طالب علم یا کلائنٹ؟ - صبور فاطمہ

پاکستان کے ایک مشہور و نامور اسکول میں پڑھانے کا تجربہ ہوا۔ اسکول جاب کے عرصے میں ہی اعلیٰ و مقدس رتبہ کے حامل ایک محترم صاحب نے، جو اساتذہ کے انٹرویو کے بعد ان کو مستقل (permanent) کرنے کا حق رکھتے ہیں، اسٹاف روم میں آکرتمام تر اساتذہ سے طالب علموں سے متعلق کچھ ایسے الفاظ کہے جو سماعت کو ناگوارگزرے،وہ الفاظ یہ تھے’’یہ جو بچے ہمارے اسکول میں پڑھنے آتے ہیں یہ ہمارے کلائنٹس ہیں اگر ہمارے کلائنٹس ہم سے خوش ہیں تو ہم آپ سے خوش ہیں، وگرنہ ہم آپ سے مطمئن نہیں ـ۔‘‘

کافی دیر تک ان کے الفاظ پر غور کیا، کیونکہ بچپن سے ہی اپنے بڑوں سے یہی سنتے آئے ہیں کہ طالب علم سے مراد وہ فرد ہے جس کے اندر حصول علم کی ایسی طلب، شوق و ذوق ہوکہ اس کے حصول کے لیے کسی نوعیت کا تکلف نہ برتے اور اپنی تمام تر زندگی حصول علم کے لیے وقف کرتے ہوئے حقیقت کا متلاشی رہے۔اس مسئلے میں شاگرد کی مدد استاد کرتا ہے،اس سے مراد ایسی شخصیت ہے جو کم علم اور مقصد حیات سے بھٹکے فرد کے لیے پیکرِعلم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو معاشرہ کی اونچ نیچ،مختلف رویوں سے آگاہ کرتے ہوئے بہترین انداز سے علم کی صلاحیتوں کو مناسب مواقع پر استعمال کرنے کے گر سکھائے۔اسکول سے مراد ہر سطح کے تعلیمی ادارے مراد لیے جاتے ہیں جہاں طلباء کو عالِم(علم والا)بناکر معاشرہ کو ایسے ہنر مند، باصلاحیت افراد مہیاکیے جاتے ہیں جن کی جملہ پہلوؤں سے، تربیت،شخصیت،کردار،اخلاق مکمل ہو، کوئی جھول نہ ہو۔

طالبعلم ایسا شخص جو کسی اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل کرے جبکہ لغت کی تعریفات کے مطابق کلائنٹ سے مراد وہ شخص ہے جو پیشہ ورانہ (professional) معاملات میں وکیل کی خدمات اور مشاورت کے سلسلہ میں اس کے رابطے میں رہے یا پھرمالی معاملات کی لین دین کے سلسلہ کے بعد ایک کا دوسرے پر سہولیات کی فراہمی کے لیے انحصار کرنا ہے،اور جب پیسہ کے عوض دی جانے والی سہولت کی مدت ختم ہوجائے تو دوبارہ سے پیسوں کا تقاضا کرنا تاکہ سہولیات کا سلسلہ جاری رکھا جاسکے۔

جدید لغات کے تناظر میں جب عصرِ حاضر کے نجی تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا تو ان صاحب کے کہے گئے الفا ظ حرف بحرف درست ثابت ہوئے کیونکہ تمام تر نجی تعلیمی ا داروں میں طلباء کو ایسے کلائنٹس کی حیثیت حاصل ہے جن کو اپنے اداروں میں مرکزیت حاصل ہے جسے اکیسویں صدی میںStudent-Centered Learningکے نام سے مخاطب کیاجاتا ہے۔جس میں استاد کی حیثیت اسکول مالکان اور طلباء کے ملازم کی سی ہے جن کو وہ کسی فیکٹری میں کام کرنے والے ادنیٰ ملازم کی طرح سمجھتے ہیں اور کپڑوں کی طرح نچوڑ کر ہی مطمئن ہوتے ہیں۔

نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی اسکول مالکان اور کلائنٹس(طلباء) کے لیے خدمت سوشلزم پر قائم نظریات کو تقویت دیتی ہے۔یہ خطرناک، سنگین صورتحال مستقبل کو انتہائی تباہ حالی کی طرف لے جانے والی ہے جس کے نتیجے میں بگڑی نسلیں پیدا ہوں گی۔صنعتی انقلا ب اورglobalization کے بعدسے پوری دنیاکے افکار، تہذیب، نظریات، متاثر ہوئے ہیں تو مقاصدِ تعلیم بھی تفکر،حقیقت کی جستجووتلاش،حقیقی مقصدِحیات سے تبدیل کر مادّیت پرستی،پیسہ سے پیسہ بنانے کے رجحان میں تبدیل ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں اخلاقیات کی جگہ پروفیشنلزم اور کردار سازی کی جگہ کیریئرازم نے لی ہے۔کسی بڑے شاپنگ سینٹر میں کچھ مخصوص برانڈزپراس کمپنی کے ملازم 12-9کی جاب میں گاہکوں کی خدمت اور رہنمائی کے لیے مسلسل کھڑے رہتے ہیں اور ان مالز میں کیمرہ بھی نصب ہوتا ہے تاکہ تمام کی کارکردگی سے ہر لمحہ باخبر رہا جائے۔بالکل یہی حال نامور نجی تعلیمی اداروں کا ہے جہاں استاد کے بیٹھنے کے لیے کوئی کرسی نہیں ہے اور تقرر سے پہلے انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ:Teachers are not allowed to sit in the class and are supposed to deliver lecture in standing position خدانخواستہ اگرکلاس میں ٹیچر کسی ایڈمن کے فرد کو بیٹھی نظر آگئی تو اس ٹیچر کیprofile میں منفی تبصرہ لکھاجاتاہے کہ وہ اپنے تدریسی اوقات میں بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔ اسی لیے جماعتوں میں کیمرے بھی نصب کیے جاتے ہیں۔ اسکول میں وقتاً فوقتاً ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی انہی طلباء کو آگے بڑھایاجاتاہے جن کے پاس ماہانہ فیس(جو ہزاروں میں ہوتی ہے)کی ادائیگی کے بعدبھی اتنے اضافی ہوں کہ وہ پروگراموں پر خرچ ہونے والی رقم (کپڑےcostume،تعلیم سے متعلق دوسرے سامان کا خرچہ )برداشت کرسکتے ہوں اور وہ طلباء جن کی حالت اس کے برعکس ہو تو وہ حسرت اپنے دل میں ہی لیے رہ جاتے ہیں ان کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ کسی بینک کے اس کلائنٹ کہ جیسا رویہ(سہولیات کی فراہمی کے معاملے میں) رکھاجاتا ہے جس کے اکاؤنٹ میں کم پیسے ہوں۔

بہرحال یہ ایک حد درجہ سنگین صورتحال ہے کہ جب تعلیم سے متعلق الفاظ کی تعریفات و مفاہیم کو تبدیل کردیاجائے تو ایسی تعلیم صرف خود غرض،غیر اخلاقی،لالچی افراد ہی معاشرہ کو مہیاکرے گا جو صرف پیسہ کمانے کی مشین ہوں گے کیونکہ تعلیم کے تصوّر سے اگر روحانیت کے عناصر اور مفاہیم کو نکال دیا جائے تو مادیت باقی رہ جاتی ہے۔ عصرِ حاضر کے طلباء اس بات سے ہی نابلد ہیں کہ استاد ہمارے روحانی والدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔استاد اور طالبِ علم کے رشتے کو مادیت (کلائنٹ، کسٹمر)کے تناظر میں کبھی نہیں تولا جاسکتا کیونکہ اس کے نتیجے میں اخلاص کی جگہ دولت لے لی گی اور یہ روحانی رشتہ تو وقت کے ساتھ تربیت کی بنیاد پر مختلف رویوں کا مظہر ہے۔ اسکول کے عرصے میں استاد طالبِ علم کا رشتہ والدین اور اولاد کی حیثیت رکھتا ہے۔کالج میں بڑے بہن بھائی کا چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ رکھے جانے والے رویّہ اور رشتہ کی صورت کو ظاہر کرتا ہے اوریونیورسٹی میں یہ رشتہ دوستانہ رویّہ اختیار کرلیتا ہے،لیکن بنیاد علم اور اصلاح ہوتی ہے اور یہی مناسب بھی ہے کیونکہ اب طلباء دلیری سے استاد کے منہ پر کہتے ہیں ہم تو فیس دے رہے ہیں،آپ نے ہمیں مارا کیسے؟ مارنا تو اسکول میںallow ہی نہیں ہے۔ جب یہ رحجان جڑ پکڑلے تو پھراستاد میں ایسے ہی نقائص نکالنا شروع کردیے جاتے ہیں جیسے کلائنٹ کسی چیز کی خریداری میں نکالتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ نجی اسکول اپنی پالیسیز میں تبدیلیاں کرتے ہوئے اساتذہ کے لیے اپنے رویوں میں لچک رکھیں، تاکہ طلباء بھی استاد کی قدر کرنا سیکھیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */