شہزادے جزیرے - سعود عثمانی

معلوم نہیں جزیروں نے مجھے زندگی میں اتنا حیران اور متجسس کیوں رکھا ہے۔ شاید یہ رومان زدہ طبیعت ہے یا سیاحت پسند مزاج۔ جزیرے ہمیشہ مجھے آواز دیتے اور بلاتے محسوس ہوتے ہیں۔ ویسے تو خشکی کے یہ عظیم ٹکڑے جنہیں ہم بر اعظم کہتے ہیں بذات خود جزیرے ہیں یا جزیرہ نما زمینی خطے۔ اور ہم انہی جزیروں پر زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہنسی خوشی یا مضطرب اور بے قرار کسی آنے والے کی تلاش میں۔ اسی تلاش میں بسا اوقات زندگی گزر جاتی ہے۔

خود استنبول بھی سات پہاڑیوں پر بسا ہوا اور دو براعظموں میں منقسم شہر ہے۔ کباتاش (kabatash) استنبول کے یورپی ساحل کا وہ مقام ہے جہاں سے آپ بحر مرمرا، باسفورس یا شاخ زریں کے کسی راستے پر اپنے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔ چمکیلی دھوپ نکلی ہوئی ہو تو مرمرا اور باسفورس کے نیلے پانیوں کی چمک دار سطح وسیع لاجوردی قالین کی طرح فرش ِ راہ ہوتی ہے۔ فیری پر بیٹھنے سے پہلے میں نے ہاتھ کا چھجا بنا کر بیس میل دور سرمئی ہیولوں کی طرح ان زمرّدی جزیروں کو دیکھا جو میرے منتظر تھے۔ پرنسز آئی لینڈز (Princes Islands) یعنی شہزادوں کے جزیرے۔

شہزادوں کے جزیرے استنبول جانے والوں میں معروف تھے۔ کبھی تاریخ، کبھی جغرافیے اور کبھی سیاحوں کی داستانوں میں نمودار ہوجانے والے یہ جزیرے مجھے ہمیشہ للچاتے رہے تھے۔ ان کی تاریخ بھی پڑھی تھی اور ان سے منسوب داستانیں بھی جن میں دل چسپی کے لیے کافی کچھ تھا۔شہزادوں کے جزیروں میں وہ تینوں خوبیاں تھیں جو سیاحت کے لیے مہمیز کرتی تھیں۔نئی جگہ، خوب صورت، منفرد جزیرے اور تاریخ کی مہک۔

استنبول کے جنوب مشرق میں بحر مرمرا میں واقع 9 جزیروں کا یہ جھرمٹ شہزادوں کے جزیرے ترکی زبان میں کیزل اڈالار (Kizil Adalar) یعنی سرخ جزیرے کے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ ان نو میں سے چار بڑے جزیرے بیوک اڈا (بڑا جزیرہ)، ھے بیلی اڈا (کاٹھی والا جزیرہ)، برگاز اڈا(قلعے والا جزیرہ)، کینیالی اڈا (حنائی جزیرہ) کہلاتے ہیں۔ جبکہ باقی پانچ نسبتاً چھوٹے جزائر صدف اداسی (صدف کا جزیرہ)، یاسی اڈا (ہموار جزیرہ، سیوری اڈا (نوکیلا جزیرہ)، کاسیک اڈاسی (چمچ والا جزیرہ) اور توسان اڈاسی (خرگوش والا جزیرہ) کہلاتے ہیں۔

بازنطینی دور میں شاہی خاندان کے افراد کو اگر جلا وطن کیا جانا مقصود ہوتا تو انہی جزائر پر بھیج دیا جاتا۔ عثمانی ترکوں نے 1453ء میں استنبول کا محاصرہ کیا تو ان جزائر کو بھی قبضے میں لے لیا۔ بعد کے ادوار میں سلطنت عثمانیہ نے بھی انہی جزیروں کو کھلی جیل کی حیثیت میں باقی رکھا۔ اور جلاوطن کیے جانے کی صورت میں شہزادوں کو یہاں بھیج دیا جاتا تھا۔ یہیں سے ان کا نام شہزادوں کے جزیرے پڑ گیا۔ انیسویں صدی میں استنبول کے مال دار افراد میں ان جزیروں کو تفریح گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا رواج پڑگیا اور یہ چلن کم و بیش اسی طرح اب بھی رائج ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طیب اردگان کی کامیابیاں - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

خوب صورت اور آرام دہ فیری جزیروں کی طرف روانہ ہوئی تو مقامی لوگ کم تھے اور سیاح کافی زیادہ۔ روسی اور عرب سیاحوں کی تعداد دوسرے ملکوں کے سیاحوں کی نسبت کافی زیادہ تھی۔ کچھ روسی سیاح زبان کے مسئلے سے ماورا ہو کر فیری کینٹین والے سے اشاروں کی زبان میں مکالمہ کر رہے تھے اور زیادہ کامیاب نظر آتے تھے۔ مرمرا کے نیلے قالین پر پھسلتی فیری کے اطراف سفید بگلے اور دیگر آبی پرندے منڈلا رہے تھے۔ سیاح ان کی طرف کھانے کی چیزیں اچھالتے تو اکثر پرندے ہوا ہی میں لقمہ اچک لیتے۔ جو سطح آب پر گر پڑتا اسے غوطہ لگا کر اٹھا لیتے۔ لاجوردی آسمان اور سمندر کے درمیان براق پرندوں کی آڑی ترچھی پروازوں سے کبھی قوسیں اور کبھی دائرے بن رہے تھے۔دل کی خوشی، صحت اور فرصت۔ خدا کرے کہ سفر میں یہ تینوں پریاں آپ کے ہمراہ ہوں اور اگر ایسا ہو تو زندگی اور زمین کی خوب صورتیاں آپ کے اس سفر کو یادگار بنا دیں گی۔

ویسے تو فیری کا رخ جزیروں کے اس جھرمٹ میں سب سے بڑے جزیرے بیوک اڈا (Byukada)کی طرف تھا لیکن اس راستے میں وہ کئی دیگر جزیروں کے پاس سے گزری۔ ھی بیلی اڈہ کا منظر اب تک نگاہوں میں بسا ہوا ہے۔ چمکیلی سنہری ریت کا ساحل،ساحل کے ساتھ ہی گہرے سبزے کا آغاز۔ سرو قامت درخت قطار در قطار ایک دوسرے کے پیچھے پہاڑی پر کھڑے ہوئے۔ سرخ چھتوں والے خوب صورت اور خاموش ولاز۔ ان کے درمیان سے ایک سرمئی سڑک پہاڑی پر ڈھلوانیں چڑھتی ہوئی۔ یہاں وہاں مسرور اور شادمان بچے سائیکل چلاتے ہوئے۔ زندگی کی گہما گہمی تھم کر ایک سبک خرام وقت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر دن گزارتی ہوئی۔


یہ نیلے مرمرا کے تھال میں خود رو زمرد

جزیروں پر بسا اک شہر کوئے یار جیسا

پہاڑی پر بنے مسکن کلاہ سرخ پہنے

یہ قصبہ لاجوردی نقرئی اشجار جیسا

وصال و ہجر کے ملتے ہوئے دو بر اعظم

مہک اس پار جیسی، فاصلہ اس پار جیسا

بیوک اڈہ کے ڈیک پر فیری لنگر انداز ہوئی اور سیاحوں نے جزیرے پر قدم رکھا۔چند قدم چلے تو ایک عجیب سے احساس نے گھیر لیا۔ جزیرے پر انسانی آوازوں اور پرندوں کی چہکار کے علاوہ کوئی آواز نہیں تھی۔اگر کوئی اور آواز تھی تو وہ سکوت کی آواز تھی۔ان جزیروں کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے ہر طرح کی مشینی ٹریفک ممنوع ہے۔ جزیرے پر صرف سائیکل اور بگھیاں سواری کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ نہ موٹر سائیکل، نہ کسی طرح کی کوئی کار یا مشینی سواری۔ خاموشی جب بھی بولتی ہے، بہت صاف سنائی دیتی ہے۔بگھیاں خوب صورت ہیں اور فی سواری یا مکمل بگھی ،دونوں طرح دستیاب ہیں۔ چڑھائی سر کرنے کی ہمت ہو تو سائیکل پر قدم آزمائی کیجیے۔ہم جزیرے کے چھوٹے سے خوب صورت بازار سے گزرے اور کلاک ٹاور والے چوک میں آ کھڑے ہوئے جہاں سے چار سمت رستے نکلتے ہیں۔ خواہش تو یہی تھی کہ پیدل ہی جزیرے کی خاموش اور حسین سڑکوں پر راہ نوردی کی جائے لیکن فیری کی واپسی کا وقت متعین تھا اور پیدل تمام جگہ جانا ممکن ہی نہیں۔ بیوک اڈا تقریباً چھ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا جزیرہ ہے۔ہم ایک خوب صورت بگھی میں بیٹھے۔سواری والی بگھی میں دو روسی سیاح خواتین بھی آبیٹھیں جنہیں جزیرے کی سیاحت کے ساتھ ساتھ پہاڑی کی چوٹی پر بنے ہوئے قدیم یونانی کلیسا کو دیکھنے کا اشتیاق تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی شام میں کردوں سے کیوں لڑ رہا ہے؟ میگن سپیشیا

بیوک اڈا میں ایک زمانے میں بہت سے یونانی النسل افراد آباد تھے. ان کے گھر اور عبادت گاہیں اب بھی جزیرے کے تاریخی مقامات کا حصہ ہیں۔کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ترک وزیر اعظم عدنان میندریس (1950-1960) جب فوجی بغاوت کے بعد گرفتار ہوئے تو انہیں یہیں یاسی اڈا نامی جزیرے پر قید میں رکھا گیا تھا۔ یہیں ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر وہ وزیر اعظم جو لندن میں طیارے کے حادثے میں معجزانہ طور پر بچ گیا تھا، 17اپریل 1960ء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

صنوبر کے دیوقامت قدیم گھنے درختوں کے درمیان اونچی نیچی ڈھلوان سڑکوں سے گزرتی بگھی میں ہوا کی سرسراہٹ اور گھوڑوں کے سموں کی ٹاپ دونوں طرف پھیلے خاموش گھروں کے درمیان گونج رہی تھی۔ یہاں صرف متمول افراد ہی رہ سکتے تھے جو اپنی ذاتی موٹر بوٹ اور بگھی رکھنے کے متحمل ہوں۔ ایک دو کلو میٹر آگے وہ دوراہا آیا جہاں ایک سڑک پہاڑی کی چوٹی پر کلیسا کی طرف جاتی تھی اوردوسراراستہ ساحل کی طرف اترتا تھا۔ہم نے بگھی کے مسافروں کو الوداع کہا اور پیدل ساحل کی طرف ہو لیے۔

ڈھلوان سڑک سے ساحل کی طرف اترتے ہوئے سامنے نیلمیں سمندر کوچھو کر آنے والی ہوا نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ہوا کی مہمان نوازی ہر طرح اور ہر جگہ دل کشا ہوتی ہے۔ہم اس جزیرے پر اکیلے نہیں تھے ہم خوشبو دار ہوا کے ساتھ اور اس کے مہمان تھے۔ یہ چھوٹی سی سنہری ریت والی بیچ تھی جہاں پانی کے کھیلوں (Water sports) کا ایک کلب بھی قائم ہے اور ایک کیفے بھی۔میزبان ہوا ہمیں جزیرے پر پھراتی رہی اور سہ پہر کے وقت جب ہماری تھکن جزیرہ نوردی پر غالب آگئی تو جزیرے کی مشہور بھنی ہوئی سی باس (Sea Bass) مچھلی اور ترکی چائے ہمیں تازہ دم کرنے کے لیے کمک کے لیے آپہنچیں۔ بہت جلد اندازہ ہوگیا کہ اس ایک دن میں ہم دوسرے جزیرے کیا، ایک جزیرہ بھی مکمل طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ واپسی کے لیے فیری تیار تھی اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس وسیع زمین کا کیا، کسی ایک خوب صورتی کا بھی اس چھوٹی سی فرصت میں حق ادا نہیں ہو سکتا۔


اس اک گلاب کو جی بھر کے دیکھنا ہے مجھے

یہ کام زندگئی مختصر میں کیسے ہو

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.