کراچی کا موجودہ سیاسی منظر نامہ - قادر خان یوسف زئی

کراچی نے ماضی میں ہمیشہ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اہل کراچی گزشتہ کئی عشروں سے مخصوص طرز سیاست میں الجھنے کے سبب قومی دھارے سے دور ہوتے چلے گئے اور یہاں تک کہ کراچی میں جس قسم کی سیاست کی جانے لگی اس سے اہل کراچی کا سکون کا سانس لینا بھی دوبھر ہوگیا تھا۔

قومی انتخابات سے قبل کراچی کی نمایاں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حلقہ انتخابات میں سرگرم ہوچکی ہیں اور کراچی اس بار قومی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آنے والا ہے۔ کراچی کا مینڈیٹ دھاندلی اور جبری ووٹنگ کے ذریعے منقسم رہا ہے۔ کراچی کے خاموش ووٹ کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے لیکن خاموش اکثریت نے اپنے ووٹ کا استعمال کرنے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے۔ کراچی سونے کی چڑیا ہے جس پر قبضے کے لیے ہر جماعت نے ہر قسم کی سیاست کرنے سے گریز نہیں کیا۔ تشدد سے لیکر ہر قسم کے ہتھکنڈوں نے کراچی کا چہرہ مسخ کردیا تھا، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بتدریج بہتر بنایا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان خانہ جنگی روکنے کے لیے بھی اہم پل کا بھی کردار ادا کیا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاست میں عسکری اداروں کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے تو یہ بات اُس وقت بالکل درست ہوتی جب ہماری سیاسی جماعتوں میں برداشت اور جمہوری اقدار کی پاسداری کی جاتی۔ جمہوری نظام ہوتے ہوئے بھی ہم اپنے مسائل کا حل اسٹیبلشمنٹ سے ہی کروانا چاہتے ہیں یہ ہماری سیاسی جماعتوں کی محکم تاریخ رہی ہے جسے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی میں جب کشت وخون کا بازار گرم تھا تو اسی رینجرز سے تمام سیاسی جماعتیں کے رہنما اپنے تحفظ کے لیے رابطہ کیا کرتی تھی۔ رینجرز کا بنیادی مینڈیٹ کراچی میں مستقل امن کا قیام اور جرائم پیشہ عناصر سے پاک سیاسی جماعتوں کو مثبت کردار ادا کرنا رہا ہے۔ رینجرز نے اپنے کردار کو بخوبی نبھایا ہے اور کراچی میں اکّا دکّا واقعات چھوڑ کر مجموعی طور پر امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر سیاسی جماعتیں و عوام رینجرز کا ساتھ نہیں دیتے تو رینجرز کے لیے کراچی میں امن قائم کرنا مشکل ہوتا۔ یہ رینجرز و قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ اس سال کراچی میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا اورکراچی جو جرائم کے حوالے سے انڈیکس میں دوسرے نمبر پر تھا اب 54نمبر جا چکا ہے۔ رینجرز کے اس غیر معمولی کردار کی وجہ سے کراچی میں سیاسی فضا تبدیل ہوئی اور اب کراچی کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں کسی بھی سیاسی جماعت کا رہنما بلا خوف نہیں جاتا ہو۔

ماضی میں کٹی پہاڑی کراچی والوں کے لیے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا لیکن پاک سرزمین پارٹی کے تمام سرکردہ رہنماؤں بالخصوص مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے تسلیم کیا کہ اب وہاں گولیاں نہیں پھول برسایا جاتے ہیں۔ تقریباً نو برس بعد عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کٹی پہاڑی میں قدم رکھا اور اپنے ایک کارکن کی دعا مغفرت میں شرکت کی۔ میٹروول (جسے اے این پی رہنماؤں کی مقتل گاہ کہا جاتا ہے) جیسے علاقے میں جلسے اور پرچم کشائی کی۔ لانڈھی، کیماڑی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ پاک سر زمین پارٹی بھی اُن اُن علاقوں میں گئی جہاں اس سے قبل کسی سیاسی جماعت کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایم کیو ایم ف اور ایم کیوایم اے کے درمیان اختلافات کے باوجود کراچی میں ماضی میں کیے جانے والے آپریشن کے بعد سیاسی تصادم و تشدد کی سیاست کا آغاز نہیں ہوا۔ کئی عرصے بعد مہاجر قومیت کے نام پر ایم کیو ایم ایچ ( حقیقی)بھی سیاسی جلسے جلوس بے خوف ہوکر نے لگی۔ لیاری جیسے علاقے میں اب کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں کسی مشکلات کا سامنانہیں ہے۔ حکمران سیاسی جماعت کے لیے خود اپنا علاقہ نو گو ایریا بن چکا تھا، لیکن لیاری کو پیرس بنانے کے دعوے کرنے والوں نے بالآخر لیاری میں دوبارہ اپنی سیاست کا آغاز کیا اور پارٹی چیئرمین بلاول زرداری سے اہل لیاری نے اپنی جذباتی وابستگی کے اظہار میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ جس سے کراچی میں سیاسی ماحول میں خوشگوار تاثر پھیلا اور اہل کراچی نے رینجرز کی کردار کی کھل کر تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں:   قومیانے سے نجکاری کی سعی و جہد تک - حبیب الرحمن

متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان کراچی میں کیا گیا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی اب مکمل طور پر قومی سیاست میں اپنا کردار دوبارہ ادا کرنے کی مرحلے میں ہے۔ کراچی کی اہم اسٹیک ہولڈر جماعت اسلامی، نے اس بار کراچی کے خاموش ووٹرز سے بہت سی توقعات وابستہ کرلیں ہیں، جماعت اسلامی کی عوامی سطح پر سیاسی گرمیوں نے عوام میں سیاسی سوچ کے رجحان میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے اہل کراچی نے بھی بڑی توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کا اتحاد اگر برقرار رہتا ہے تو دس برس بعد فعال ہونے والے اتحاد کے سبب جماعت اسلامی کراچی میں بڑا اپ سیٹ کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ جمعیت علما اسلام ف کے بکھرے ووٹ، جماعت اسلامی کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔ نیز تحریک انصاف کو کراچی میں سیاسی خلا پُر کرنے میں ناکام رہی ہے، مایوس ووٹرز جماعت اسلامی کی جانب رخ کرسکتے ہیں۔

جماعت اسلامی، ایم کیو ایم ف ، اے، ایچ اور پاک سرزمین پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت میدان تیار کرچکی ہے۔ کراچی کی سیاست جہاں ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے وہیں سندھ کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑتی ہے، مقتدور حلقے اس بار پی پی پی کا رول ماضی کے قومی انتخابات میں پنجاب کی طرح سندھ میں بھی تبدیلی کا اشارہ دیتے نظر آتے ہیں۔ پی پی پی کا سندھ کے اندرون علاقوں میں اپنا اثر رسوخ کم ہوا ہے جبکہ شہری علاقوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کی وجہ سے اہل کراچی کا رجحان اپنے جانب متوجہ کرنے میں ناکامی کا سامنا کرچکی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کا کراچی کی سیاست میں حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں رہا ہے۔ نون لیگ میں جتنے دھڑے اور اختلافات کراچی کی ذیلی تنظیموں میں پائے جاتے ہیں اتنے کسی دوسرے شہر میں نہیں ہیں۔ کراچی میں گرچہ قوم پرستی و لسانی سیاست کا رجحان بھی کم ہوا ہے لیکن اس کمی کے رجحان کو سیاسی اتحاد سے ہی پُر کرنے کی کوششوں کو اہل کراچی خیر مقدم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

قومی انتخابات کے وقت پر نہ ہونے اور ایک عبوری سیٹ اپ کے غیر معینہ مدت تک کردار کی بنا پر عوام میں بے یقینی کی فضا بھی موجود ہے۔ تاہم کراچی کا سیاسی منظر تاحال بدل چکا ہے۔ ماضی کی پُر تشدد سیاست اور ننانوے فیصد ووٹ کاسٹ کرنے والے" نامعلوم فرشتوں" کے لیے اس بار مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔ ماضی میں مُردوں کے بھی ووٹ کاسٹ ہونے کی روایات اس بار دوہرانا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہیں کہ کراچی میں جس کا بھی سیاسی مینڈیٹ ہو وہ اپنے جائز ووٹ کے ذریعے ثابت کرے، دھونس، دھاندلی اور جبر ی متشدد سیاست کے لیے کراچی میں اب کوئی جگہ نہیں ہے۔

کراچی کے سیاسی منظر نامے کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ کراچی و حیدرآباد میں ایم کیو ایم ف، اے، ایچ جس قسم کی سیاست کرکے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں، اُس ایجنڈے کو پاک سرزمین پارٹی نے کافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی پر چاہے جتنے اعتراضات کرلیے جائیں لیکن اس بات کو سب تسلیم کریں گے کہ سیاسی خوف کے ماحول کو توڑنے میں پاک سرزمین پارٹی نے کلیدی کردار ادا یا ہے۔ تجزیہ نگار و ناقدین اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی میں اگر امن رینجرز نے قائم کیا ہے تو پاک سرز مین پارٹی نے کراچی کے سیاسی جمود کو توڑا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی، ایم کیو ایم اے ؍ف؍ایچ چاہے ایک پلیٹ فارم استعمال کرلیں لیکن اس بات کا کریڈٹ پاک سرزمین پارٹی کو ہی جاتا ہے کہ اس جماعت نے سیاسی خوف کے نوگو ایریاز میں عوام میں سیاسی حرارت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کراچی میں موروثی نشستوں کے علاوہ پی پی پی کے لیے کراچی کے دیگر حلقوں میں چیلنجز ہیں اگر کراچی میں کسی بڑے سیاسی اپ سیٹ کا امکان ہے تو وہ صرف ایم ایم اے سے ہے جس میں اہم کردار جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت کا ہوگا۔ کیونکہ جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت اور فعال کارکنان پر مشتمل جماعت ہے۔ کراچی میں ایک عرصے تک عوام کے دلوں پر راج کرنے والی جماعت اسلامی جس طرح عوامی رابطہ کررہی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل کراچی ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی کو کراچی کے تخت پر بیٹھانے کے لیے ذہنی طور پر خود کو تیار کررہے ہیں اگر اس مرحلے پر تحریک انصاف سے سیٹ ایڈجسمنٹ اتحاد ہوجاتا ہے تو جماعت اسلامی و مولانا فضل الرحمٰن کراچی میں دم دما دم مست قلندر کرسکتے ہیں۔ باقی رہی سہی کسر سندھ کے اندرونی علاقوں میں جاگیردارنہ نظام پوری کردے گا۔