تو جھکا جب غیر کے آگے - عظمیٰ ظفر

عاتکہ کا مجھ سےاس بات پر بحث کرتے آج دوسرا دن تھا۔ "میں سالگرہ فلاں ریسٹورنٹ میں ہی مناؤں گی اپنے سب دوستوں کو بلا کر جس میں لڑکے بھی شامل ہوں گے۔" اور میں یہ بات ماننے کو ہرگز تیار نہیں تھی اور مان بھی جاتی تو کیا قاسم مان جائے گا؟ وہ تو بہن کا حشر کر دےگا اور اگر میاں جی کو پتہ چل گیا تو؟ کئی سوالات سر اٹھا رہے تھے۔

تو کیا تم اپنی بیٹی کی خوشیوں کا ذرا خیال نا کرو گی؟ کون سا وہ روز روز کوئی فرمائش کرتی ہےشوق ہے اس کا، بچی ہے۔ وسوسہ ڈالنے والے دشمن نے چالاکی سے دوست بن کر کہا۔

عاتکہ کے موٹےموٹے آنسو مجھے بھی رلا گئے۔ "پلیز امی مان جائیں نا؟ پاپا کو پتہ نہیں چلے گا اور بھائی کو آپ مت بتائیے گا۔ دس بجے تک واپس آجاؤں گی۔ پلیز امی پلیز… !"

"عاتکہ کیا بچپنا ہے؟ جب ایک بار منع کر دیا تو کردیا! گھر کی بات اور ہے۔ جوان جہان لڑکی کو میں رات باہر تفریح کے لیے اتنا جھوٹ بول کر نہیں بھیج سکتی۔ نہ ہی اتنے فالتو پیسے ہیں میرے پاس!" اپنے دل کو موم ہونے سے پہلے ہی میں نے سرزنش کی اور سختی سے عاتکہ کو منع کردیا۔

احتجاجاً اس کا کھانا پینا اگلے روز سے بند تھا۔

یا اللہ…! کیا کروں کیسے سمجھاؤں؟…اس کے پسند کی کوئی ڈش بنا لیتی ہوں۔ گوشت نکالنے کے لیے فریج کھولا تو یاد آیا کہ قاسم کو گوشت لانے کے لیے کہا ہی نہیں تھا۔

"عاتکہ! عاتکہ! بھائی کو فون کرو کہ چکن بھی لیتا آئے دو کلو! آج تمہارے لیے مزے کی بریانی بناؤں گی۔ ٹھیک رہے گا نا؟" میرے سوال میں پوری مٹھاس تھی۔

"آپ ایسا کریں زہرلا دیں۔ میں وہ کھا لوں گی، مگر کھانا نہیں۔" ترش لہجے میں بہت غصے سے اُس نے کہا۔

جواب بہت دل دُکھانے والا ملا تھا۔

"دماغ درست نہیں کیا؟ پتہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟ ایک سالگرہ کی وجہ سے ماں سے کس لہجے میں بات کر رہی ہو ؟ سچ بات تو یہ ہے کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے جو تم کو اڑانے کے لیے دے دوں۔ تم اپنے ابو سے خود بات کر لینا۔ اُن سے مانگ لینا۔"

"ابو… اور سالگرہ کے لیے پیسے دیں؟ مجھے ان کا لیکچر نہیں سننا۔ معاف کردیں۔"

"تم کس طرح کی باتیں کرنے لگی ہو؟ باپ کا بھی ادب نہیں؟"

" امی! میں نہیں جانتی، آپ کچھ بھی کریں کل مجھے فنکشن کرنا ہے، اُسی جگہ! بس آپ دس ہزار دے دیں مجھے۔" وہ مجھے ہکابکا چھوڑ گئی۔ یہ میری ناقص تربیت، بے جا لاڈ پیار اور کھلی آزادی بول رہی تھی، عاتکہ نہیں۔

بچپن سے اس کی ہر جائز نا جائز فرمائشیں پوری کرتی چلی گئی تو آج وہ انکار کیسے سنتی؟ آنسو میرے چہرے کو بھگو رہے تھے مگر لاڈلی بیٹی کو اپنا غم تھا۔

نفس کا شیطان پھر براجمان ہو گیا دل پہ، نئی چالوں کے ساتھ۔ مان جاؤ ! تم بھی بچی سے ضد باندھ رہی ہو؟ بھوکی پیاسی ہے۔ تھوڑے سے ہی تو پیسے مانگ رہی ہے۔ بچوں کی خوشیوں سے بڑھ کر ہیں کیا پیسے؟ دوستوں میں کچھ عزت ہے اس کی ۔

وہ میرے دائیں سے بائیں سے آگے سے پیچھے سے آکر بار بار سمجھا رہا تھا۔ آخرکار وہ اپنی چالوں میں کامیاب ہو گیا تھا۔

"کیا ہوا امی؟ آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے؟" قاسم نے آکر مجھے سوچوں سے آزاد کیا اور سامان مجھے پکڑایا۔

"قاسم! اکاؤنٹ میں چیک کیا؟ پیسے بھجوائے تمھارے ابو نے؟" میں نے فکر مندی سے پوچھا۔

"نہیں امی پیسے تو نہیں آئے۔ آج ابو کا فون بھی بند جا رہا ہے صبح سے۔"

"اچھا؟ پتہ نہیں کیا بات ہے کل سے مجھے بھی برے برے خواب آرہے ہیں اور تو اور … وہ سامنے والوں کی بلی بھی تو کتنا رو رہی تھی رات کو؟" توہمات کا ڈر گھیرا تنگ کر رہا تھا۔

" اللہ خیر کرے امی، آپ کیسی باتیں کرتی ہیں؟" قاسم کو برا لگا۔

"اچھا! تم فون کرتے رہنا اپنے ابو کو۔" فکرمندی کی نئی لہر دوڑ گئی دل میں۔ عاتکہ کی ضد الگ ستا رہی تھی۔ کہیں وہ کچھ نقصان نہ کر بیٹھے اپنا۔ پسند کی چیز نہ ملے تو توڑ پھوڑ کرنے لگتی تھی ہمیشہ۔ اچھے گمان تو وہ دل میں کبھی آنے نہیں دیتا، ہمیشہ برے گمان میں ہی الجھا کے رکھتا ہے۔ نفس کا شیطان اپنے ارادوں سے ایسے ہی تو کامیاب ہوتا ہے۔ اب وہ ایک نئے ارادے لیے مجھے گھر سے باہر لے جا رہا تھا۔


عاتکہ کی ضد پوری کرنے کے لیے مطلوبہ رقم میرے پاس نہیں تھی۔ "کنول سے مانگ لیتی ہوں،" چھوٹی بہن کا خیال دل میں آیا، "جب پیسے آئیں گے لوٹا دوں گی۔"

"قاسم! تم ابھی گھر پر ہی رہنا بہن اکیلی ہے۔ میں کنول کے گھر سے آتی ہوں۔ میرا موبائل اور پرس مجھے لا دو، آکر کھانا بناؤں گی۔"

"امی! آپ عاتکہ کو بھی کسی کام کا بولا کریں۔ ہر وقت کمرے میں بند…"

"اچھا اچھا! اب تم اُس کو مت کچھ کہنا، میں ایک گھنٹے میں آجاؤں گی۔" جلدی جلدی چادر لپیٹی اور گھر سے باہر نکل آئی۔

رکشے کا تو دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ مین روڈ تک ہی جانا پڑے گا۔ ابھی کچھ ہی راستہ طے کیا تھا کہ مسز مبشر کی گاڑی آ کر رکی

"السلام علیکم! کہاں جا رہی ہیں آپ؟ آئیں گاڑی میں بیٹھیں۔ کریم بھائی چھوڑ دیں گے آپ کو۔" انہوں نے ڈرائیور کا نام لیا اور دروازہ کھول دیا۔

"وعلیکم السلام،" میں ان کی پیشکش کو فوراً قبول کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی، "بس مین روڈ تک چھوڑ دیں، وہاں سے رکشا کرلوں گی نزدیک ہی جانا ہے۔ بہت شکریہ آپ کا۔"

میں نے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا ورنہ سخت گرمی میں وہاں تک جانا مشکل تھا۔ مختصر حال احوال کے بعد گاڑی میں خاموشی چھاگئی۔

"کریم بھائی! آواز بڑھا دیں ،" مسز وجاہت نے کہا اور اپنے گود میں رکھی ڈائری کھول لی۔ یہ تو مجھے پتہ تھا کہ وہ کسی انسٹیٹیوٹ میں قرآن کی کلاسز لیتی ہیں۔ لہٰذا میں نے بھی مزید بات نہیں کی مگر میری توجہ کیسٹ سے آتی انتہائی نرم پر اثر آواز نے مبذول کرلی۔

"اور فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔ اس آیت کے حوالے سے اگر ہم عام زندگی میں دیکھیں تو کتنی ہی مثالیں ہیں۔ شادیوں کے حوالے سے غیر اسلامی رسمیں، دکھاوے کے طور پر پیسوں کا استعمال، سال گرہیں، بلاوجہ کی گیٹ ٹو گیدرز، بلا ضرورت کی شاپنگز، بعض اوقات ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا اور ہم بچوں کی غیر ضروری فرمائشوں کو پورا کرکے بھی فضول خرچی کر رہے ہوتے ہیں ۔

"نفس امارہ اور نفس لوامہ، جانتے ہیں نا آپ سب؟ ہم نے نفس کو مارنا نہ خود سیکھا، نہ بچوں کو سکھایا۔ جب ہم سب شیطان کو برا بھلا کہتے ہیں، جانتے ہیں، مانتے ہیں، پھر جانتے بوجھتے فضول خرچی کرکے اپنا شمار ابلیس کے بھائی بندوں میں کرواتے ہیں۔ آج آپ کسی بدنامِ زمانہ آدمی سے اپنا رشہ جوڑ سکتے ہیں اپنا؟ پسند کریں گے ایسا کرنا؟ نہیں نا؟ لیکن شیطان کے رستوں پر ضرور چلیں گے۔"

ان کی باتیں جاری تھیں مگر مجھے لگا یہ سب کچھ مجھ سے کہا گیا تھا۔ دل اور آنکھوں سے پردے ہٹنے کے لیے ایک جھونکا ہی کافی تھا۔

"کیا ہوا کریم بھائی؟" مسز وجاہت نے پوچھا "گاڑی کیوں روک دی؟" ان کی آواز سن کر میں بھی ندامت کے سمندر سے باہر نکل آئی۔

"باجی گاڑی کو کچھ نہیں ہوا، آگے رکشہ کھڑا ہے اور اُس سے آگے لمبا ٹریفک جام ہے۔"

"اچھا! اب انتظار کرنا پڑے گا۔" وہ دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئیں۔

اچانک میری نظر آگے کھڑے رکشہ پر پڑی جس پر ایک شعر لکھا ہوا تھا

پانی پا نی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن

آج شاید میری شرمندگی کا دن تھا۔ کچھ باتیں کچھ جملے انسان کے دل کی دنیا کو جھنجھوڑتے ہیں ایسا ہی میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ وہ شعر بھی مجھے ہی سمجھا رہا تھا کہ میں ایک فضول خرچی کے لیے دوسروں کے آگے جھکنے والی تھی۔

اللہ! مجھے گمراہی سے بچانا، میری ہدایت فرما۔ دل سے نکلی دعا اتنی خالص تھی کہ ایسا لگا میری ساری پریشانیاں ختم ہو گئیں۔ میں نے آنکھوں سے آتے آنسوؤں کو چادر سے خشک کیا ۔ میرے موبا ئل کی آواز نے گاڑی کے سناٹے کو توڑا۔ قاسم کالنگ!

"جی بیٹا کیا ہوا خیریت؟ عاتکہ کہاں ہے ؟"

"جی سب خیر ہے امی! آپ کہاں ہیں؟ فوراً واپس آئیں۔ ابو نے سرپرائز دیا ہے۔ آگئے ہیں ابھی ابھی۔ آپ جلدی آئیں۔" قاسم کی خوشی آواز سے جھلک رہی تھی۔

پیچھے سے عاتکہ کی آواز بھی چہک رہی تھی۔ مسز مبشر کو صورتحال بتا کر میں گاڑی سے باہر آگئی۔ اب مجھے گھر جلدی پہچنا تھا ۔ اللہ نے مجھے دوسروں کے آگے جھکنے سے بچا لیا تھا۔ مجھے اللہ کے آگے جھکنا تھا اور مجھے اللہ کے ہی آگے جھکنا ہے۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.