روہنگیا رواں صدی کا المیہ - شاہد سلیمان

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق عالمی خبر رساں ایجنسی کے دو رپورٹرز یو وا لون اور یو کوا سو اوو کو گزشتہ ہفتے رنگون میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان دونوں کے پاس میانمار کی شمالی ریاست راکھین میں اجتماعی قبر کے متعلق معلومات اور تصاویر تھیں جو انہوں نے اپنی تحقیقات کے دوران وہاں کے رہائشیوں سے حاصل کی تھیں۔ میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شمالی ریاست میں اجتماعی قبر کی چھان بین کررہی ہے۔ اس سلسلے میں میانمار کے آرمی چیف من آنگ ہلائنگ کے فیس بک پیج پر لکھا گیا کہ کچھ فوجیوں کو راکھین ریاست کے 'دن' نامی گاؤں میں کچھ نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں تاہم یہ نہیں لکھا گیا کہ کتنی لاشیں ملیں اور ان افراد کا تعلق کس مذہب یا علاقے سے تھا ؟ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ راکھین کے ایک گاؤں میں میانمار فوج نے روہنگیا اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران بہت سے افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں اس اجتماعی قبر میں پھینک دی تھیں۔ عالمی تنظیم "ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز" کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں 7600 روہنگیا مسلمان قتل کیے گئے جس میں 730 بچے شامل تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے سیٹیلائٹ ثبوت موجود ہیں۔

روہنگیا نسل کشی اس صدی کا المیہ ہے اس کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے برما کے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کو سمجھنا ضروری ہے۔

میانمار جنوب مشرقی ایشیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جسے ماضی میں برما کہا جاتا تھا۔ یہاں تقریباً 12 لاکھ مسلمان بستے ہیں جو عقیدے کے اعتبار سے سنّی ہیں، انہیں روہنگیا کہا جاتا ہے۔ ان کی زندگیاں تشدد، امتیازی سلوک، بے بسی اور مفلسی کی ایسی تصویر ہیں جنہیں دیکھ کر انسانیت خون کے آنسو رو رہی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت و تعصب کا سلسلہ یوں تو پہلے سے چلا آ رہا ہے لیکن اس میں شدت 1982ء میں اس وقت آئی جب میانمار میں ایک نسل پرستانہ قانون منظور کیا گیا جس کے تحت وہاں رہنے والے کسی بھی نسلی گروہ کے لیے اپنی شہریت تسلیم کروانے کی خاطر یہ ثابت کرنا لازمی ہوگیا کہ کہ وہ 1828ء میں برطانوی قبضے سے قبل بھی برما ہی میں مقیم تھا۔ گرچہ روہنگیا مسلمان وہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق تو برطانوی قبضے سے پہلے روہنگیا مسلمان ایک آزاد ریاست اراکان کے نام سے رکھتے تھے جس کی سرحد چٹاگانگ تک تھی۔

اراکان کی ریاست چونکہ سابقہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ملحق تھی اس لیے جب برصغیر میں تحریک پاکستان چل رہی تھی تو روہنگیاں مسلمانوں نے بھی علیحدگی پسند تحریک کا آغاز کیا تاکہ اراکان کو پاکستان میں شامل کروایا جا سکے۔ ان کے ایک وفد نے قائد اعظم سے ملاقات بھی کی تھی اور اراکان کو مشرقی پاکستان میں شامل کرنے کا کے مطالبے کو تحریک کا حصہ بنانے کی درخواست کی تھی۔ تحریک پاکستان میں حصہ لینے کے لیے روہنگیا نے اراکان مسلم لیگ کی بنیاد بھی رکھی لیکن ان کا پاکستان میں شامل ہونے کا خواب ادھورا رہ گیا اور کشمیر ہی کی طرح انگریز نے یہاں سے جاتے ہوئے اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ روہنگیا مسلمان پاکستان میں شامل تو نہ ہو سکے لیکن برما کی اشرافیہ نے ان کی اس کوشش کو کبھی معاف نہیں کیا۔

اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہےکہ روہنگیا مسلمانوں کو کسی قسم کے حقوق یا اختیارات حاصل نہیں اور یہ کہ روہنگیا وہ اقلیت ہیں جنہیں اس وقت سب سے زیادہ نسلی تشدد کا سامنا ہے۔ 2012ء میں مذہبی بنیادوں پر تشدد کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد تقریباً ساڑھے چھ لاکھ مسلمان راکھین چھوڑ چکے ہیں جبکہ کشتیاں ڈوبنے سے کئی مسلمان جاں بحق بھی ہوئے۔ ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحدوں کے قریب بھی روہنگیا مسلمانوں کی متعدد اجتماعی قبریں ملی ہیں۔

2015ء میں جب میانمار کی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کی آڑ میں بالخصوص مسلمانوں کی بستیوں کو نشانہ بنایا تو سینکڑوں روہنگیا کشتیوں میں نقل مکانی کرنے لگے اور کئی دنوں تک سمندر میں پھنسے رہیں۔ اس مسئلے کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی مجبوری کا فائدہ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی جمع پونجی انہیں سونپ کر کسی محفوظ مقام تک لے جانے کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے مجبور ہیں۔ میانمار سے متصل بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں تقریباً تین لاکھ روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔ اس معاملے میں خود بنگلہ دیشی حکومت کا کردار بھی کم ظالمانہ نہیں کیونکہ اس نے بہت کم باشندوں کو اپنے یہاں پناہ گزین کے طور پر قبول کیا۔ سمندر کے راستے کشتیوں سے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو اکثر بنگلہ دیشی فوجیں زبردستی میانمار واپس بھیج دیتی ہیں جہاں موت ان کی منتظر ہوتی ہے۔ ان بیچاروں پر ملک خدا تنگ نیست پائے گدا لنگ نیست یعنی خدا کی زمین تنگ ہے اور نہ فقیر کے پاؤں میں لنگ ہے، تک صادق نہیں آتا۔

بنگلہ دیش کے علاوہ روہنگیا لوگ بھارت، تھائی لینڈ اور ملائیشیا جیسے ممالک کا بھی رخ کر رہے ہیں کیونکہ یہ سبھی ممالک میانمار سے قریب ہیں۔ انسانی حقوق کے متعدد گروپ میانمار حکومت سے درخواست کر چکے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ملکی شہریت بھی دی جائے۔

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی میانمار کی خاتون حکمران آنگ سان سوچی نے روہنگیا معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور جب ایک صحافی نے ان سے اس معاملے پر سوال کیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ سیاسی بیان دینا ان کا کام نہیں لہٰذا وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گی۔ اس طرز عمل پر آنگ سان سوچی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ وہ روہنگیا معاملے میں یا تو شدت پسند بدھ طبقے سے اتفاق رکھتی ہیں یا پھر اپنی جان کے خوف سے کچھ نہیں بولنا چاہتیں۔

حسب روایت اسلامی ممالک کی تنظیم اس بحران پر خاموشی تماشائی بنی رہی۔ روہنگيا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا غیر انسانی سلوک روکنے کے لیے بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کردار قابل تحسین ہے۔ انہی کی کوششوں سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ روہنگیا پر زمین تنگ ہونے کی وجہ ان کا مذہب ہے اس لیے بھاری ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی مدد کے لیے زبانی جمع خرچ اور بے فائدہ مظاہروں اور نعرے بازی سے آگے بڑھ کر کچھ کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com