر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ اور آپ کے بھائی بند مولوی کی آڑ میں اللہ کے نازل کردہ سے گریزاں ہیں.یا پھر " یہ تو اپنی خواہشِ نفس کے غلام ہیں"

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */