فلسطین: کل، آج اور کل - طلحہ ادریس

ہزاروں سال پہلے کچھ عرب لوگ ایک علاقے میں آباد ہوئے۔ اس بستی کا نام انہوں نے کِنْعان رکھا۔ کچھ عرصہ گزرا توچند مزید (موجودہ ترکی کے علاقے کے) لوگ یہاں آئے۔ اُنہیں فلسطی کہا جاتا تھا، چنانچہ یہی بعد میں اُس علاقے کا نام پڑ گیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے جب اپنے علاقے (عراق) کو چھوڑا تو یہاں آئے۔ یہیں حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوئے۔ حضرت یعقوبؑ اُن کے بیٹے تھے جن کا لقب اسرائیل(یعنی عبداللہ) تھا۔ بنی اسرائیل اولادِ یعقوب ہے جس میں اللہ نے اپنے کئی انبیا کو مبعوث فرمایا۔ حضرت یوسفؑ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہیں۔ اُنہیں مصر میں حکومت ملی تو حضرت یعقوب اور ان کے بیٹے مصر چلے گئے۔

مصر میں بنی اسرائیل ایک عرصے تک حکومتی عہدوں پر فائز رہے پھر مقامی (قبطی) آبادی سے کچھ اختلافات کے باعث نہ صرف حکومتی عہدوں سے الگ ہونا پڑا بلکہ غلام بھی بنالیے گئے۔ کم وبیش چار سو سال بعد حضرت موسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات دلائی اور یوں یہ قوم ارضِ فلسطین میں واپس آئی۔ بعد میں حضرات داؤد و سلیمان علیھم السلام یہیں شاندار حکمران رہے۔ یاد ر ہے کہ ان تمام انبیا کا دین اسلام تھا اور یہ سب مسلمان تھے۔ حضرت سلیمانؑ کا تختِ حکومت جس جگہ تھا وہ ہیکلِ سلیمانی کہلاتی ہے۔ اُن کے دورِ حکومت کے بعد سلطنتِ بنی اسرائیل دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ایک اسرائیل جو دس قبائل پر مشتمل تھی اور دوسری یہودا جو دو قبائل بنو یہودا اور بنیامین پر مشتمل تھی۔ یہ قبائل بھی آپس کی ناچاکی کے باعث بیرونی حملوں کا مقابلہ نہ کرسکے اور ایک بار پھر ذلیل ہوئے۔ یہودیت یہودا (حضرت یعقوبؑ کے ایک بیٹے)کے نام پر لوگوں کا بنایا ہوا مذہب ہے جس کا نہ کسی نبی سے تعلق ہے نہ ان کا یہ دعویٰ درست ہے جو قرآن میں مذکور ہے: نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ (المائدۃ 18:5) اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر اپنے کئی احسانات کیے مگر انہوں نے ہمیشہ اللہ کے احکامات سے رُو گردانی کی، اللہ کے انبیا کی توہین کی حتیٰ کہ انبیا کو قتل کر ڈالا۔

بیت المقدس کا ایک اور تعارف کچھ یوں ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصیٰ اور پھر یہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی، اسے معراج کا سفر کہا جاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں تین مساجد کی طرف سفر کرنا باعثِ برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ شامل ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ نے نماز پڑھنے کے لیے جو جگہ تعمیر کرائی تھی اُسے مسجد اقصیٰ کہتے ہیں۔ یہی مسلمانوں کا قبلہِ اوّل ہے۔ حضورؐ اور ان کے صحابہ نے مکی زندگی اور ہجرتِ مدینہ کے بعد 17ماہ اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور ِ حکومت میں اسلامی فوجوں نے بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کی تو یہودی علما نے یہ شرط رکھی کہ مسلمانوں کے خلیفہ آئیں، شہر کی چابیاں انہیں دی جائیں گی۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ پیدل چل رہے تھے اور آپ کے خدمتگار (عدّاس) سواری پر سوار تھے۔ حکمرانِ وقت کے کپڑوں پر پیوند لگے تھے۔ یوں امن وآشتی والے الٰہی دین نے ارضِ مقدسہ کو اپنا دامنِ محبت بخشا۔

عیسائیت ایک اور معروف مذہب ہے جو عددی اعتبار سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس کے ماننے والے اپنی نسبت حضرت عیسیٰ ؑ سے قائم کرتے ہیں۔ فلسطین حضرت عیسیٰ ؑ کی جائے پیدائش ہے اسی وجہ سے عیسائی اسے مقدس زیارت گاہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ حکومت میں عیسائیوں کو مکمل آزادی دی۔ متبرک مقامات کی حفاظت کی۔ غیر مسلم زائرین جب بھی آتے انہیں سہولیات پہنچائی جاتیں۔ عیسائی مذہبی پادریوں نے کہنا شروع کردیا کہ اگر کوئی چور، بدکردار اور بدمعاش بھی بیت المقدس کی زیارت کر آئے تو وہ جنت کا مستحق ہوگا۔ اس پر زائرین ناچتے، گاتے اور غل غپاڑے کرتے شہر میں داخل ہوتے۔ ان نازیباحرکات پر اخلاقی پابندیاں عائد کی گئیں تو زائرین نے من گھڑت افسانے سنا کر لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا۔ یوں بڑے پیمانے پر جنگ وجدل شروع ہوگئی جنہیں صلیبی جنگوں کا نام دیا گیا۔ مسلمانوں نے اس مسلط کردہ غارت گری کامقابلہ کیا مگر ابتداً اُنہیں کامیابی نہ ہوئی۔ سالہاسال کی ان جنگوں نے عالمی امن کو داؤ پر لگادیا۔ مسلمانوں کی قیادت صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھ آئی تو انہوں نے 88 سال کے عیسائی قبضے کے بعد بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ اس سے پہلے غیر مسلموں نے اسلام، شعائرِ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بہت زہر اگلا جو خود انگریز مورخین کی تحاریر میں موجود ہے۔ لکھا گیا ہے کہ جب صلیبی فوجیں یروشلم میں فاتحانہ داخل ہوئیں تو گھوڑوں کی سمیں خون سے اٹی تھیں۔ اس کے برعکس جب صلاح الدین ؒ یروشلم (بیت المقدس) میں داخل ہوئے تو نہ صرف متحارب فوج کو امان دی بلکہ اُن کی توقیر بھی فرمائی ہاں البتہ جس شہزادے نے یہ کہا تھا کہ بیت المقدس تو ہمارا ہی تھا ہم نے لے لیا، ہمارا جشن اس روز ہوگا جب مکہ و مدینہ پر ہمارا قبضہ ہوگااور مسلمانوں کی نبی کی قبر ہم اکھیڑیں گے(معاذ اللہ)، کی گردن خود صلاح الدینؒ نے اپنی تلوار سے اُڑائی۔ بیت المقدس پر اکتوبر 1187ء سے جنگِ عظیم اوّل (جولائی 1914ء تا نومبر 1918ء) تک مسلمانوں کی حکومت قائم رہی، پھر یہ علاقہ انگلستان کے زیرِ تسلط آگیا۔

2 نومبر 1917ء کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے اعلان کیا کہ سرزمینِ فلسطین پر مقیم اس کے باشندوں کو بے گھر کرتے ہوئے دنیا بھر کے یہودیوں کو وہاں جمع کرکے، ایک نئی ریاست اسرائیل قائم کی جائے گی۔ اس اعلان کے وقت فلسطین میں یہودیوں کی تعداد صرف 55ہزار تھی۔ عیسائی پوری طرح یہودیوں کی پشت پناہی کررہے تھے۔ اس منحوس اعلان پر برطانیہ نے مشرق وسطیٰ پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے جو مختلف اقدامات کیے، ان میں سرفہرست مسلمانوں کو باہم لڑانا تھا۔ مسلمانوں کی قوت تقسیم اور کمزور ہوئی تو دسمبر 1917ء تک سرزمینِ فلسطین پر برطانوی قبضہ مکمل ہوگیا۔ برطانوی افواج کا سربراہ جنرل ایلن بی (General Allenby) سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کے پاس پہنچا اور اس پر پاؤں رکھتے ہوئے بولا: ’’آج صلیبی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا‘‘۔ 1948ء میں حکومتِ برطانیہ کےسرزمینِ قدس سے انخلا تک ارضِ فلسطین نے بہت کچھ دیکھا۔ 1919ءمیں فلسطینی کانفرنس سے موسیٰ الحسینیؒ اور امین الحسینیؒ جیسی دردِ دل رکھنے والی قیادت مسلمانوں کو میسر آئی۔ اگست 1921ء میں مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار، دیوار بُراق کی بے حرمتی کرنے پر ایک طاقت ور ’تحریک بُراق‘ دیکھنے میں آئی۔ جس دوران میں 133 یہودی مارے گئے 339 زخمی ہوئے جواب میں برطانوی افواج نے 116 فلسطینی شہید اور 232 زخمی کردیے۔ اسی دوران شام کے چوٹی کے عالم دین عزالدین القسامؒ اور عبد القادر حسینیؒ نے اپنی اپنی جہادی کوششوں سے قبلۂ اول آزاد کروانے کے لیے جدوجہد کا حق ادا کیا۔ 7 تا 17دسمبر 1931ء کو مفتی اعظم امین الحسینیؒ کی سربراہی میں بیت المقدس میں پہلی اسلامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں 22 ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔ برصغیر کی نمائندگی علامہ محمد اقبالؒ اور مولانا شوکت علیؒ نے کی۔ 20 اپریل 1936ء کو فلسطینی عوام نے دنیا بھر سے یہودیوں کو وہاں لائے جانے کے خلاف ملک گیر ہڑتال کردی۔ یہ ایک بے مثال ہڑتال تھی جو چند روز یا چند ہفتے نہیں، تقریباً چھے ماہ جاری رہی۔ مئی 1939ء میں قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کرتے ہوئے برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو یہودی ریاست نہیں بنانا چاہتا، عربوں اور یہودیوں کی مشترک حکومت بنانا چاہتا ہے۔ وعدہ کیا کہ وہ دس برس کے اندر اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست تشکیل دے گا۔ فلسطینی عوام کو ان اعلانات کی صداقت پر یقین نہیں تھا، اس لیے انھوں نے انھیں مسترد کردیا۔ اسی دوران میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہوگئی۔ یہودی قیادت نے عالمی قیادت کا مرکز امریکا منتقل ہوتا دیکھ کر اپنا قبلہ بھی ادھر پھیر لیا۔ 2 اپریل 1947ء کو برطانیہ نے اقوامِ متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر ایک قرارداد پیش کی، جس نے 29 نومبر 1947ء کو اسے منظور کرتے ہوئے، سرزمین فلسطین کے 54.7فی صد علاقے پر ایک یہودی ریاست قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

تقسیمِ سرزمینِ اقصیٰ کا اعلان ہونے پر فلسطینی عوام نے احتجاج کیا تو جواب میں ان کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا گیا۔ بدقسمتی سے کسی پڑوسی عرب ریاست یا حکومت نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔ فلسطینی عوام نے خود ہی اپنے نبیؐ کی امانت کی حفاظت کا فیصلہ کیا۔ پڑوسی علاقوں (بالخصوص مصر سے) عوام ان کی جو مددکرسکتے تھے وہ انھوں نے کی۔ الاخوان المسلمون کے بانی حسن البناؒ اور ان کی جماعت، اہل فلسطین کی مدد کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔ مصری حکومت خود اہل فلسطین کی مدد تو کیا کرتی؟ اس نے اخوان کے ان فداکاروں کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس دوران 13 لاکھ 90ہزار فلسطینیوں میں سے 8 لاکھ شہری زبردستی ملک بدر کردیے گئے۔ مزید 30 ہزار سے زائد ملک کے اندر مہاجر ہوگئے۔ ساڑھے چار ہزار سال سے وہاں آباد ایک پوری قوم سے ان کے آباؤ اجداد کی سرزمین چھین لی گئی۔ 14 نومبر 1973ء کو شائع ہونے والے برطانوی اخبار دی گارڈین میں اسرائیلی فوج کے سربراہ، اور وزیر دفاع موشے دایان (Moshe Dayan) نے اعتراف کیا کہ ’’اس ملک میں ایک بھی یہودی بستی ایسی نہیں ہے، جو کسی نہ کسی عرب آبادی کے اوپر تعمیر نہ کی گئی ہو‘‘۔ اگست 1993ء میں کئی سال کے خفیہ مذاکرات کے بعد ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امن کے نام پر ایک طویل معاہدہ کیا گیا۔ اس گنجلک معاہدے کا حتمی نتیجہ یہ تھا کہ اگر باقی ماندہ فلسطینی شہری، اسرائیلی ریاست کو اپنی اطاعت کا مرحلہ وار ثبوت دیتے چلے جائیں تو آخرکار غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو بعض اختیارات دے دیے جائیں گے۔ اس معاہدے کا قبیح پہلو یہ تھا کہ اس میں مذکورہ چند وعدوں کی قیمت پر سرزمینِ اقصیٰ کے 77 فی صد سے زائد علاقے پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔

سال 2000ء میں اس حقیقت کا بے مثال ثبوت ایک بار پھر پوری قوت سے ساری دنیا کے سامنے آگیا۔ متعصب یہودی جماعت لیکود پارٹی کے سربراہ اور 1982ء میں لبنان کے فلسطینی کیمپوں میں خوفناک قتل عام کروانے والے سابق وزیر دفاع ایریل شارون نے اعلان کردیا کہ ’’اسرائیل ایک ناقابل تسخیر حقیقت ہے۔ یروشلم (بیت المقدس) سمیت اس کی ساری سرزمین ہماری ہے اور میں اس حقیقت کا اعلان کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں جاؤں گا‘‘۔ اسرائیلی حکومت نے اس اعلان کی تائید کی اور شارون کی مدد کرنے کے لیے 600 مسلح افراد اس کے ہمراہ بھیج دیے۔ اس نے 28 ستمبر 2000ء کو اس ناپاک جسارت کا ارتکاب کیا تو پوری فلسطینی قوم بپھر کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ (تحریک) انتفاضۂ اقصیٰ شروع ہوگیا جو تقریباً 5 برس تک جاری رہا۔ اس دوران یہودی افواج نے ممنوعہ ہتھیاروں سمیت ہر ہتھکنڈا استعمال کرکے دیکھ لیا۔ ساڑھے چار ہزار شہری جن میں سیکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل تھے شہید کردیے لیکن ان جرائم کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ سے اُمت مسلمہ کی محبت و تعلق تو کیا کم ہوتا، ناجائز یہودی ریاست اور اس کے سرپرست امریکا کا اصل چہرہ ان کے سامنے مزید بے نقاب ہوگیا۔ 22 مارچ 2004ء کو تحریک حماس (فلسطینی اخوان) کے بانی اور فلسطین میں نسل نو کے روحانی رہنما، شیخ احمد یاسین کو بھی نماز فجر کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے ڈرون حملے سے شہید کردیا گیا۔ اگلے ہی ماہ 17اپریل 2004ء کو ان کے جانشین ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی بھی ایسے ہی ایک حملے کی نذر ہوگئے۔

تحریکِ حماس فلسطین کا سب سے مؤثر جہادی گروہ ہے۔ وہ فلسطینی عوام کے اعتماد و حمایت کی حامل اہم ترین جماعت بھی ہے۔ مختلف مشاورتوں کے بعد انھوں نے 2005ء کے بلدیاتی اور 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ نتائج آئے تو پوری دنیا کے لیے حیران کن تھے۔ 132 کے ایوان میں حماس کو 78 اور محمود عباس کی جماعت الفتح کےتمام دھڑوں کے مشترکہ پینل کو 45 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اسرائیل کے لیے حماس کی یہ جیت تحریک انتفاضہ سے بھی بڑا زلزلہ ثابت ہوئی۔ حماس نے اکیلے حکومت سازی کے بجائے ہر ممکن قربانی دے کر بھی قومی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام بنادی گئیں۔ انتخابات کے دو ہفتے بعد بھی اسی پرانی اسمبلی کا اجلاس بلاکر اہم دستوری ترامیم کی گئیں۔ تمام تر اختیارات منتخب حکومت کے بجائے صدر کو منتقل کردیے گئے۔ نومنتخب پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تو کچھ عرصے بعد ہی اس کے سپیکر سمیت کئی ارکان اسمبلی کو اسرائیلی افواج نے گرفتار کرلیا۔ ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کرلیا۔ 2007ء میں یہ محاصرہ شدید تر ہوگیا۔ تین اطراف سے اسرائیل کا محاصرہ تھا، چوتھی جانب سے مصر نے بھی اس سے زیادہ سخت حصار کرلیا تھا۔ 2008ء، 2009ء اور 2012ء میں اسرائیل نے غزہ پر خوفناک جنگ مسلط کردی۔ کیمیائی ہتھیار تک استعمال کرڈالے۔ غزہ کے عوام سے صرف ایک مطالبہ کیا جارہا تھا کہ وہ حماس کا ساتھ چھوڑتے ہوئے، مسجد اقصیٰ سے دست بردار ہوجائیں اور اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ ایسے کڑے حصار اور پے در پے جنگوں کے بعد غزہ میں محصور 8 لاکھ سے زائد انسانوں کا زندہ بچ جانا بھی ایک معجزہ ہوتا۔ لیکن وہ نہ صرف زندہ رہے، بلکہ انھوں نے حماس کا ساتھ چھوڑنے سے بھی انکار کردیا۔

نبی اکرمؐ کے قبلہِ اول اور سرزمینِ بیت المقدس پر قبضہ کرکے وہاں ایک یہودی ریاست تشکیل دینے کے لیے پورے سو سال پر محیط سازشوں اور مظالم آج پھر شدیدتر ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے میں یہودیوں کی آبادکاری سراسر ظلم ہے۔ سو برس قبل برطانیہ نے اعلانِ بالفور کیا تھا، اب امریکا اس صدی کا سب سے بڑا سودا مَفقَۃُ الْقَرنْ (Deal of the Century) کرنے جارہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کاحالیہ اعلان اسی کا شاخسانہ ہے۔ اللہ تعالی نے فرمادیاہے: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا یعنی تم اہلِ ایمان کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے۔ (المائدۃ 82:5) غیب کا علم تو صرف خالقِ کائنات کو ہے لیکن سرزمینِ اقصیٰ کے امین فلسطینی عوام کے دل سے آزادی کا عزم ختم نہیں کیا جاسکا۔ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسا نہیں ہوگا۔ آج وہ 1948ء کی نسبت کہیں زیادہ پُرعزم اور کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ اسی حقیقت کا اعتراف گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیا ہے کہ: ’’مسلم حکمران تو ہم سے تعاون پر آمادہ ہیں، اصل رکاوٹ مسلم عوام ہیں‘‘۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے فلسطین کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وہ ہر حوالے سے فلسطینی مسلمانوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ یہودیوں کے خواب یقیناً بکھرتے رہیں گے اور مسلمانانِ عالم قبلہِ اوّل سے اپنی محبت کو اپنی زندگی کا وظیفہ بنائے رکھیں گے۔

یہودی علوم و فنون میں اپنے بچوں کو مہارت دلواتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہودیوں کی تعداد دنیا میں زیادہ نہیں لیکن وہ دنیاوی علوم کے ماہر ہیں۔ ہمیں علم کے میدان میں ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے لیے مطالعہ زیادہ سے زیادہ کرنا ازحد ضروری ہے۔ وہ دنیا بھر سے اپنے گھربار چھوڑ کر فلسطین کی سرزمین پر قابض ہیں، کیا ہم بھی اپنے دین اسلام کے ساتھ اس قدر وابستگی رکھتے ہیں کہ اللہ کی خاطر گھر بار چھوڑنا پڑے توچھوڑسکیں؟ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں۔ ان کے حق میں جہاں بھی بات کرنا پڑے بات کریں۔ یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملی ذمہ داری بھی۔ اللہ کریم ظلم کی طویل رات کو صبحِ تازہ میں جلد بدلے۔ (آمین)

(اس مضمون کی تیاری میں عبدالغفار عزیز صاحب کے مضمون ربیع الاول، قبلہ اوّل اور مسئلہ فلسطین، مطبوعہ ترجمان القرآن سے استفادہ کیا گیا ہے)