یہ ڈاکٹر عافیہ کا نہیں، امت کا امتحان ہے - عابد محمود عزام

کچھ دیر پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی تفصیلی گفتگو سنی۔ ان کے ہر لفظ پر رشک آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کتنا مضبوط ایمان عطا کیا ہے۔ ساڑھے 14سال سے داکٹر فاعیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں، لیکن پوری گفتگو میں کوئی ایک لفظ بھی کم ہمتی اور مایوسی کا نہیں تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکا سے ڈاکٹر بن کر آئی تو کچھ عرصے بعد ہی بچوں سمیت اغوا کرلی گئی۔فیملی کو پانچ سال تک تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ عافیہ زندہ ہے بھی کہ نہیں۔ پانچ سال بعد اتنا علم ہوا کہ بہن زندہ تو ہے، مگر زندہ نہیں۔ عالمی دہشتگرد امریکا کے درندوں نے ڈاکٹر عافیہ کی نحیف جان پر اتنا ظلم کیا کہ وہ زندہ لاش بن کر رہ گئی۔ اس پر بے بنیاد کیسز بنا کر طویل سزا سنادی گئی۔ اس پر ہر طرح کا ظلم و تشدد کیا گیا۔ تشدد کر کے اسے ذہنی مریض بنادیا گیا۔ بچوں، والدہ اور بہن پر عافیہ سے ملاقات کرنے پر پابندی لگادی گئی، ڈیڑھ سال سے بات کرنے پر بھی پابندی عاید ہے۔ ساڑھے 14سال سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی عالمی دہشت گرد کے عقوبت خانے میں ان مظالم سے دوچار ہے، جبکہ دوسری بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپنی بہن کی رہائی کے لیے پورے ملک میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہے۔ حکومتوں کی منافقت تو ہے ہی، اس کے ساتھ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو بھی سانپ سونگھ گیا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی پوری ہمت اور جرات کے ساتھ ان مشکلات کا مقابلہ کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں انسان پریشان ہوہی جاتا ہے، مایوسی انسان کے گرد گھیرا تنگ کرہی دیتی ہے، مگر شاید اللہ تعالیٰ مضبوط ایمان والوں کو ہی بڑی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ ان تمام حالات کے باوجود کبھی مایوسی اس کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔ ان کی گفتگو کے ہر ہر لفظ سے پختہ یقین اور ایمان کی مضبوطی عیاں ہوتی ہے۔

سال کے شروع میں جب نااہل حکومت نے امریکا کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا موقع گنوایا تھا، اس وقت بھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے تقریباً پون گھنٹہ بات ہوئی تھی، اس پون گھنٹہ میں ڈاکٹر صاحبہ نے ایک جملہ تو کیا ایک لفظ بھی ایسا نہیں بولا جس سے ناامیدی کا پہلو نکلتا ہو، بلکہ حکمرانوں کی منافقت کی وجہ سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے میرے منہ سے کچھ ناامیدی والے الفاظ نکلے تو وہ کہنے لگیں کہ مایوسی کفر ہے اور بار بار کہا کہ مایوسی کفر ہے۔ کہنے لگیں کہ مجھے نہیں علم کہ اللہ ہماری مدد کیسے کرے گا، لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ وہ ایسی جگہ سے مدد کرے گا جہاں سے ہمارا گمان بھی نہیں ہوگا۔ گفتگو کے دوران کئی بار تو میرے آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوگئے تھے کہ کتنی بڑی آزمائش ہے، ایک بہن امریکی جیل میں اور فیملی پاکستان میں روز جیتے روز مرتے ہیں، مگر کم ہمتی اور ناامیدی کا نام و نشان تک نہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہب پر سیاست کا غلبہ - شاہنواز فاروقی

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عافیہ صدیقی کا خواب بھی سنایا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اس وقت بتایا کہ گزشتہ سال جب عافیہ صدیقی سے بات ہوئی تھی تو عافیہ صدیقی نے والدہ کو اپنا ایک خواب سنایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری وجہ سے افسردہ ہیں۔ عافیہ صدیقی نے بتایا کہ ”میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرا امتحان کب ختم ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تیرا امتحان نہیں، بلکہ میری امت کا امتحان ہے کہ کب تجھے چھڑاتی ہے اور کہا کہ میری امت اللہ اور رسول سے جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔“

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ تمام لوگ ساتھ دینے کا یقین تو دلاتے ہیں، مگر ساتھ دیتے نہیں اور نہ ہی حکام بالا کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم عافیہ کی رہائی چاہتے ہیں۔ اگر عوام عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کی صورت میں ہی ووٹ دینے کی شرط لگا دیں اور حکومت پر دباﺅں بڑھائیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ صرف ایک مہینے میں عافیہ صدیقی پاکستان میں ہوگی۔ ان شاءاللہ۔ جو حکومتیں تین پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے امریکی ریمنڈ ڈیوس کو اپنی جیب سے دیت ادا کرکے چند ہی دنوں میں امریکا بھجوا سکتی ہیں، پاکستان کی بیٹی کو واپس پاکستان لاتے ہوئے ان پر موت کیوں طاری ہوتی ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ تمام حکومتوں نے ہمیشہ جھوٹے وعدے تو کیے ، لیکن قوم کی بیٹی کو پاکستان واپس لانے کی کبھی سچے دل سے کوشش نہیں کی، بلکہ موجودہ حکومت نے تو نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے سال رواں کے شروع میں امریکی حکومت کی جانب سے عافیہ کی رہائی کا دیا جانے والا موقع بھی گنوا یا ہے۔ساڑھے 14سال سے جرم بے گناہی کی پاداش میں امریکی عقوبت خانوں میں مظالم کا شکار بننے والی قوم کی تعلیم یافتہ بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ قانونی لحاظ سے مکمل طور پر کلیئر ہوچکا تھا اور تمام قانونی پیچیدگیوں سے گزار کر امریکی انتظامیہ نے عافیہ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی قانون کے مطابق عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیر اعظم پاکستان یا صدر مملکت کا خط چاہیے تھا، اگر خط مل جاتا تو عافیہ 20جنوری کو رہا ہوچکی ہوتی، لیکن حکومت نے صرف اس لیے خط نہیں لکھا کہ کہیں امریکا کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے ناراض نہ ہوجائے، جبکہ میاں صاحب نے الیکشن سے پہلے پوری قوم کے سامنے عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لانے کا وعدہ کیا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بیچ کر صرف آمر پرویز مشرف نے ہی جرم نہیں کیا، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضگی کے خوف سے عافیہ کی رہائی کا موقع گنوا کر نااہل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی بدترین جرم کیا ہے۔ اگر موجوہ حکومت نااہل وزیر اعظم کی طرح نااہلی کا ثبوت دیتے ہوئے الیکشن تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان نہیں لاتی تو ان کے اس جرم عظیم کا بدلہ انہیں ضرور ملے گا۔ ان شاءاللہ

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.