نوجوانوں کے لیے امید کی کرن، اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم - نوید احمد

زمانہ جوں جوں آگے بڑھ رہا ہے، ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، انسان زمین کے ساتھ ساتھ آسمانوں پر بھی گھر بسانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، دنیا ایک بین الاقوامی گاؤں بنتی جا رہی ہے، ذرائع آمدورفت کے وسائل ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، رابطے کے ذرائع اتنے تیز رفتار ہو گئے ہیں کہ ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے میل ملاقات اب کوئی مسئلہ نہیں رہا لیکن ان سارے عوامل کے ساتھ ہمارے معیارات بھی بدلے ہیں۔ انسان کی سوچ کے زاویے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟

حقیقت حال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام نے مادّہ پرستی کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔ ایک کالج اور یونیورسٹی کا طالب علم دوران تعلیم ہی اونچے اونچے خواب بسانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ جب یہ خواب پورے نہیں ہوتے تو اعلیٰ تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے طالب علم بھی خودکشی کی راہ اپنانے لگتے ہیں۔ بے روزگاری کا عفریت نوجوان نسل میں مایوسی کا عنصر بڑھا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مایوسی کو امید میں کیسے بدلا جائے؟

اسلام ایک آفاقی دین ہے۔ یہ انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کا پیغام دیتا ہے۔ امید کے لیے وہ دنیا کو مقصد نہیں بتاتا بلکہ دنیا کو مقصد حاصل کرنے کا ذریعہ بتاتا ہے۔ آج جتنی مایوسی نوجوانوں میں پائی جاتی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی کامیابی کو کامیابی اور دنیا کی ناکامی کو ناکامی سمجھ لیا ہے، اس لیے جب وہ دنیا میں اپنے خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھتے ہیں تو گمراہی کے رستے پر چل پڑتے ہیں۔ بے روزگاری واقعی ایک مسئلہ ہے جس کے قصوروار حکمران ہیں لیکن کیا ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے علم کی بنا پر اپنے گھر والوں کا پیٹ نہیں پال سکتا؟ ضرور پال سکتا ہے اگر اس خیال کو ذہن سے نکال دے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   خیبر اور مدائن صالح کا سفر (آخری حصہ) - معظم معین

اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو طالب کی مالی حالت تسلی بخش نہ تھی، اہل وعیال کی کثرت نے اس کمزوری کو مزید تکلیف دہ بنادیا تھا، اس لیے حضور جب نو یا دس سال کے ہوگئے تو آ پ نے بکریوں کے ریوڑ اجرت پر چَرانے شروع کردیے تاکہ اپنے چچا کا ہاتھ بٹائیں۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر اس نے بکریوں کو چَرایا ہے۔ اصحاب نے عر ض کیا، یا رسول اللہ کیا آپ نے بھی؟ فرمایا: میں قراریط کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چرایا کرتاتھا، [ قراریط یہ قیراط کی جمع ہے اور یہ دینار کے چھٹے حصے کی چوتھائی کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا دینار کے بیسویں حصہ کو قیراط کہتے ہیں، لیکن شیخ ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے، لکھتے ہیں۔ بکریوں کے دودھ کا حصہ جو حضور اجرت کے طور پر لیا کرتے تھے، اور جو ابو طالب کے اہل وعیال کے ساتھ آپ بھی غذا کے طور پر استعمال فرمایا کر تے تھے۔ (بحوالہ : سیرت رسول المعروف ضیاء النبی ج۔2ص۔103/104]

یہ تھا اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا! اگر ابھی بھی شرم باقی ہے تو دیگر انبیاء کرام کے پیشوں پر ایک نظر ڈالیے۔ کھیتی باڑی کرنا حضرت آدمؑ کی سنت، بکریاں چرانا حضرت داؤد علیہ السلام کی سنت، لباس تیار کر نا سیدناحضرت ادریسؑ کی سنت، بکریوں کا کاروبار کرنا حضرت شعیبؑ کی سنت، کشتی تیا ر کرنا اور بڑھئی کا کام کرنا حضرت نوحؑ کی سنت، حضرت ابراہیم اور حضرت زکریا علیہما السلام بزازی (کپڑا بیچنا ) کر تے تھے۔ حضرت شیثؑ خود کپڑا بنا کر فروخت کرتے، حضرت اسماعیلؑ تیر بناتے تھے، حضرت صالحؑ تھیلیوں کی تجارت کر تے تھے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام جو تے سیتے اور ان کی تجارت کرتے تھے۔ جب کہ اعلان نبوت سے قبل 31 برس حضور سید الانبیاء محمد مصطفی ﷺ بھی تجارت کرتے تھے۔۔

یہ بھی پڑھیں:   خیبر اور مدائن صالح کا سفر (حصہ اول) - معظم معین

میرے عزیز نوجوان بھائیو! مایوسی سے نکل آؤ! اللہ نے آپ کو بے پناہ صلاحیت دی ہے، آپ چاہیں تو دریا کا رخ بدل سکتے ہیں۔ آپ قوم کی تقدیر بنا سکتے ہیں۔ اللہ پر توکل کریں اللہ آپ کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے آپ کو گمان بھی نہیں لیکن محنت شرط ہے۔ کسی پرندے کو بھی بغیر اڑے خوراک نہیں ملتی۔ کوئی پیشہ برا نہیں، اگر کوئی چیز بری ہے تو وہ معاشرے کی سوچ ہے۔ آپ درزی کو کم درجے کا پیشہ سمجھیں تو اس میں درزی کا کچھ نہیں جائے گا آپ کپڑے سلوانے اسی کے پاس جائیں گے۔ آپ لاکھ برا سمجھیں نائی کو لیکن حجامت بنوانے اسی کے پاس جائیں گے۔ اس لیے اس پست سوچ سے باہر نکل آئیے۔

آخری بات پھر وہی، دنیا مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ۔ یہاں سے تو زاد راہ لیکر آخرت کی تیاری مقصود ہے۔ ساری خواہشیں یہاں پوری نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے نظر اگر اپنے سے نیچے والے پر رکھیں گے تو شکر کے جذبات بھی پیدا ہوں گے اور زندگی بھی پرسکون ہو گی۔