آتش دان کے رنگ - سائرہ ممتاز

وہ لاہور کا آسمان تھا جس پر روپہلی روشنی پھیلی تھی. ہرے، پیلے، لال اور نیلے رنگوں والے چھوٹے چھوٹے برقی قمقمے جنوری کی سرد ترین رات میں جگمگ کرتے یوں لگتے تھے جیسے کہرے میں دور سے کوئی بحری جہاز سمندر سے اٹھکھیلیاں کرتا آ رہا ہو، جس پر بہت سی لائٹیں جلتی بجھتی ساحل پر کھڑے مسافروں کا انتظار کرتے لوگوں کے دلوں میں خوشی کے پھریرے لہرا رہی ہوں۔ سرما کی طویل سرد رات اور لاہور کا آسمان، اسے ایک دم کراچی کا ہوائی اڈہ یاد آیا۔ وہاں سے اس نے پہلی مرتبہ ہوائی سفر کیا تھا۔ اپنی دادی کی میت کے ساتھ اور دادی کی یاد کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا جیسے بہت کچھ کہیں کھو گیا ہے انجانے میں۔ اسے خبر نہیں تھی کیا کیا کھو چکا ہے اور کھویا بھی ایسے تھا جیسے الف لیلی میں کوئی شہزادی کھو جاتی ہے۔ نازک نفیس طبیعت الھڑ شہزادی، ناز نخروں والی، اداؤں اور صداؤں والی، جسے کوئی نہ کوئی دیو زاد اٹھا کر لے جاتا ہے اور محل کے باسی بس ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔ ایسے ہی عمر کا بہت کچھ کھو چکا تھا۔ دادی کھو چکی تھیں، دادی کی کہانیاں بھی اور وہ بچپن بھی جو کبھی آیا ہی نہیں تھا!

اس پہلی اڑان نے پت جھڑ کے موسم میں اس سے بہت کچھ چھین لیا تھا، اوائل شباب کے رت جگے عذاب ہوتے ہیں اور اگر یہ رت جگے کسی بھی انسان کو اپنے آپ سے متعارف کروا دیں تو وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ وہ جینا چاہتا ہے لیکن جی نہیں سکتا، اسے موت ستاتی ہے لیکن وہ مرنا چاہتا ہے، وہ موت اور زیست کے درمیان کہیں معلق رہتا ہے، اس پر زندگی کے معنی بہت بے وزن ہو کر کھلتے ہیں، اور اس طلسم ہوشربا کا کھل جا سم سم، اسم قاتل ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا، وہ جیسے گوتم بدھ جیسا وردان لے کر کسی گیان میں کھو گیا، اور پھر اسے پتا ہی نہیں چل سکا کہ لڑکپن سے جوانی کی طرف کا سفر کیسا ہوتا ہے؟
_________

وہ ہمیشہ چند برس پیچھے رہی۔ محبوب سے چند برس پیچھے رہنا اور اس کے پیروں کے نشانات پر چلنے کا خوب خوب تجربہ اسے تھا۔ محبوب جو روح میں گھل گھل کر پانی بن جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی بدن میں دوڑتا خون بھی پانی ہو جاتا ہے۔ جہاں یاد کی آندھی اٹھتی ہے، ہجر کے تھپیڑے دار لو کے جھکڑ چلتے ہیں۔ رگوں میں پانی مٹی ہو کر بہتا ہے۔ ماس مٹی، ہڈ مٹی، لہو مٹی، مٹی بھی مٹی۔ ایک دن داتا صاحب پر مٹی الزام دھرنے گئی۔ بڑا ان داتا بنتا ہے، نام داتا رکھ لینے سے کوئی داتا بن جاتا ہے کیا؟ جو اتنا ہی اللہ والا ہے تو میری مٹی سے لہو اگا کر دکھا۔ یاد رکھ! مٹی سے لہو اگنا چاہیے۔ میں تجھے تب داتا مانوں جو میری مٹی سرخ کر کے دکھائے۔ بس یہ کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ چلتی جاتی ہے اپنے آپ میں مگن، دوڑتی بھاگتی، ہانپتی، آنسو پیتی، کرودھ کھاتی بس جیے جاتی تھی مٹی۔ اس کے بعد وہ کئی برس لاہور گئی، کتنی راتیں وہاں گزریں، لیکن شب عنبرین آ کر ہی نا دی.
چھیتی آویں وے طبیبا!
نہیں تاں میں مر گیاں

یہ بھی پڑھیں:   داستانِ نو - مُبشرہ ناز

نہیں نہیں بلھے شاہ یہ جھوٹ ہے، مرن توں آگے مرنا پیندا، بلھے شاہ موت سے آگے بھاگنا پڑتا ہے، طبیب کو تکلیف دینے کی ضرورت ہی کیا ہے. عاشق کے تو پیروں کی خاک بھی زندگی بانٹتی پھرتی ہے!
_________

عمر جس نے لڑکپن نہیں دیکھا، جوانی بھوگ لگا دی تھی۔ کسی کے چرنوں پر بھوگ رکھ کر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اسے چیونٹیاں، کیڑے مکوڑے یا چوہے کھا رہے ہیں، شیش ناگ اس میں زہر انڈیل رہے ہیں یا صنم کدے میں کوئی اس بھوگ کی جانب متوجہ بھی ہے۔ سچی نیت کا بھوگ تب ہی منظور ہوتا ہے جب اسے نتیجے اور چاہت سے بے نیاز ہو کر چڑھایا جائے۔ یہ تو اس کے خیر خواہ عمر کے غم میں گھل گھل کر ختم ہوئے جاتے تھے۔ عمر کی خبرداری، ہوش اور خرد انھیں بےگانگی، بے خبری اور دیوانگی لگنے لگا تھا۔ اس کی خاموشی ماں کے کلیجے پر چھریاں چلاتی تو کچھ اور لوگ تھے جو کسی پری کا سایہ اس کے وجود پر تلاش کرتے تھے، ایسے ہی خبردار روز و شب کے درمیان کسی وقفے، راز کے کسی آشنا پہر میں وہ داتا صاحب کی سیڑھیوں پر بیٹھا تھا، وہ وہاں گزر رہی تھی، جوتیاں پاؤں میں پہننے کو نظریں جھکائیں تو عمر کی قسمت کو اٹھنے کا موقع مل گیا۔ وہ مڑی، عمر کی آنکھوں کو غور سے دیکھا، چنری کا ایک پلو پھاڑ کر اس کی گود میں پھینک دیا۔ بڑے دیالو لہجے میں گویا ہوئی، "رے چھورا اس پلے کو بچھا، آج دو نفل پڑھ لے، اس سے آگے نکل جائے گا۔"
کچھ دن بیتے عمر نے دیکھا وہ جس کے پیچھے چلتا رہا تھا، وہ داتا صاحب کے دوار کھڑی کہہ رہی تھی "جے توں داتا ایں تاں میری مٹی وچوں لہو اٹھا کے وکھا"...
_________

رفیق موچی جو بنگلوں کی اس قطار کے آخری سرے پر اپنا کھوکھا لگا کر بیٹھتا تھا، ہر روز اس متناسب خد و خال والی لڑکی کو سامنے کوچنگ سینٹر سے نکلتے دیکھتا تھا۔ یوں تو رفیق موچی پرائی بیٹیوں کو گھور کر دیکھنے کی فطرت نہیں اپنا سکا لیکن اس لڑکی میں کچھ ایسا تھا کہ ایک نظر دیکھ کر ہی وہ اتنا مجبور ہو چکا تھا کہ بے اختیاری میں ہر روز اسے آتے جاتے دیکھنے لگا۔ شاید اس کی شکل رفیق کی فوت شدہ بیٹی سے ملتی تھی اور اس کے چہرے پر غم کا ہالہ سا پھیلا رہتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے شازیہ۔ رفیق موچی کی پہلوٹی اولاد۔ اس دن کا قصہ بھی عجیب ہے جب رفیق نے پہلی مرتبہ اس لڑکی کی موجودگی پر غور کیا تھا۔ وہ ساڑھے پانچ بجے کی کلاس لے کر نکلی اور اپنے خیالوں میں مگن بنگلہ نمبر اکیس کے سامنے سے گزر رہی تھی کہ دو لڑکے اس پر آوازیں کستے اور بےہودہ فقرے اچھالتے اس کے پیچھے چلنے لگے۔ تب رفیق سے برداشت نہ ہوا اور اس نے ان دونوں مریل گدھوں جیسے وجود کے حامل اوباشوں کو دھمکیاں دے کر بھگا دیا، اور پھر شاید وہ غیر ارادی طور پر اس کا خیال رکھنے لگا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے اپنے بچے کو پیار سے پالا۔جویریہ سعید

یونہی دو تین موسم گزر گئے اور رفیق نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اس کے چہرے کے گرد کرب کا ہالہ دھندلاتا جا رہا ہے، جیسے کوئی خاموش سی تبدیلی تھی جو سوائے رفیق کے اور کوئی محسوس نہ کر سکا. اس کے ارد گرد ہر روز سینکڑوں لوگ گزرتے تھے۔ کئی فروٹ والے مستقل ٹھیلے لگاتے تھے۔ مختلف دکانیں تھیں ہمیشہ سے ان دکانوں میں بیٹھنے والے جوان اور ڈھلتی عمر کے دکاندار تھے جن میں سے شاید کسی نے ایک وجود پر گہری پرچھائیوں کو کم ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ ساڑھے پانچ بجے کی کلاس لے کر باہر نکلتی تو اس کے موبائل پر انجانی سی دھن گنگناتی جس سے اس کا چہرہ سیپ کی طرح آہستہ آہستہ کھلنے لگتا، جس پر بارش کے قطرے پڑتے ہیں تو وہ اپنا راز بھرا وجود کچھ لمحوں کے لیے کھول دیتی ہے، وہ مہہ جبین تھی۔
_________

مہہ جبین کی زندگی میں تبدیلی اس نئے آنے والے استاد کی بدولت تھی جو نیا نیا کیمسٹری پڑھ کر آیا تھا، اور شاید اسے لوگوں کی کیمسٹری پڑھنا انھیں پڑھانے سے زیادہ محبوب تھا۔ مہہ جبین جس کو باپ کی معذوری اور ماں کی موت نے دنیا جہان سے الگ کر رکھا تھا۔ وہ دست کیمیا سے شفا یاب ہونے لگی اور ہوتے ہوتے اعتماد کی اندھی لکڑیوں سے اس کے ہردے میں آگ لگا دی گئی۔ مہر نامی استاد کو اس کے دوستوں نے یاد دلایا کہ یاری تو پہلے ہم سے تھی، جو کھاتے تھے اکٹھے کھاتے تھے اور جو پیتے تھے اکٹھے پیتے تھے، یہ زنانی کے پیچھے یاری بھول جانے والے مہر نہیں بےمہر ہوتے ہیں۔ ونڈ کھائیے تے کھنڈ کھائیے، اور وہ کھنڈ زہر بن کر مہہ جبین کے بدن میں اتر گئی۔ مل بانٹ کر کھایا گیا اور رفیق موچی اس سے اگلے دن ہی مر گیا تھا، جب اس نے رات نو بجے کوچنگ سینٹر کے کمرے سے خون آلود کپڑوں سمیت اسے نکالا جس کی حفاظت کا ذمہ خود بخود اس نے اپنے سر لے رکھا تھا۔

بہت سالوں بعد مہہ جبین نے داتا صاحب کے دوار پر عمر کو بیٹھے دیکھا اور عشق کے سب سے بےمہر شعلے میں جلنے والے فقیر سے مخاطب ہو کر بولی،
"جے توں داتا ایں تاں میری مٹی وچوں لہو اٹھا کے وکھا"

زندگی کے آتش دان میں بہت سے رنگ لہراتے ہیں جن کے بیچوں بیچ سب سے خطرناک رنگ بےمہری ہے۔

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.