ترقیاتی رشوت - اسامہ الطاف

پاکستانی عوام کی سیاسی سوچ کو سمجھنا اور ووٹ ڈالنے کے پیچھے سیاسی، اجتماعی اور نفسیاتی محرکات کو پرکھنا بہت مشکل ہے۔سیاسی کلچر اور ملکی صورتحال کے پیش نظر کم از کم یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے ہے کہ ہماری سیاسی سوچ میں خلل ہے،لیکن جب تک اس خلل کو صحیح طرح سمجھا نہیں جائیگا اس کاحل نا ممکن ہے۔

اپریل 2016ء میں پانامہ دستاویزات کے ذریعے عالمی رہنماؤں کے خفیہ اثاثوں کے ایک حصہ کا انکشاف ہوا،ان عالمی رہنماؤں میں پاکستان کے اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا نام بھی شامل تھا۔پاکستان میں پانامہ دستاویزات کی بنیاد پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان طویل سیاسی جنگ ہوئی، آغاز الزامات، تنقید اور سوالات سے ہوا، پھر سڑکوں پر احتجاج اور تقریریں ہوئی،اور انجام عدالت عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کی تاحیات نا اہلی پر ہوا۔اپریل2016ء سے جولائی2017ء تک میڈیا میں سینکڑوں پروگرامز میں درجنوں صحافیوں نے سابق وزیر اعظم کی مبینہ کرپشن پر بات کی، عدالت عظمیٰ کی جانب سے بنائی جانی والی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تحقیقات کے نتائج میں سنگین بے ضابطگیوں کا ذکر کیا،حتی کہ عدالت عظمیٰ نے بھی ان کو غلط بیانی کا مرتکب قرار دیا،ڈیڑھ سال کے عرصے میں ان تمام عوامل کے باوجود عوام کا ایک بڑا طبقہ آج بھی نا اہل وزیر اعظم کی جماعت کو اپنے ووٹ کا حقدار سمجھتا ہے،آخری تجزیے کے مطابق حکمراں جماعت کی آئندہ الیکشن میں کامیابی مشکل نظر آتی ہے تاہم ان کا مضبوط ووٹ بینک اور عوامی حمایت برقرار رہیں گا۔

مبصرین کے لیے صورتحال حیران کن ہے کہ قانونی شکست اور مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات کے باوجودآخر کیا سیاسی یا اجتماعی محرکات ہے جن کے باعث عوام کی سیاسی سوچ تبدیل نہیں ہوئی، سیاسی لا شعوری، برادری اور مذہبی ووٹ بینک یقینا انتہائی اہم عوامل ہیں،سندھ، کراچی اور پنجاب کے چھوٹے دیہاتوں میں ان عوامل کی بنا پر ہی ووٹ ڈالا جاتا ہے، لیکن شہروں میں رہنے والا پڑھا لکھا طبقہ ان عوامل سے نسبتاً آزاد ہونے کے باوجود ن لیگ کا ووٹر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شہباز، پرویز فارمولا؟ ماریہ میمن

اس عوامی حمایت کی ایک بڑی وجہ "ترقیاتی رشوت"ہے،ترقیاتی رشوت کی اصطلاح حکومت کے ان مثبت اقدامات کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے باعث عوام الناس حکومتی جرائم پر سمجھوتہ کرلیتے ہیں،ایسا ہر گز نہیں کہ عوام کو کرپشن اور کرپٹ عناصر کی خبر نہیں،لیکن عوام "کچھ لو، کچھ دو" کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں کے عوض انہی کرپٹ عناصر کو ووٹ ڈالتے ہیں۔

پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی قیادت کرپشن میں ملوث ہے، کرپٹ جماعتوں کی حمایت کے پیچھے اصل محرک متعلقہ حلقوں میں جماعت کے نمائندوں کے ترقیاتی کام اور اصلاحات ہیں،اس کی مثال اس سرکاری افسر کی ہے جو اپنے عہدیدار کی رشوت خوری پر اس لیے خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے۔ ـ"ترقیاتی رشوت" کے مؤثر ہونے کی ایک علامت پانامہ لیکس میں حکمراں جماعت کا بیانیہ ہے،جس میں انہوں نے الزامات کا جواب دینے کے بجائے پانامہ دستاویزات اور اپوزیشن کی مہم کو ترقی کے خلاف سازش قرار دیا،حالانکہ دستاویزات منظر عام پر آنے اور ترقی رکنے میں کوئی ربط نہیں۔

"ترقیاتی رشوت"کا کلچر معاشرہ کے لیے سم قاتل ہے،اس سوچ کے باعث معاشرہ میں جرائم کو قبول کرلیا جاتا ہے، اور مجرم کو ہیرو اور ترقی پسند سمجھا جاتا ہے،جس کا نتیجہ معاشرہ کی اخلاقی پستی، جرائم کا عام ہونا اور طاقت کے غلط استعمال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔