غیر مُسلموں کے تہواروں میں شامل ہونا - عادل سہیل ظفر

ہم پیدائشی، خاندانی مُسلمانوں کی مُسلمانی میں اِیمان کو قتل کرنے والے امراض کی کثرت ہوتی جا رہی ہے، اِن اِیمان کے قاتل امراض میں سے ایک مرض غیر مُسلموں کے لیے قلبی لگاؤ بھی ہے ایسا قلبی لگاؤ جو بسا اوقات مُحبت کی صُورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور جب یہ مرض شدت اختیار کر جاتا ہے تو ہم اپنوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور کافروں سے مُحبت کا اقرار۔

جی ہاں مُحبت، اُس مُحبت کے اقرار و اظہار کے انداز و اطوار میں سے ایک انداز اُن کافروں کے تہواروں میں شمولیت بھی ہے، خواہ وہ تہوار خالصتاً دینی ہوں، کفریہ عقائد پر مبنی ہوں، یا محض اُن کافروں کی عادات میں سے ہوں۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں رہی کہ کافروں کے تہوار میں شمولیت کے بارے میں ہمارے دِین میں ہمارے لیے کیا حُکم ہے؟ ہم اُن تہواروں میں شامل ہوتے ہیں، اور کچھ نہ ہو تو اُنہیں نیک تمنائیں اور مُبارک کی دعائیں تو دے ہی دیتے ہیں۔ ہمیں صِرف یہ شوق حُدود جنون میں داخل کر چکا ہے کہ کِسی طور ہم پر "تنگ نظر، یا، قدامت پرست، یا، بنیاد پرست، یا، دقیانوسی "، یا ماضی قریب میں اِنہی کافروں کی طرف سے ہماری مُحبتوں کے جواب میں دیے گئے نئے لقب "دہشت گرد " وغیرہ میں سے کوئی لقب نہ دے دیا جائے۔

ہم تو فقط اپنے اندر موجود کُفار کی مُحبت اور اُن سے مرعوبیت اور کہیں اُن کے خوف کی وجہ سے اُنہیں خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، خواہ اُس میں دُنیا کی ذِلت بھی ملتی رہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی رہے۔ جی ہاں! ایسا ہی ہے کیونکہ لوگوں کے أعمال اُن کے عقائد اور نیتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں حتیٰ کے وہ أعمال بھی جو لاشعوری طور پر سر زد ہو جاتے ہیں اُن کے پیچھے بھی اِنسان کا کوئی نہ کوئی اِرداہ کارفرما ہوتا ہے جو اُس کے لا شعور میں مُقیم ہونے کی وجہ سے اُس کے ادراک سے باہر ہوتا ہے، پس أعمال کو دیکھ کر ہی عاملین کے عقائد اور نیتوں کا اندازہ کیا جاتا ہے ۔

اِس مخلوط و حیراں کیفیت کے بارے میں اِس سے زیادہ اور کیا کہوں کہ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"!

کافروں کے تہواروں اور اُ ن کی عادات میں شمولیت اور اُن کی عادات کی نقالی کے بارے میں اِسلامی احکام کا ذِکر کرنے سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو قران کریم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی آخری، حتمی، مکمل اور غیر محرف کتاب نہیں مانتا وہ کافر ہے اور ہر وہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جو کہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے بیٹے تھے کو اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا آخری رسول نہیں مانتا وہ کافر ہے، خواہ وہ اللہ پر اِیمان رکھتا ہو اور بظاہر اُس کے پاس موجود کتابوں یا باتوں کے مُطابق اللہ کا عبادت گزار اور تابع فرمان نظر آتا ہو، وہ مُسلمانوں کی صفوف میں شُمار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ کافر ہی مانا جائے گا۔

اِس وضاحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، کافروں کی پہچان نظر میں رکھتے ہوئے، پہلے بیان کردہ باتوں کی روشنی میں ہمیں یہ جان رکھنا چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں مُعاشرے میں الگ تھلگ رہنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ مُعاشرےمیں ہمارا اور کافروں کا وہ مُقام برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ نےمقرر کر رکھا ہے،ہمارے اور اُن کے درمیان وہ فرق برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مقرر کر رکھے ہیں۔

بحیثت اِنسان کافروں کی جان مال اور عِزت پر ہاتھ نہ ڈالنا اور ُان کے ساتھ ظُلم و زیادتی نہ کرنا اِسلامی تعلیمات میں سے ہے۔ کافروں کے ساتھ مُعاشرتی زندگی میں نرمی اور اچھائی والا رویہ رکھنا اِسلامی تعلیمات میں سے ہے، اپنے اردگرد پائے جانے والے کُفار کے ساتھ بات چیت کرنا اور اِسلامی حدود میں رہتے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا بحثیت اِنسان اُن کے حقوق میں سے ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ اچھے اِسلامی اخلاق کے ساتھ پیش آنا ہی چاہیے اور ساتھ ساتھ انہیں اِسلام کی دعوت بھی دیتے رہنا چاہیے۔ دُکھ درد اور غم و تکلیف کے وقت اُن کی داد رسی کرنا بھی اِسلامی تعلیمات میں سے ہے لیکن اِن سب اعمال کی حُدود و شرائط ہیں، مُعاشرتی زندگی میں کافروں کی خوشیوں اور تہواروں میں شمولیت ایک الگ معاملہ ہے۔

کافروں کے لیے قلبی میلان رکھنے، اُن کی عادات کو اپنانے، اُن کی نقالی کرنے، اُن کے تہواروں پر اُنہیں برکت کی دُعا دینے، یعنی مبارکباد دینے، اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے، اور اُن کے تہواروں میں شامل ہونے جیسی اپنی اِن بدعملیوں سے بڑھ کر بد عملی یہ ہے کہ ہم اپنی اِن بد عملیوں، خامیوں اور اپنے دِین کی دُرُست تعلیمات سے اپنی دُوری کو ختم کرنے کے بجائے اپنے دِلوں اور دِماغوں پر مُسلط خلاف اِسلام خیالات کو دُرست بنانے کے لیے، اور اِن خیالات کے مُطابق کیے جانے والے اپنے اعمال کو دُرست ثابت کرنے کے لیے دِین کوبھی بدلنے کی کوشش کر ڈالتے ہیں۔

یہ طے شدہ امر ہے کہ کافروں کے لیے دوستی، قلبی میلان اور اُن کے کفر پر رضا مندی والا معاملہ رکھنا، یہ سب عمل اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی ہیں، اور انہیں غُصہ دِلانے والے ہیں

وَ لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ اور تُم لوگ اُن لوگوں کی طرف مائل مت ہو جنہوں نے (اللہ کا دِین اور حق قبول نہ کر کے اپنی جانوں پر) ظُلم کیا (اگر ایسا کرو گے) تو تُم لوگوں کو جہنم پکڑ لے گی اور تُم لوگوں کے اللہ کے علاوہ کوئی سرپرست اور والی نہ ہو گا اور پھر تم لوگوں کی کوئی مدد نہ کی جائے گی (سُورت ھُود/آیت113)

اِس مذکورہ بالا آیات مُبارکہ میں کِسی اہل کتاب یا کِسی خاص نسل و قِسم کے کافروں کا ذِکر نہیں، بلکہ ہر قسم کے کافروں اور حتیٰ کہ کلمہ گو مُنافقوں، فاسقوں اور فاجروں کے ساتھ تعلق داری کا ایک ہی حکم بیان ہوا ہے۔ لہذا کِسی کو یہ غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ یہ آیات یا اِن میں دِیا گیا حُکم صرف یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں ہے۔

دوستی جو کہ قلبی لگاؤ کے ایک انداز کا نام ہے، جِس میں دوست کے دُکھ پر غم ہوتا ہو اور اُس کی خوشی پر خوشی محسوس ہوتی ہو، قطع نظر اِس کے کہ اُس کے غم یا خوشی کا سبب کفر ہی کیوں نہ ہو، اُس کی غمی اور خوشی میں شامل ہونا، کِسی بھی انداز میں شرکت کرنا اُس قلبی لگاؤ کا ثبوت ہوتا ہے، اورکِسی مُسلمان کی طرف سے کِسی کافر کے لیے ایسے قلبی لگاؤ کو روا رکھنے کی اِسلام میں اجازت نہیں۔

اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ کا فرمان مُبارک ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ اے اِیمان لانے والو، تُم لوگ نصاریٰ (عیسائیوں) اور یہودیوں کو دوست مت بناؤ، وہ لوگ ایک دوسرے کے ہی دوست ہیں، اور تُم لوگوں میں سے جِس نے اُن(کافروں)کے ساتھ دوستی کی تو وہ(میرے ہاں )اُن ہی میں سے ہے(سُورت المائدہ/آیت51)

رہا کِسی کافر، مُشرک، یا بدکار کو کِسی تکلیف سے نجات پانے میں مدد کرنے کا معاملہ، تو یہ اگر یہ محض اِنسانی حقوق کی ادائیگی کے لیے ہو، اور اِسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہو تو اسے دوستی نہیں سمجھا جا سکتا، اور نہ ہی کسی اور طور قلبی میلان۔

یاد رکھیے، کہ، کِسی کام کے لیے اللہ جلّ و عُلا یا اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اجازت نہ ہونا کچھ معمولی بات نہیں کہ وہ کام کر لیا جائے تو کوئی حرج نہ ہوگا، یا کچھ ہلکا پھلکا سا نقصان ہو گا، بلکہ اُس کام کو کرنا آخرت کی مکمل تباہی کے اسباب میں سے ہے اور کافروں سے قلبی لگاؤ رکھنا بھی ایک ایسا ہی کام ہے۔

اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اِس معاملے میں واضح احکامات دیے ہیں، اُن میں سے ایک حُکم تو ایک عام قاعدے قانون کی صُورت میں ہے جس میں کافروں کی ہر قسم کی نقالی کی ممانعت ہے،کیونکہ کِسی کی نقالی اُسکے لیے قلبی لگاؤ،اُس سے مُحبت اور اُس سے متاثر ہونے کا مُنہ بولتا ثبوت ہے، کوئی صحیح عقل و سمجھ والا اِنسان کبھی کِسی ایسے شخص کی عادات، انداز و اطوار نہیں اپناتا، اُن کی نقالی نہیں کرتا جِس شخص کو وہ اچھا نہ سمجھتا ہو۔

عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ جِس نے جِس قوم کی نقالی کی وہ اُسی قوم میں سے ہے (سُنن ابو داؤد /حدیث4033/کتاب اللباس/باب5،اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے فرمایا "حسنٌ صحیح)

جریر بن عبداللہ البُجلی رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہاتھ مُبارک پر بیعت کی تو انہوں نے فرمایاأُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسلمينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ میں ان باتوں پرتمہاری بیعت لیتا ہوں کہ تُم اللہ کی عبادت کرو گے اور نماز ادا کرو گے اور مُسلمانوں کو نصیحت کرو گے اور مُشرکوں سے الگ رہو گے(سُنن النسائی/حدیث4194/کتاب البیعۃ/باب17،السلسلہ الاحادیث الصحیحہ/ حدیث636)

اِس حدیث شریف میں مُشرکوں سے الگ رہنے کا مطلب مُعاشرتی علیحدگی نہیں کیونکہ ایسا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دور مُبارک کے مُسلم مُعاشرے میں بھی نہ تھا، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مُشرکوں کی عادات اور نقالی سے الگ رہو گے، اور اگر کوئی معاملہ اُن کے ہاں دِینی نوعیت کا ہو تو پھر تو اُس میں کِسی بھی طور شمولیت بدرجہ اَولیٰ ممنوع ہے۔

عبداللہ ابن عَمرو رضی اللہ عنھما کا کہنا ہے کہ مَنْ بَنَى بِبِلاَدِ الأَعَاجِمِ وَصَنَعَ نَيْرُوزَهُمْ وَمِهْرَجَانَهُمْ وَتَشَبَّهَ بِهِمْ حَتَّى يَمُوتَ وَهُوَ كَذَلِكَ حُشِرَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جو کوئی کافروں کے شہروں میں آباد ہوا اور ان کے تہوار منائے اور ان کی نقالی کی یہاں تک وہ اسی حالت میں مر گیا تو قیامت والے دن اس کا حشر انہی کافروں کے ساتھ ہو گا (سنن البیہقی، حدیث صحیح ہے)

دوسری حدیث، ہمارے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے لا تَعلَّمُوا رَطانةَ الأَعاجِم، ولا تَدخُلُوا علىَ المُشرِكِين في كَنَائسِهِم يَومَ عِيدهُم، فإنَّ السَخطةَ تَنزِلُ عَلِيهِم نہ تو کافروں کا خاص لہجہ سیکھو، اور نہ ہی مُشرکوں کے تہواروں والے دِن اُن کی عبادت گاہوں میں داخل ہو کیونکہ ایسے میں اُن پر اللہ کا غصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے(سنن البیھقی میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے)
ا
للہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان شریف ہے وَالَّذِينَ لا يَشْهَدُونَ الزُّ ورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً اور وہ جو بے کار کاموں کی طرف نہیں دیکھتے اور اگر فضول کاموں والی جگہوں سے گذر ہو تو عزت کے ساتھ گذر جاتے ہیں (سُورت الفُرقان/آیت72، اِس فرمان مُبارک کی تفیسر اگر آپ تفیسر ابن کثیر میں ہی دیکھ لیجیے تو آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی طرف سے " الزُّ ور " کی تفیسر " کافروں کے تہوار " بھی ملے گی۔)

پس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مذکورہ بالا فرامین کی روشنی میں ، کافروں سے دوستی، اُن کے تہواروں میں کِسی قسم کی شمولیت ناجائز کام ہیں۔ یہ معاملہ بھی بہت اچھی طرح سے ذہن و قلب میں جما رکھنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتے وقت، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث مُبارکہ صادر فرماتے وقت یقیناً خوب جانتا تھا کہ قیامت تک میرے مُسلمانوں نے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس کے ساتھ رہنا ہے، پس ہمیں اپنے زندگی کے معاملات اور خاص طور پر عقیدے سے متعلق معاملات مختلف علاقوں کے حالات و عادات اور مختلف لوگوں کی سوچ و فِکر کے مُطابق نہیں سمجھنے، کہ جی وہ اُس وقت کی باتیں تھی، اب حالات مختلف ہیں، ضروریات مختلف ہیں، مجبوریاں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

لہذا یہ بات بھی خُوب یاد رکھنے کی ہے کہ شریعت کے احکام مختلف علاقوں کی عادات اور مختلف لوگوں کی مُعاشرتی دلچپیوں یا لگاؤ، یا مجبوریوں سے أخذ نہیں کیے جا سکتے، بلکہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات سے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے اخذ کیے جاتے ہیں، اور وہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مُطابق نہ کہ ہر کس و ناکس اپنی اپنی سوچ و فِکر کی بنا پر ایسا کرنے کا اہل ہے۔

اِس موضوع پر اور بھی کافی بات کی جاسکتی ہے لیکن اُمید کرتا ہوں کہ اِن شاء اللہ اتنی ہی کافی رہے گی اور میرے کلمہ گو بھائی بہنوں کو یہ سمجھنے میں قعطاً کوئی مشکل نہ رہے گی کہ کافروں کے کِسی تہوار میں کِسی بھی انداز میں شمولیت جائز نہیں، خواہ وہ "خیر سگالی " کے لیے صرف ایک دو الفاظ کا کوئی پیغام ہی ہو، لہذا نہ تو میری کرسمس، ہولی کرسمس، ہیپی کرسمس کی طرف مائل ہوں، اور نہ ہی کسی ہیپی نیو ائیر، دیوالی مبارک، ہولی کی شبھ کامناؤں کا گناہ کمائیے۔

وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، … وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.