اسلامی تاریخ کے چند المناک ورق (آخری حصہ) - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی پوری کوشش تھی کہ آخری خلیفہ کو ارضِ حرمین میں پناہ مل جائے یا پھر ہندوستان آجائیں۔ ارض حرمین مرکز اسلام ہے۔ یہاں ان کے آجانے سے شمع توحید وخلافت کے پروانے پھر ان کے گرد جمع ہو جاتے اور کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کی اجتماعی نمایندگی کی واحد ریاستی شکل یعنی"خلافت" کسی نہ کسی شکل میں قائم رہتی۔ ہندوستان آجاتے تو یہاں علمائے دیوبند کی شکل میں حریت و جہاد کے بے لوث علمبردار موجود تھے۔ ایسی زور دار تحریک چلتی کہ انگریز کو مقبوضہ ممالک پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا۔ اسرار عالم اپنی معرکة الاراء کتاب"دجال"جلد سوم میں لکھتے ہیں: سقوط خلافت 1923ء سے لے کر 1990ء تک اس امت مرحومہ پر پانچ عظیم قیامتیں ٹوٹیں : 1923ء میں ترکی میں جمہوریت قائم کرنے، خلافت عثمانیہ کے بقیہ تمام علاقوں پر قبضہ کر لینے اور ان پر لیگ آف نیشنز کے انتداب کا اعلان کر دینے اور پھر ترکی میں قائم کی جانے والی اس جمہوریت کے ذریعے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کروانے اور خلیفہ کو ملک بدر کر دینے کے بعد پوری دنیا میں خلیفہ کے لیے زمین تنگ کر دینا، وہ پہلی قیامت تھی جو بیسویں صدی میں امت پر ٹوٹی۔ اس کی تین صورتیں سامنے آئیں۔

(1) یہودیوں نے برطانیہ اور فرانس کے توسط سے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ کوئی آزاد یا نیم آزاد مسلم ملک اور وہاں کا سربراہ خلیفہ کو اپنے یہاں پناہ دے، نہ اپنے یہاں خلافت کے نظم کو قائم کرنے دے۔ چنانچہ دنیا کے تمام مسلم ملکوں اور ان کے حکمرانوں نے ایسا ہی کیا اور کسی نے خلیفہ کو پناہ دی، نہ انہیں اپنے یہاں آنے اور خلافت کے نظام کو زندہ رکھنے کی اجازت۔

(2) خلیفہ نے اس بات کی کوشش کی کہ اگر کوئی مسلم ملک اسے اپنے یہاں پناہ دیتا ہے اور نہ اپنے یہاں نظم خلافت قائم رکھنے کی اجازت تو کم از کم یہ صورت پیدا ہوجائے کہ وہ حرمین شریفین، یعنی مکة المکرمہ اور مدینة المنورہ میں پناہ گزیں ہو جائیں۔ لیکن پہلے شریف مکہ نے اور پھر بعد میں عبدالعزیز بن آل سعود نے انہیں ایسا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ ظاہر ہے خلیفہ کو اس کی اجازت دینا اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی جو قوم پرست حکمرانوں نے خلافت عثمانیہ کی تباہی کے لیے برطانیہ اور فرانس سے کر رکھے تھے۔ چونکہ کسی صورت کے باقی نہ رہ جانے کی حالت میں خلیفہ کے لیے اس نظم کو قائم رکھنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔ لہٰذا خلافت ختم ہوگئی۔

(3) خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد امت مسلمہ نے جب اس بات کی کوشش کی کہ اگر وہ خلافت بچائی نہ جاسکی تو کم از کم کوئی دوسری خلافت قائم ہو جائے۔ لیکن یہودیوں اور عالمی فری میسن تحریک نے کم از کم تین قطب قائم کر کے ایک ایسی کشش پیدا کر دی جس میں دو فریق یعنی سابق شریف مکہ(اردن کے موجودہ شاہی خاندان کے جدامجد) اور آغا خان مثبت کردار ادا کر رہے تھے، یعنی یہ کہ خلافت قائم ہو اور وہ خلیفہ بن جائیں اور عبدالعزیز آل سعود منفی نما، یعنی خلافت سرے سے قائم ہی نہ ہو اس لیے کہ ان کے مطابق اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ خلافت کی باز یافت کی کوشش ناکام ہوگئی۔ (اسرار عالم، دجال: 3 ص 88)

برادری کے پروردہ سیکولر جمہوری ترک حکمرانوں نے انہیں کسی بھی مسلم ملک کی طرف ہجرت نہ کرنے دی۔ انہیں بالجبر وسطی یورپ کے ملک سوئٹزرلینڈ روانہ کر دیا گیا تاکہ کسی بھی مسلمان معاشرے یا تحریک سے ان کا رابطہ نہ ہوسکے۔ 4 مارچ 1924ء کی صبح جب ترکی کے مسلمان بیدار ہوئے تو انہیں علم ہوا کہ قیامت بیت چکی ہے۔ آخری عثمانی خلیفہ کو بھی جدت پسندی کے حصول اور قدامت پرستی سے فرار کے قریب آمیز نعرے کے تحت ترکی سے جلاوطن کیا جاچکا ہے۔ خلافت کا ادارہ ختم ہوگیا ہے۔ ان کے سر سے سائبان چھن گیا ہے۔ بدلے میں کیا ملا؟ آزادی! کس سے آزادی؟ وہ تو بدترین جانبدارانہ نظام کے غلام ہوچکے تھے۔ ترقی! وہ تو ان سے کوسوں دور تھی۔ طیب اردگان تک وہ ترقی خواب ہی رہی جو حریت کے نام پر اسے جھانسہ دیا گیا تھا۔ ترکی کی معیشت بدترین حد تک گر گئی۔ ترقی یافتہ یورپ کے پڑوس میں ہوتے ہوئے وہ افریقہ کے کسی قحط زدہ ملک کی طرح بدعنوانی، شہری سہولتوں کے فقدان، جرائم کی بھر مار اور اندھیرے مستقبل کا معمار قرار دیا جاتا تھا۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے اپنے پیچھے فری میسن کی شیطنیت کے علاوہ کچھ نہ چھوڑ کر گئے تھے۔ عثمانی خاندان کے ساتویں اور سلسلہ خلافت کے آخری حکمران خلیفہ عبدالمجید آفندی نے بہادر شاہ ظفر کی طرح چپ چاپ جلاوطنی قبول کر کے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔ انہیں اندروں خانہ موجود ایجنٹوں کے ذریعے خوفناک طریقے سے سہما دیا تھا۔ ان کے آخری ایام فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گزرے۔

دوسری جنگ عظیم 1939 - 45ء کے دوران 23 اگست 1944ء کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ فری میسن کے لیے یہ دوسری بڑی خوش خبری تھی۔ خلافت کے بعد اب خلیفہ بھی اس دنیا میں نہ رہے تھے۔ انہوں نے اس لفظ کے اتنے غلط استعمالات دنیا میں اور لغت کی کتابوں میں پھیلائے کہ اس لفظ کے استعمال سے لوگ شرمانے لگے ۔ اس لفظ کو اس کا حقیقی وقار اور اس منصب کو اس کا حقیقی افتخار لوٹانا آج کے مسلمان کا فرض ہے۔

آخری عثمانی سلطان کی طرح آخری عثمانی خلیفہ کو بھی غیر متعصب جمہوری حکمرانوں نے وطن میں دفن کے لیے چند گز زمین دینے سے انکار کر دیا۔ بالاخر انہیں مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ اب پہلے خلیفہ اسلام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آخری خلیفہ چند قدموں کے فاصلے پر مدفون ہیں۔ دنیا والوں کو کون یہ باتیں سنائیں اور یاد دلائے کہ ہمارا نظام حکومت"خلافت" ہے، جمہوریت نہیں۔

خلافت کے خاتمے کے بعد اس خاندان کے آخری فرد کا انتقال 27 ستمبر 2007ء کے دن ہوا۔ ان کا نام ارطغرل عثمان تھا اور یہ آخری خلیفہ عبدالمجید آفندی کے پوتے تھے۔ عثمانی شاہی خاندان نے دو رشتے باہر کیے تھے۔ دونوں کی آخری نسل کی آج کچھ خبر نہیں۔ کسی کو علم ہو تو راقم کو اطلاع دے۔ آخری خلیفہ کی ایک صاحبزادی شہزادی درشہوار کی شادی ریاست حیدآباد دکن کے ساتویں اور نظام میر عثمان علی خان کے سب سے بڑے صاحبزادے شہزادہ نواب اعظم خان سے ہوئی تھی۔ دوسرے انہی خلیفہ کے پوتے ارطغرل عثمان کا نکاح افغانستان کے آخری شاہ امان اللہ خان کی قریبی رشتہ دار شہزادی زینب ترزئی سے ہوا تھا۔ ارطغرل عثمان 1912ء میں پیدا ہوئے، 1924ء میں وہ آسٹریا میں زیر تعلیم تھے۔ ( یہاں وہی غلطی دہرائی جارہی تھی کہ عثمانی خاندان کے افراد یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پاتے تھے جہاں وہ فری میسن کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں) انہیں اطلاع ملی کہ اتاترک نے ان کے خاندان کے تمام افراد کو جلاوطن کر دیا ہے۔ انہوں نے تعلیم پانے کے بعد اپنی زندگی کا بیشتر حصہ(تقریباً 60 برس) نیویارک میں ایک ریستوران کے اوپر واقع چھوٹے سے فلیٹ میں شہزادی زینب کے ساتھ گزار دیا۔ وہ تو خیر گزری کہ ستمبر 2009ء میں بعمر 97 سال ان کے انتقال کے وقت ترکی میں کسی سیکولر بچہ جمہورے کی نہیں، طیب اردگان جیسے شخص کی حکومت تھی جس کے دل میں ایمان کی چنگاری بہرحال روشن ہے۔ اس نے ان کے جسد خاکی کو نہ صرف وطن واپس لانے کی اجازت دی، بلکہ ہزاروں مسلمانوں کی نمازہ جنازہ کے بعد انہیں ان کے دادا سلطان عبدالمجید کے خاندانی قبرستان میں دفن کی اجازت بھی دی۔ رہے نام اللہ کا! اللہ باقی، سب فانی۔

یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ہمیں یہود ونصاریٰ سے دوستانہ تعلقات سے منع کیا گیا تھا۔ ہم نے ان کو اپنا اور اپنے بچوں کا مربّی بنا لیا۔ مشنریز کو اسکول بنانے این جی اوز کو نام نہاد فلاحی ادارے چلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ ہمارے ذہین طلبہ کو اسکالرشپ پر بیرون ملک لے جانے پر شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے۔ تعلیم کے راستے یورپی تہذیب تیزی سے سرایت کرتی جاتی ہے۔ نوجوان ترک جیسی نئی نسل تیار ہوتی جاتی ہے۔ دلفریب ناموں نے مرکز خلافت کا خاتمہ کر چھوڑا۔ مغربی تعلیم، مغربی تہذیب کو اور مغربی تہذیب مغرب کے پروردہ حکمرانوں کو جنم دے رہی ہے۔ ترقی اور آزادی کے نام پر بدترین پسماندگی اور غلامی کا جال بنا جا رہا ہے۔ فری میسنز نے انتظار کیا مسلسل انتظار، خاموشی اور تحمل سے۔ ان کے پاس بہت وقت تھا۔ انہوں نے صدیوں تک برداشت کیا، بالاخر انہوں نے مسلمان خلافت کا سقوط کیسے ایک عورت کے ذریعے وہ کام کر دکھایا جو لاکھوں سپاہی اور ان گنت صلیبی جنگیں نہ کرسکیں۔ اس داستان سے ہمیں کیا پتا چلا؟

☆......سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہوا دشمن کا پہلا وار عورت کی جانب سے ہوتا ہے۔ زن، زر اور زمین میں سے سب سے خطرناک شیطانی ہتھیار"زن" ہے پاکستان سمیت عالم اسلام کے بہت سے سابقہ حکمرانوں کی بیویاں یا سیکریٹریاں غیر ملکی تھیں اور اتفاقیہ طور پر ان کی زندگی میں داخل ہوئی تھیں۔ انور سادات کی بیوی جہاں سادات، یاسر عرفات کی بیوی سوہا عرفات، اردن کے پورے شاہی خاندان کی بیویوں کی طرح بشارالاسد کی بیوی اسما اسد،سب کی سب امریکی یہودی یا برطانوی عیسائی ہیں۔ انور سادات اور یاسر عرفات کو امن کا نوبل انعام کبھی نہ ملتا اگر وہ ان کافر حسیناؤں کے شوہر نہ ہوتے۔ افغانستان میں کرزئی کے بعد جن مجوزہ حکمرانوں کے نام سامنے آئے تھے، ان کی بیویاں بھی غیر ملکی ہیں اور حادثاتی طور پر ان کا سنگ حاصل کر کے رفیقہ حیات کے منصب پر فائز ہوئی ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کے بعد زلمے خلیل زاد کی ناول نگار اور تجزیہ نگار اہلیہ محترمہ شیرل بینارڈ امریکی یہودی اور اشرف غنی کی زوجہ صاحبہ لبنانی عیسائی ہے۔ ہمارے ممدوح کپتان جناب عمران خان نسل سے پختون اور غیرت مند تھے لہٰذا برادری کے ہاتھوں استعمال ہونے سے انکار کر کے اس راستے سے واپس چلے آئے، ورنہ برادری نے ان کی شکل میں پاکستان کا تاحیات حکمران ڈھونڈ لیا تھا۔ جناب کے سسر سر جیمز گولڈ اسمتھ کا تعلق دنیا کے ان سات بڑے یہودیوں سے تھا جو یہودیوں کے ایک خاص کلب کے ممبر تھے جس میں بیک وقت سامی نسل کے خالص النسب سات افراد چنے جاسکتے ہیں، زیادہ نہیں۔ راقم بوجوہ وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ یہ فتنہ خیز کافر حسینائیں مسلمان شہزادوں، ولی عہدوں کو اپنی زلفوں کا اسیر بنانے کے گر جاننے کے علاوہ"کبالا" نامی بریہودی سفلی عملیات، جادو، ٹیلی پیتھی اور مسمریزم یا ہپناٹائزم تک کسی حربے کو نہیں چھوڑتیں۔ شراب میں مخصوص مقدار میں دماغ معطل یا سن کرنے والی دواؤں کی ہلکی آمیزش کرتی رہتی ہیں۔ جس کے بعد تو یہ سب حکمران ان کے لیے مکمل تابع فرمان ہو جاتے ہیں اور ایسے ایسے تباہ کن فیصلے کر بیٹھتے ہیں، جن کے متعلق بعد میں انہیں خود سمجھ نہیں آتا کہ یہ معاہدہ ہم نے کیسے کرلیا؟

☆......زنا وشراب، رقص وموسیقی شیطان کے پھندے ہیں اس کے ذریعے وہ اور اس کے چیلے انسانوں کو شکار کر کے اپنا پیروکار پھر اپنا پجاری بناتے ہیں۔ فحاشی وعریانی پھیلانے والے رسالے، چینل، ویب سائٹس، دوستی کلب سب کے سب برادری کا وہ جال ہیں جس سے توبہ کیے بغیر جو جتنا پھڑکے گا اتنا پھنسے گا۔

☆......مغرب کے کچھ تعلیمی ادارے، کچھ مشرقی ممالک کے حکمرانوں اور ان کے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی تعلیم گاہوں کے طور پر مخصوص ومعروف ہیں۔ یہاں ان پر خصوصی محنت اور ذہن سازی ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی دم چھلّا یا دم چھلّن یہیں سے ان کے ساتھ چپک جاتی ہے، یا چپکا دی جاتی ہے۔ چنانچہ یہاں سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوان جب اپنے ملک جاتے ہیں تو ایسی کھوپڑی میں مغربی نظریات کی زنبیل ساتھ لے جاتے ہیں۔ پھر سلطنت عثمانیہ کی طرح اسلامی ملک کے زوال کے لیے مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مغرب سے مربوط تعلیم گاہیں، تعلیمی ادارے نہیں، اعلیٰ مناصب تک اپنے افراد پہنچانے کی کمندیں اور مقتدر قوت حاصل کرنے کی کارگاہیں ہیں۔ علامہ طاہرالقادری اور جناب فتح اللہ گولن جیسے لوگ بھی اس حربے کو استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ "پڑھنے لکھنے کے سوا" کا نعرہ لگانے والے بھی دراصل اسی تھالی کے بینگن ہیں یا اسی تھیلی کے چٹے پٹے۔ اب تو بہت سی دینی جامعات اور اس کے مہتمم صاحبان کے ورثہ پر کھلم کھلا، زبردست محنت سے سرمایہ کاری ہورہی ہے تاکہ مستقبل میں ان خاک نشین اداروں کی سمت درست کی جاسکے۔ بیرونی اداروں کے تحت کورس کرنا، مقابلوں میں حصہ لینا بھی اسی قسم کی قومی خدمت ہے۔

☆......نئی نسل کو مغرب کے قائم کیے ہوئے مغربی اسکولوں میں بھیجنا ان کی شرافت، مذہبیت اور مقصدیت سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ خاص کر یورپی ایڈ پروگرام کے تحت طلبہ یا اساتذہ کو اسکالر شپ پر تعلیم کے لیے بھیجنا تو مملکت خداداد کو ویسا ہی کھوکھلا کر دے گا جیسا کہ سلطنت عثمانیہ ترک نوجوانوں کے ہاتھوں زوال پذیر ہوئی۔

یہ چند ناقابل فراموش اسباق ہیں جو ہمیں آخری سلطنت خلافت کے زوال کے اسباب کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے والے کے لیے مستقبل کے راستے روشن رہتے ہیں اور اپنے احتساب سے بے خبر ہو کر ہوا کے رخ پر چلتے رہنے والوں کے لیے کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */