جنریشن 2018ء - بلال شیخ

آئیے 17 سال پیچھے چلتے ہیں۔ یہ دور ہے 2000ء کا جب موبائل اس دنیا میں اپنی آنکھ کھول رہا تھا اور اسّی فیصد پاکستان ابھی اس سے تعارف نہیں تھا۔ ابھی اس کو صرف عجوبہ ہی سمجھا جا رہا تھا۔ بچے کرکٹ کے لیے میدان سجاتے تھے۔ اندرون شہر کے تھڑے آباد تھے۔ چھوٹے چھوٹے چائے خانوں میں گپ شپ ہوتی تھی۔ گھروں میں بچے نام، چیز جگہ، لڈو، کیرم، چھپن چھپائی، پکڑن پکڑائی وغیرہ کھیلتے تھے۔ ان کے جسم تندروست بھی اور ذہن فضول سوچوں سے آزاد تھے۔ شام کو سب کو ایک گھنٹہ ملتا تھا ٹی وی دیکھنے کا، جس میں کچھ مخصوص کارٹون یا کوئی بچوں کا من پسند ڈرامہ لگتا تھا۔ گیارہ بجے تک سب اپنے بستر پر ہوتے اور لائٹیں بند ہو جاتیں۔ خوبصورت کہانیاں سنتے ہوئے وہ معصوم خوابوں کی سیر کو نکل جاتے تھے۔ بچوں میں پڑھنے کا شوق ابھی بھی اپنے عروج پر تھا اردو ادب کو شوق سے پڑھا جاتا تھا اور وقتاً فوقتاً بچوں کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا تھا ماں باپ کے ساتھ سوالات اور خاص وقت میں خاص بیٹھک لگتی تھی جس میں والد پورے گھر کی تفصیل سکون سے سنتے تھے اور مائیں صبح سے رات کی ساری تفصیل سکون سے سناتی تھیں۔ بچوں میں محبت کو اچھے الفاظ سے جانا جاتا تھا اور آج جو جانا جاتا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ اتوار ایک ایسا چھٹی کا دن تھا جس میں اگر گھومنے کا پروگرام بنتا تو سارے گھر والے ساتھ مل کر گھومنے جاتے نہ کہ کوئی کسی کو میسیج کر کے الگ سے نکلتا اور نہ ہی کسی گھر کے فرد کا پلان کسی اور سے الگ ہوتا تھا۔

اب کچھ نزدیک آتے 2010ء کی طرف جب سوشل نیٹ ورکنگ بہت تیزی سے پاکستان کو اپنے جال میں ڈال رہی تھی اور نئی نسل اس نشے میں دھت ہو رہی تھی۔ یہ نشہ ایسا چڑھا پاکستانی عوام کو کہ جس کو پڑھنا بھی نہیں آتا تھا وہ بھی موبائل ایسے استعمال کرتا تھا جیسے ایم اے انگلش ہو۔ ان دس سالوں میں سوشل نیٹ ورکنگ نے انسان کے دماغ پر پوری طرح سے قابو پا لیا تھا۔ فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر وغیرہ نے اپنا راج قائم کر لیا اور پوری نسل سمٹ کر ایک کمرے میں چلی گئی۔ بچوں نے کھیلنا بند کر دیا۔ آپ خود دیکھ لیں، کھیلوں کے میدانوں کا کیا حال ہے، کیا آج ویسی رونقیں ملتی ہیں؟ جن کو کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا انہوں نے کرکٹ گیم انسٹال کر لی اور جس کو فٹ بال کھیلنے کا شوقین تھا اس نے فٹ بال گیم انسٹال کر لی۔

بہرحال، ان سب کے آنے سے کئی گھروں کی عزت بھی خراب ہوئی اور کئی لڑکے لڑکیوں کی زندگی بھی۔ پہلے بہن بھائی اتفاق سے ایک موبائل استعمال کرتے تھے، پھر سب کو پرائیویسی کا مطلب پتہ لگ گیا۔ پھر ایک کے پاس ایک موبائل آگیا اور یہ موبائل آہستہ آہستہ انسانی جسم کا ایک حصہ بن گیا۔ پھر وای فائی آ گیا سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ گھروں میں بیٹھک لگنا اب بند ہو گئی۔ اس ٹیکنالوجی کے بعد ماں باپ بچوں کو بے وقوف محسوس ہونے لگے۔ باپ جہاں تفصیل مانگتا تھا وہاں اب شکل دیکھنے کو ترس جاتا تھا اور ماں اب بولتی تو ان کے کانوں میں ہینڈز فری لگی ہوتی، اس لیے ڈانٹ بھی لے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اسلام دشمن کبھی مسلمان نوجوانوں کے اتنے قریب نہ تھے، جتنے اب ہیں۔ اب وہ ان کا جیسے چاہے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پورنوگرافی کو ہتھیار بنا لیا اور نوجوانوں کے دماغوں کو اپنے گرفت میں کرلیا۔ انہوں نے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا تصور ذہنوں میں انڈیلا اور فحاشی عام کر دی۔ لڑکوں کو لڑکی پھنسانے کے طریقے بتائے جانے لگے، پرکشش دِکھنے کے طریقے نظر آنے لگے اور ہر وہ چیز وڈیو کلپس کی شکل میں آ گئی جن کے حوالے سے والدین کوشش کرتے تھے کہ گھر میں اس کا ذکر بھی نہ ہو۔ اب نوجوان ان موضوعات پر کھلے عام بولتے ہیں۔ یوں ایک دورمکمل بدل گیا، ذہن خراب، جسم کمزور اور کئی بیماریوں کا گھر، دین سے دوری اور ریاست کے حکمران خواب غفلت میں۔

میں ٹیکنالوجی کا دشمن نہیں ہوں لیکن مقصد توجہ دلانا ہے کہ نئی نسل کہاں جا رہی ہے؟ ہمیں غفلت کی چادر اتارنا ہوگی، کچھ حدود لگانا ہوں گی، بچوں کو انٹرنیٹ کا مثبت استعمال سکھانا ہوگا، معاشرے میں اسلام کی تعلیم عام کرنا ہوگی اور موبائل کی جگہ کتاب سے محبت کو فروغ دینا ہوگا ورنہ ہم خاموشی کے ساتھ دشمن کا نشانہ بنتے رہیں گے۔