ارض قدس کی آواز... اہم نکات - محمود حمدان

تحریر : محمود حمدان، غزة

ترجمانی: ابو احمد فرحان الٰہی

محمود حمدان ہمارے ایک دیرینہ دوست ہیں، جن سے ہمارا رشتہ عقیدہ و دین کا بھی ہے اور علم و فکر کا بھی، لیکن ایک خاص تعلق یہ بھی ہے کہ وہ ارض فلسطین کے فرزند ہیں، القدس کے قریب ہی سکونت پذیر ہیں، نیک اور صالح طبیعت کے ساتھ اقصیٰ سے محبت اور دینی حمیت سے سرشار ہیں، القدس کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے تناظر میں جہاں ساری دنیا میں امریکہ و اسرائیل کی نفرت میں ہر مسلمان غم و غصے سے لبریز ہے، وہاں اہل غزہ کے لیے یہ حالات کس قدر مشکل اورنا مساعد ہیں، اس کا اندازہ اہل فلسطین سے زیادہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ ہمارے بھائی محمود حمدان نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے اہل فلسطین اور بیرونِ فلسطین مسلمانوں کے کے لیے ایک لائحہ عمل دیا ہے، ہم نے ترجمہ کر کے ان کے دل کی آواز آپ تک پہنچانے کی کوشش کی، ضرور پڑھیے اور دوسروں کو بھی مستفید کیجیے۔

جزاکم اللہ خیرا

آپ کا بھائی: ابو احمد فرحان الٰہی


مسجد اقصیٰ کی بابرکت زمین، جو کہ مسلمانوں کا قبلۂ اول اور وہ تیسری مسجد ہے جس کی طرف رخت سفر باندھنا مشروع و مأجور ہے،جہاں ہر نیک اور صالح بندے کی نیکیوں کو سینکڑوں گنا بڑھا چڑھا کر عطا کیا جاتا ہے، یہاں جو کچھ ظلم و جور کی داستانیں رقم کی جارہی ہیں، بلکہ پورے فلسطین میں ایک عرصے سے اور خاص طور پر حالیہ امریکی قرارات کے نتیجے میں جو دکھ ہمیں پہنچا وہ یقیناً ہمارے ایمان کو بڑھا وا دے رہا ہے، کہ حق ہی منصور و مأمون رہے گا اور جلد یا بدیرفجر کی پو پھوٹنے کو ہے البتہ ہماری نظر میں کچھ اہم امور جن کے ذریعے اس فتح و نصرت کو قریب تر بنایا جا سکتے ہیں، پیش خدمت ہیں:

1. پورے صدق و اخلاص کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کی طرف رجوع کیا جائے، کیوں اللہ رب العزت اس ذلت کو اس وقت تک ہم سے نہیں ہٹائے گا جب تک ہم تُراجعوا دينكم کے مصداق دین حنیف کی طرف لوٹ کر واپس نہیں آجاتے، اور جونہی صبر و تقویٰ ہماری چادر بنی، تو وعدۂ ربانی ہے: وإنْ تصبروا وتتقوا لا يَضُرُّكم كيدُهم شيئًا اگر تم صبرکرو اور تقویٰ اختیار کرو، تو ان کے مکر و فریب تمہیں چنداں نقصان نہیں دے پائیں گے۔

2. اپنے اندر حقیقی تبدیلی لائی جائے، ہم جن گناہوں، برائیوں، بدعات اور خرافات میں لتھڑے ہوئے ہیں ان سے جان چھڑا کر اپنے احوال کی مخلصانہ اصلاح کی جائے، کیوں کہ إنَّ اللهَ لا يُغيِّرُ ما بقومٍ حتى يُغيِّروا ما بأنفسِهم یقیناً اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حالات تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ قوم خود کو تبدیل نہ کرے۔

3. توحید کی بنیاد پراپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کیا جائے، فرقہ پرستی اور اختلافات سے جان چھڑائی جائے، کیوں کہ امرِ باری تعالیٰ کا یہی تقاضا ہےفرمایا: واعتصموا بحبلِ الله جميعًا ولا تفرَّقوا یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقوں میں مت پڑو۔

4. اپنے مسلمانوں کو اور خاص طور پر اہل عرب کو سب و شتم سے پرہیزکیا جائے، خواہ آپسی چپقلش بھی پائی جائے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے: ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهبَ ريحُكم اور آپس میں تنازع نہ کھڑا کرو، ورنہ کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

5. اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے مدد و نصرت کے لیے پکارا جائے، کہ وہ مالک الملک ہمیں پنجۂ یہود اور ان کے بہی خواہوں سے آزاد کرائے، اپنے دینِ مبین اور اس حامیوں کو عزت وغلبے سے سرفراز کرے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ وَإِخْلَاصِهِمْ اللہ اس امت کی مدد صرف ان کے کمزوروں کی وجہ سے کرتا ہے، ان کی دعاؤں، نمازوں اور ان کے اخلاص کے بسبب۔

6. آپسی معاملات میں رحمت و نرمی کی روش اپنانی چاہیے، تاکہ بلند و برتر رحمان ہم پر بھی رحم فرمائے، کیوں کہ محبوبِ رحمانی ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: الراحمون يرحمُهم الرحمن، ارحموا مَن في الأرض، يرحمكم مَن في السَّماء رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم فرماتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ اس کے برعکس چند اہل خیر کے علاوہ مسلمانوں میں پارٹی بازی، حقد و حسد اور بغض و عناد کی میل اس قدر چڑھ گئی ہے کہ گویا یہی ہماری ثقافت ہے۔ والعیاذ باللہ

7. جہاد فی سبیل اللہ کے لیے حقیقی تیاری کی جائے، ایسا جہاد جس سے اللہ کا کلمہ(دین) بلند ہو، اور کافرو ں کا کلمہ سرنگوں ہو، ایسا جہاد جس میں صفیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو، دل یکجا ہوں، إنَّ اللهَ يُحبُّ الذين يُقاتلون في سبيله صفًّا كأنهم بُنيانٌ مرصوص یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں صفیں باندھے لڑتے ہیں گویا، سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔ جہاد ایسا ہو کہ اس کی بنیاد عقیدہ ہو، کوئی زمین، کوئی پارٹی یا کوئی جماعت نہ ہو، ایسا جہاد ہو کہ جس کے ذریعے اللہ اہل ایمان کو عزت سے نوازے اور کافروں کو رسوا کرے۔ آخری بات اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ، اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، اپنے میدان میں سچی نیت، مقصد کے اخلاص اور عزمِ صمیم کے ساتھ کوشش کرے، تو آپ پھر خوش ہو جائیے ایسے نتائج سے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گے، آپ کےدلوں کو فرحت بخشیں گے، آپ کا دین قائم ہوگا،آپ اپنے رب کی شریعت کو نافذ کر سکیں گے، ولينصُرنَّ اللهُ مَن ينصُره، إنَّ الله لقويٌّ عزيز اوراللہ تعالیٰ ضرور بہ ضرور ان کے مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے، یقناً اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبے والا ہے۔ والله المُستعان، وعليه التُّكلان.

ارض مقدس فلسطین کا بیٹا

محمود حمدان

19 ربيع أوَّل 1439ھ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */