ترجیحات بدلنا ہوں گی - محمد عامر خاکوانی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پارلیمنٹ ہاؤس میں اراکین ِ سینیٹ کو بریفنگ دینا بہت اہم اور کئی حوالوں سے غیر معمولی اثرات کا حامل اقدام ہے۔ اس سے پہلے جنرل کیانی ایبٹ آباد واقعے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس وضاحت کے لیے آئے تھے۔ امریکی سپیشل ٹیم کی جانب سے ایبٹ آباد آ کر اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ صورتحال ایسی بن گئی تھی کہ آرمی چیف کو خود آ کر وضاحتیں کرنا پڑیں۔ آج کل ویسی صورتحال نہیں۔ نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے تو حکومت اور فوج ایک ہی جگہ کھڑی ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی وزیرکی پاکستان آمد کے موقع پر سول، ملٹری کے اعلیٰ نمائندوں نے ایک ہی میٹنگ میں امریکی مہمان سے ملاقات کی۔ تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو ستائش کی نظر سے دیکھا تھا۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران البتہ بعض واقعات ایسے ہوئے، جن پر شکوک پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ سپریم کورٹ سے میاں نواز شریف کی نااہلی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔ ن لیگی میڈیا سیل یہ مہم چلاتا رہا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ن لیگ کے حامی قلمکاروں نے بڑی ہنرمندی سے اس تاثر کو مستحکم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ میاں نواز شریف نے بھی اس جانب اشارے تو کیے، مگر وہ کھل کر صرف عدلیہ پر برس رہے ہیں۔ میاں صاحب کی عدلیہ پر تنقید نہایت افسوسناک ہے، جلد یا بدیر عدلیہ کو اس حوالے سے توہین عدالت لگانے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ تحریک لبیک یارسول اللہ کے مولوی خادم رضوی کے دھرنے نے بھی بعض شکوک کو جنم دیا۔ دھرنا ختم کرتے وقت جو معاہدہ ہوا، اس میں فوجی نمائندے کے دستخط نے ایک حلقے کو مضطرب کر دیا۔ انہیں تشویش لاحق ہوگئی کہ کہیں یہ سوچا سمجھا کھیل تو نہیں تھا؟

آرمی چیف نے سینٹ کو ان کیمرہ بریفنگ دے کر ان تمام شکوک وشبہات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کی ایک مستقل صورتحال چلتی رہتی ہے، اس پس منظر میں جنرل باجوہ کا یہ اقدام خوشگوار ہے۔ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب کر کے بڑا کارنامہ انجام دیا، دہشت گردوں کی کمر انہی کے دور میں توڑی گئی اور نیٹ ورک بکھر گیا۔ جنرل راحیل شریف کا مگر اپنا ہی خاص مزاج اور سٹائل تھا۔ نہایت سنجیدہ صورت بنائے وہ وزیراعظم کے ساتھ اعلیٰ سطحی بریفنگز میں بیٹھا کرتے۔ مجال ہے کبھی کسی تصویر میں ہلکی سی مسکراہٹ بھی چہرے پر نظر آجائے۔ تاثر یہ بنتا تھا جیسے وہ حکومت سے سخت ناراض ہیں اور کسی بھی وقت مزید چراغ پا ہو کر سب کچھ الٹ سکتے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف کاانداز مختلف اور زیادہ کھلا ڈلا عوامی ہے۔ سینیٹرز سے آرمی چیف نے کئی گھنٹوں تک گفتگو کی، سوالات کے جوابات بھی دیے، اس سے پہلے اعلیٰ فوجی افسروں نے سینیٹ کو بریفنگ بھی دی۔ یہ بند کیمرہ سیشن تھا اور اصولی طور پر وہاں ہونے والی باتیں باہر نہیں آنا چاہیے تھیں، مگر اسے میڈیا کے لمبے ہاتھوں کا کمال کہیں یا پھر سینیٹرز کا اتاولا پن کہ تقریباً سب کچھ ہی چھن چھن کر باہر آگیا۔گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ نے اس حوالے سے سینیٹرز کی بجا طور پر فہمائش کی کہ اگر ان کیمرہ سیشن کی باتیں باہر آجانی ہیں تو پھر کل کو یہاں کون آ کر کلاسیفائیڈ بریفنگ دے گا؟

یہ بھی پڑھیں:   ہم کو اعتبار آیا - حبیب الرحمن

اخبارات میں چھپنے والی تفصیل کے مطابق آرمی چیف نے تین چار ایشوز پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں یہ کہا کہ دھرنے کے پیچھے فوج کا ہاتھ نہیں تھا اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے تو وہ استعفا دینے پر تیار ہیں۔ جنرل باجوہ کی یہ بات بہت اہم ہے۔ ہمارے کئی جغادری تجزیہ کار میاں نواز شریف کی محبت میں اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ چورن بیچنے کے چکر میں بار بار یہ الزام دہراتے رہے ہیں۔ اب ان کے پاس موقع آ گیا ہے کہ عسکری قیادت کی مبینہ انوالمنٹ کے حوالے سے کچھ ہے تو وہ سامنے رکھیں اور استعفا حاصل کریں، ورنہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھل کر تسلیم کر لیں کہ ہم بے بنیاد الزامات عائد کرتے رہے۔ جنرل باجوہ نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ فوج صدارتی نظام کے حق میں فضا ہموار کر رہی ہے، اطلاعات کے مطابق آرمی چیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم آئین کے پابند ہیں جو ملک میں پارلیمانی نظام کی بات کرتا ہے اور ویسے بھی صدارتی نظام تو ملک کو کمزور کرے گا کہ ایک بڑے صوبے کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوجائے گی۔ اس وضاحت سے ان شکوک کو چھٹ جانا چاہیے۔ دراصل ہمارے بعض ٹیکنوکریٹ ملک میں صدارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عطاالرحمن جیسے اعلیٰ پروفیشنلز شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ان جیسوں کی خدمات سے صدارتی نظام میں فائدہ اٹھانا ممکن ہوپائے گا، جہاں وزیر بننے کے لیے ممبر پارلیمنٹ ہونا ضروری نہیں۔

جنرل باجوہ نے پارلیمنٹ کو بالادست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئین سے ماورا کردار کے خواہش مند نہیں، عوام کو جوابدہ ہیں، ماضی میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔کسی دل جلے سینیٹر کے سوال پر آرمی چیف کو یہ واضح کرنا پڑا کہ ٹی وی پر تبصرہ کرنے والے ریٹائرفوجی افسران ہمارے ترجمان نہیں ۔ ویسے خدالگتی بات تو یہ ہے کہ ان ریٹائر دفاعی تجزیہ کاروں نے کبھی فوج کا ترجمان ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا، لیکن ان کے ملٹری پس منظر کو دیکھتے ہوئے شاید یہ تاثر پیدا ہوتا رہا کہ کہیں نہ کہیں ان کی بھی سنی جاتی ہے۔بہتر ہوتا کہ آئی ایس پی آر سے یہ وضاحت پہلے ہی دلا دی جاتی ۔ جنرل باجوہ نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ دفاعی اور خارجہ پالیسی بنائے، ہم عمل کریں گے۔ دیکھیں پارلیمنٹ اس پیش کش پر کیا عملی جواب دیتی ہے ؟ کاش پارلیمنٹ کی دفاع، خارجہ امور کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کو امریکی سینیٹ کمیٹیوں کی طرز پر فعال بنایا جائے تو یہ تاثر دور ہوجائے گا کہ سویلین اختیارات لینے کا شور تو خوب مچاتے ہیں، مگر عملی طور پر کام ان سے نہیں ہوپاتا۔

آرمی چیف کی اس تفصیلی بریفنگ اور دو ٹوک اعلانات سے توقع کرنی چاہیے کہ قومی افق سے غیر یقینی اور کنفیوژن کے بادل چھٹ جائیں گے۔ بعض حلقوں میں طویل مدت کی نگران حکومت یا ٹیکنوکریٹ حکومت کی افواہیں ڈسکس کی جارہی تھیں، اب یہ سب باتیں غیر متعلق ہوگئیں۔ پاکستان کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہاں تواتر سے پولیٹیکل سسٹم چلتا رہے اور اسے کسی بھی صورت ڈی ریل نہیں ہونا چاہیے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کا تصور غیر آئینی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر عملی اور ملک و قوم کے لئے نہایت خطرناک بھی ہے۔ پاکستان آج کل جن سنگین مسائل میں گھرا ہوا ہے، وہاں عوام کو جوابدہ طاقتور سیاسی حکومت ہی بڑے فیصلے کر سکتی ہے۔ جس نگران ٹیکنوکریٹ حکومت نے اپنے فیصلوں کے مضمرات کا سامنا ہی نہیں کرنا، اس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ سیاسی حکومتیں اچھی ہوں یابری، ان کا بہرحال محاسبہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا کردار پیچھے رہ کر معاونت فراہم کرنا ہے۔دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ پالیسیوں کے تسلسل کی ضمانت ہوتی ہے، یہی کردار اسے ادا کرنا چاہیے۔ جب اسٹیبلشمنٹ یا ایجنسیاں براہ راست مداخلت شرو ع کر دیں، حکومتوں کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے منصوبے بنائیں، تب صرف سسٹم نہیں بلکہ ریاست بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ حکومت کرنا صرف سیاستدانوں کا کام ہے، وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیںاور یہی مینڈیٹ ہی انہیں حکومت کا حق بخشتا ہے۔ فوجی آمروں نے آ کر معاملات بگاڑے ہی ہیں۔ آمر اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے معاشرے کے بنیادی فیبرک کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ اس کے جانے کے برسوں بعد تک ہم ان منفی اثرات سے باہر نہیں آ سکتے۔ جنرل ضیا کے دور میں برادری ازم، فرقہ ورایت اور ایم کیو ایم کے مسائل نے جنم لیا، آج تین عشرے گزر گئے، مگر قوم ان مسائل سے نبردآزما ہے ۔ جنرل مشرف نے پرامن بلوچستان میں آگ بھڑکا کر اور لال مسجد، جامعہ حفصہ پرآپریشن کر کے لہو کی ایک نئی فصل کاشت کی، ہزاروں شہری اس کی نذر ہوئے۔ ڈکٹیٹر ملک سے باہر بھاگ گیا، مگر جو فتنے کے درخت اس نے لگائے، وہاں پر کڑوا پھل آج بھی لگ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فارورڈ بلاک کی ہوائی کہانیاں - شہزاد حسین بھٹی

اسٹیبلشمنٹ کو لوپروفائل رکھتے ہوئے اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔ اپنی امیج بلڈنگ سے بے نیاز ہو کر انہیں کام کرنا چاہیے، لوگوں کے دل جیتنے چاہییں، انہیں اپنا حامی نہ بنائیں۔ ذہن میں رکھیں کہ لوگ فوج اور فوجیوں سے محبت کرتے ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کا لفظ ہی گالی بن چکا ہے۔ اس پر غور کریں کہ ایسا کیوں ہوا؟ منتخب سیاسی حکومتوں کو بھی اپنا کام کرنا چاہیے۔ اختیارات کی کمی کا رونا رونے کے بجائے وہ ڈیلیور کر کے دکھائیں۔ صحت، تعلیم، روزگار، امن وامان، صاف پانی، ماحولیات جیسے بڑے ایشوز کے لئے کسی بھی منتخب حکمران پر کوئی قدغن عائد نہیں۔ان کی اپنی نااہلی، خود غرضی اور نالائقی ہے کہ یہ کام کرنے کے بجائے لوٹ مار میں لگے رہتے ہیں یا پھر قومی بجٹ آنکھوں کو چندھیا دینے والے جگمگاتے بے فائدہ پراجیکٹس اور سٹرکوں پرلٹا دیتے ہیں۔ ہم نے سول ملٹری تناؤ میں بہت وقت برباد کر دیا۔ کاش اب بھی سنبھل جائیں اورنئے ضابطے بناتے ہوئے عوام کی حالت سنوارنے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیں۔ سول ہو یا ملٹری، ان سب کی اصل طاقت پاکستان کے عوام ہیں، انہیں مضبوط، خوشحال اور پرسکون بنائیں۔ یہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.