یا لیتنی … اے کاش! - عظمیٰ ظفر

ایک دلخراش چیخ میرے حلق سے نکلی اور یہ آخری ثابت ہوئی ۔ وہ کوہ پیمائی پر نکلنے والے دس کوہ پیما تھے اور ان میں سے سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے ۔ طوفانی، برفیلی ہوا نے خیمے کے چیتھڑے اڑا دیے تھے ۔ کسی کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا ۔ سگنلز آنا بند ہو گئے تھے اور موبائل کی چارجنگ نیچے کی جا نب جا رہی تھی ۔

میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے دوست سلیمان کو برف میں دھنستے ہوئے، جان دیتے ہوئے دیکھا تھا اور یقیناً اب میری باری تھی۔ برف موت کا شکنجہ لیے آگے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں اس وقت کو کوس رہا تھا جب مذاق مذاق میں شرط لگا بیٹھا کہ اس دفعہ بھی کوہ پیمائی کا ریکارڈ میں قائم کروں گا اور سارے مہم جوؤں کو ساتھ چلنے کے لیے راضی بھی کیا۔ چونکہ موسم بہت خراب تھا اس لیے انسٹرکٹر نے اجازت نہ دی مگر میں صفدر حیات جو اپنے آگے سب کو زیرو مانتا تھا، ہار ماننے والوں میں نہیں تھا۔ آنسو میرے چہرے کو بھگو رہے تھے۔ کاش میں نہیں آتا۔ کاش، کاش!

برف کے اندر میرا وجود سینے تک دھنس چکا تھا۔ میں برف کی آگ میں جل رہا تھا۔ کاش کوئی مدد کو آجائے۔ کاش، کاش !

میری زندگی میں کاش کا لفظ کبھی نہیں آیا تھا۔ جو چاہا وہ پا لیا، جو نہیں ملا اُسے چھین لیا۔ صفدر حیات جو نا قابلِ تسخیر تھا، آج بے جان لاشہ بن رہا تھا۔ برف کی ٹھنڈک نے اعصاب شل کر دیے تھے۔ انگلیاں سوج گئیں تھیں اور حرکت کے قابل نہ تھیں۔ برف ہی برف۔ موت سے زیادہ برف سے خوف آ رہا تھا۔ کیا میں مر رہا ہوں؟ کاش، کاش میں یہاں نہ آتا، کاش!

ایک دلخراش چیخ برف کے بے رحم پہاڑوں سےٹکرا کر واپس آگئی تھی۔ سلیمان کی لاش برف سے ڈھکنے والی تھی۔ اس کی کھلی آنکھوں سےمجھے خوف آرہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔

وہ مر کر بھی اطمینان سے تھا اور میں زندہ ہو کر بھی اذیت میں۔

ابھی کچھ گھنٹے پہلے تو وہ اپنی موت کو محسوس کرکے اپنی پسندیدہ آیات کی تلاوت کر رہا تھا۔ یا لیتنی پر آ کر ہمیشہ کی طرح زاروقطار رونے لگتا تھا۔

کچھ عرصہ قبل ایک دوست کے انتقال کے بعد بھی وہ یہی آیت تلاوت کر کے رونے لگا تھا۔ تب میں نے جھنجھلا کر بہت بے زاری سے کہا تھا۔ یار ۔ تم رونے کیوں لگتے ہو؟ مت پڑھا کرو اگر تم کو رونا ہی ہوتا ہے تو۔

تم نے کبھی اس سورت کو پڑھا ہے صفدر؟

اس نے نم آنکھوں سے مجھے دیکھا۔

کیا؟ قرآن اور میں ؟ آہم ہم … دادی کی وفات پر پڑھا تھا شاید ۔ پتا نہیں یاد نہیں۔ چل یار گھر چل! آج کا دن تو قبرستان میں گزر گیا۔ What rubbish! صفدر حیات نے کندھے اچکائے تھے۔

سلیمان کو اُس سے اِس بات کی امید ہر گز نہیں تھی۔ دیکھ لو اس جگہ کو، تم آسمان کی بلندی کو چھو لو یا برف پوش پہاڑوں کو چھو لو ۔ واپس یہیں آنا ہے قبرستان میں۔

ارے میرے باپ، میرے دادا! مر جاؤں تو برف میں ہی دفنا دینا۔ صفدر حیات کی موت بھی معمولی نہیں ہوگی۔ سمجھے؟

تم کو سمجھ آئے گی، ضرور آئے گی۔ سلیمان نے اُسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔

اللہ کو بھولنے والوں کو جب اللہ یاد آ تا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ دعا کرو تمہیں دیر نہ ہو جائے۔ تمہیں پتا ہے یہ آیت مجھے کیوں رُلاتی ہے؟ اُس نے سورۃ فجر پڑھنا شروع کی پھر اس کا مطلب سمجھایا۔

صفدر حیات نے لمحہ بھر کو سوچا۔ "اچھا ابھی تو چل، پھر کبھی غور کروں گا۔"

آج ہزاروں فٹ کی بلندی پر صفدر حیات کو اپنی ہی باتیں رُلا رہی تھیں۔ "سلیمان تُو نے ٹھیک کہا تھا۔

يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي اور انسان کہے گا کاش میں نےاپنی زندگی (جاودانی) کے لیے آگے کچھ بھیجا ہوتا۔

تمہیں واقعی جب اللہ یاد آئے گا تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

یا لیتنی! سلیمان کی پرنم آواز اسے رُلا رہی تھی۔ کاش! اے کاش مجھے ایک موقع مل جائے۔ میں برف میں مرنا نہیں چاہتا۔ میرے اللہ! مجھے معاف کردے۔ کڑیل جوان صفدر حیات کے صرف ہونٹ ہل رہے تھے، برف متواتر گر رہی تھی اور اسے مکمل طور پر مفلوج کر چکی تھی۔ اُسے یا لیتنی کا مطلب سمجھ آ گیا تھا۔

ٹیگز

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.