برداشت کی کمی اور ’ہم‘ - نمرہ شارق

عمران خان اہل ہوں یا نا اہل، ن لیگ کی صدارت نواز شریف کو دی جائے یا پھر بلاول بھٹو زرداری جلسوں سے خطاب کریں، سب میں ایک چیز مشترک ہے۔ الفاظ کابدترین چناؤ زبان زد عام ہے۔ رات نو بجے کا خبر نامہ جو کبھی معلومات عامہ میں اضافہ کرتا تھا آج کل لفظی جنگ سے بھر پور ہوتا ہے۔ رات کو آٹھ بجے کے ٹاک شو ز دیکھنے سے کسی موضوع کی تفصیل سمجھ میں آئے یا نہ آئے،دوسرے شخص کی توہین کا طریقہ سمجھ آجا تا ہے۔ چھ سال کا بچہ ہو یا پھر چھبیس سالہ نوجوان ذرا ذرا سی بات پہ جھگڑنا سب کا شعار بن چکا ہے۔ روزمرہ کے کام انجام دیتے ہوئے ہم ایسے بہت سے ملتے ہیں۔ جو اپنے جذبات پہ قابو نہیں رکھ سکتے۔ غصے میں آکر وہ سامنے والے کو ایسے الفاظ سے نوازتے ہیں کہ الامان!

ابھی چند دن پہلے کا واقعہ ہے کسی کام سے بازار جانا ہوا۔ گاڑیوں کے رش اور عوام کے دھکم پیل کی وجہ سے ایک خاتون دوسری سے ٹکرا گئیں۔ بس پھر کیاتھا؟ ان خاتون نے مڑ کر ایسی سخت سنائی کہ ٹکرانے والی خاتون پریشان ہو گئیں۔ جب تک کچھ لوگوں کے معاملہ رفع دفع نہ کرایا تب تک وہ تکرار کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ بس سٹاپ پر بس کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک لڑائی کی آواز سے چونکی۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ ایک وین والے نے اپنے نمبر سے پہلے وین چلانے کی کوشش کی تھی۔ جس پر دوسرے شخص نے اسے ایسے القابات سے نوازا کہ ہم استغفراللہ پڑھنے پر مجبور ہوگئے۔ بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی یہاں تک کہ سڑک پر موجود لوگوں نے آکر صلح صفائی کرائی۔

وکلاء گردی کا لفظ آج کل ہر شخص کو معلوم ہے۔ گزشتہ دنوں پہلے ملتان میں وکلاء کے احتجاج اور پھر ان کی طرف سے کیے گئے جھگڑ ے اور ڈنڈوں کے کھلے استعمال نے مزید آنکھیں کھول دیں۔ آ ئے روز یونیوسٹی سے طلبہ تنظیموں کے درمیان لڑائی کی خبریں بھی اب معمول کی بات ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ واقعی معمولی بات ہے؟ نہیں، ان تمام واقعات کے بعد ہمیں اصل وجہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم یہ سب کر کیوں رہے ہیں؟ کیا ہم میں ’’برداشت‘‘ختم ہو چکی ہے؟برداشت کا لفظ صرف مظلوموں کا نہیں بلکہ تمام ”انسانوں“کا خاصا ہے لیکن دورِ حاضر میں یہ شاید ”ناپید“ ہے۔ کوئی شخص اگر ہمیں بُرا کہہ دے تو اسے دس گنا مزید برا کہنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کو غلط کہنے اور ان کے لیے تو ہین آمیز الفاظ استعمال کرنے میں سکون محسوس ہوتا ہے لیکن ہم یہ جا ننے سے قاصر ہیں کہ یہ صرف وقتی سکون ہے۔

بھلا کسی کی تذلیل کر کے بھی کبھی سکون ملا کرتا ہے؟ ہم اپنے جذبات پر قابو پانا نہیں جانتے، نہ ہی ہم اسے سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم کسی کو معاف نہیں کرتے جبکہ ہمیں تو ہمارا دین بھی یہی سکھاتا ہے کہ معاف کرنا سیکھو، معاف کر دیا کرو۔ لیکن ہم میں تو حوصلہ اور ہمت ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑوں کی دیکھا دیکھی ہمارے بچے بھی کا م کرتے نظر آتے ہیں۔ بہن بھائی ایک دوسرے کو مارتے ہیں جبکہ سکول میں بھی بچے مل جل کر دینے کی بجائے دوستوں سے لڑنے جھگڑنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ کبھی کبھار بات ہاتھوں کے استعمال تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ اس سب میں قصور بھی تو ہمارا ہے۔ ہم خود میں برداشت پیدا کریں گے تب ہی تو بچوں کو بھی اس کی تلقین کر سکیں گے۔ ہم درگزر کرنا سکھیں گے تو اپنے بچوں کو سکھائیں گے کہ دوسروں کو معاف کر دینے سے اللہ بھی خوش ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو جگائیں۔ اپنے جذبات خاص طور پہ اپنے غصے کو قابو کرنا سیکھیں۔ کوئی ہمیں غلط سمجھے یا کہے، ضبط کریں۔ تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح کو اپنائیں۔ برداشت اور حوصلہ پیدا کریں تا کہ معاشرے کی فضا پر سکون ہو سکے۔ ہم بخوشی دوسرے کی خوشی میں شریک ہوں اور غم بھی ہمارے سانجھے ہوں۔ پھر غصے کی جگہ ایک مسکراہٹ لے لے گی جو دائمی ہو گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com