سوشل میڈیا اور فحش گوئی - بشارت حمید

شہرت کا خواب ہر انسان دیکھتا ہے اور ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں جانا اور پہچانا جائے، ہر جگہ اس کی تعریف کی جائے، اس کی ہر بات کو سراہا جائے۔ اس شہرت کے حصول کے لیے لوگ بہت سے پاپڑ بیلتے ہیں۔ کچھ تو اچھے کاموں کی وجہ سے معروف ہو جاتے ہیں اور کچھ کے نزدیک بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا، والا معاملہ ہوتا ہے۔

جنسی جذبہ ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے اور ہمارے معاشرے میں اس بارے کھلے عام گفتگو معیوب سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے دین نے شرم و حیا کی کچھ حدود و قیود مقرر کی ہیں‌ اور کھلے عام فحش حرکات اور نازیبا بات چیت سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی بےحیائی اور فحاشی کو پسند نہیں کرتا اور مؤمنوں کو بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

شرم و حیا ایک مسلمان کی پہچان ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ جنسی جذبہ ہر انسان کی فطرت کا کمزور ترین پہلو بھی ہے۔ شیطان بطور خاص اس پہلو پر وار کرتا ہے اور انسان کو بآسانی اپنے جال میں‌ پھنسا لیتا ہے۔ اس سے صرف وہی بچ سکتے ہیں جن پر اللہ کا خصوصی فضل و کرم ہو۔

ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنی فحش گوئی سے شیطان کا کام آسان بنانے کی کوشش میں‌ رہتے ہیں۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ جو لوگ معاشرے میں‌ فحاشی اور بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں سخت عذاب کی وعید ہے۔ ہمارے ہاں‌ جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے، اس ذہنیت کے لوگ اس میدان میں بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ فیس بک پر فحش تحریرں پوسٹ کرنے والوں میں‌ کالجزاور یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے طالب علم بھی شامل ہوتے ہیں جو مزاح اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے ہودہ گوئی کرتے ہیں اور پھر ان پوسٹس پر کمنٹ کر کے ان کو داد و تحسین دینے والے دانشور قسم کے لوگوں کی سوچ پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ اس کو لائک کر کے اور واہ واہ کر کے وہ کس بات کی تشہیر کر رہے ہیں۔

کئی احباب علی الاعلان خود کو ٹھرکی کہہ کر یہ سب لکھنا اور شیئر کرنا جائز سمجھتے ہیں اور اسے اپنی سچائی کی دلیل سمجھتے ہیں۔ کسی دینی یا دنیاوی تعلیمی ادارے کے طالب علم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب ہر بے ہودگی جائز ہوگئی ہے اور جو اندر کی غلاظت ہے اسے اب سوشل میڈیا پر انڈیلنا درست ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے لکھاری جو اپنے آپ کو بےباک لکھاری کہتے ہیں، ان کی پوسٹ کبھی نظر سے گزرے تو گھن آتی ہے کہ یہ بے باکی ہے یا بے حیائی۔ شاید اب لوگوں کو شہرت اور لائکس حاصل کرنے کا شارٹ کٹ اسی فحاشی کی تشہیر میں ہی نظر آتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آپ کا لکھا ہوا ہر لفظ فیس بک ڈیٹا بیس کے ساتھ ساتھ آپ کی کتاب زندگی میں بھی ریکارڈ ہو رہا ہے۔ کیا معلوم کب یہ کتاب بند کر دی جائے اور میزان پر یہ سب تحریرں پیش کی جائیں تو پھر یہ سستی شہرت کس کام کی رہے گی؟

سوشل میڈیا ہو یا عام زندگی میں کی جانے والی گفتگو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم جو بول رہے ہیں جو لکھ رہے ہیں اس سے دوسروں پر کیا اثر پڑے گا؟ اور گندی گفتگو سے ہم اللہ کے غضب کو دعوت دے کر روز قیامت کہاں جائے پناہ تلاش کریں گے؟ کہیں ہم صدقہ جاریہ کے بجائے اپنے لیے گناہ جاریہ کا بندوبست تو نہیں کر رہے؟؟

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.