چند لمحے اپنی محبوباؤں (کتابوں) کے ساتھ - غلام محی الدین ترک

کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہر سال سجنے والا کتاب میلہ اس بار بھی خوب سجا۔ چاربرس کی غیر حاضری کے بعد اس سال جب میرا جانا ہوا تو اس میلے کی رونقیں عروج پر تھیں۔ اس بار میرے ساتھ میرے نوجوان بھائی سہیل محمد ابراہیم ساتھ نہیں تھے، جن کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ان کے بعد میری جنت، میری پیاری امی بھی رخصت ہوئیں اور امی کے بعد شکیل بھائی بھی چل بسے۔ یہ پےدرپے حادثات تھےکہ جن کی وجہ سے ایکسپو جانے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ اس سال اس میلے کا شدت سے انتظار تھا کہ اچانک ہی افتتاحی روز شدید بخار چڑھ گیا۔ اتوار کو ہمت کرکے کے ایکسپو پہنچا مگرطبیعت کی خرابی کی بناء پر فوراً ہی واپس جانا پڑا۔ تب دل میں خیال آیا کہ کیا یہ سال بھی نئی محبوباؤں (کتابوں) کو اپنائے بغیر گزرجائے گا؟

پیر کا روز میرے لیے نوید مسرت لے کر آیا اور میں ایک بار پھر کتب میلے میں موجود تھا۔ اس میلے میں مجھے کئی بڑے پبلشر اس میلے میں موجود نہ تھے مگر میلے میں ایک خلقت کتابوں کا جشن منانے پہنچی تھی۔ لوگ جوق در جوق کتابوں کی دنیا میں آرہے تھے۔ انھیں کتابوں کی طرف متوجہ کرنا آسان کام نہیں۔ اپنی محبوباؤں یعنی کتابوں کو دیکھ کر میری طبیعت بھی بحال ہورہی تھی۔ کتاب دوست خواتین و حضرات دھڑادھر کتابیں خرید رہے تھے۔

مجھے اکادمی ادبیات پاکستان کے اسٹال کی تلاش تھی، جہاں پر کئی محبوب کتابیں میرا انتظار کررہی تھیں۔ یہاں سے منتخب عالمی کہانیاں(مترجم، محمود احمد قاضی)، نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی کہانیاں(نجم الدین احمد) التوائے مرگ (حوزے سارا ماگو) ای سی او کے رکن ممالک کی منتخب کہانیاں(اختر رضا سلیمی) معاصر چینی افسانے(منیر فیاض) مزاحمتی ادب (ڈاکٹر رشید امجد)خریدیں۔ یہ تمام کتابیں انتہائی رعایتی قیمت پر کتابیں فروخت ہورہی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ سال 2010میں بھی سہیل بھائی بھی ساتھ تھے اور ہم نے سب سے زیادہ خریداری اکادمی کے اسٹال سے ہی کی تھی۔ پاکستان میں اس ادارے کا وجود غنیمت ہے، جس نے بہت کم پیسوں میں دنیا بھر کے قابل ذکر ادیبوں کو ہم سے روشناس کروادیا ہے۔

فرید پبلشرز کے پاس اُردو کے بے مثال نثر نگار مختار مسعود کی آخری کتاب’’ حرف شوق ‘‘نظر آئی تو بغیر کچھ سوچے سمجھے خرید لی۔ اس کا پہلا ایڈیشن جولائی 2017میں شائع ہوا تھا اور دوسرا ایڈیشن ستمبر 2017میں، صرف دو ماہ میں دُوسرا ایڈیشن، کیا بات ہے مختار مسعود کی اور کیا بات ہے ہمارے کتاب دوستوں کی!

میرے بھائیوں کی طرح، میرے بہترین دوست اور بچوں کے ایوارڈ یافتہ ادیب محمد فہیم عالم مکتبہ اقراء کے اسٹال پر نظر آئے۔ ’’آزادی کی کہانیاں‘‘نذیر انبالوی’’اک تھا بت شکن‘‘محمد فہیم عالم اور’’چچا حیرت کی کہانیاں ‘‘محمد ادریس قریشی بھی اسی اسٹال سے خریدیں۔ ایک اسٹال پر مجھےاپنی کتابیں ’’نیکی زندہ رہتی ہے‘‘اور ’’ببلو کا وعدہ ‘‘بھی نظر آئیں۔

بک کارنر، جہلم کے اسٹال سے بچوں کی دو کتابیں احمد عدنان طارق کی ’’ملک ملک کی کہانیاں‘‘ اور محبوب الہی مخمور کی ’’بچوں کی اخلاقی کہانیاں ‘‘ خریدیں۔ دونوں ہی کتابیں خوب ہیں۔ شاباش بک کارنر، جہلم!

بچوں کا خوب صورت ماہنامہ ’’ذوق و شوق‘‘اور معروف صحافی محمود شام کی زیر ادارت شائع ہونے والے رسالے ’’ماہنامہ اطراف ‘‘کے اسٹال بھی خوب تھے۔

چلتے چلتے ایک اسٹال مکتبہ المدینہ پر نظر پڑی۔ ان کے اسٹال پر تفسیر، فقہ، حدیث، سیرت، تصوف اور حکایات کی کئی کتب آدھی قیمت پر مل رہی تھیں۔ ان کتابوں کی جلد بندی، طباعت، کتاب کا لے آؤٹ اور کاغذ کا معیار سب کچھ ہی عمدہ تھا۔ یہاں سے قرآن مجید کی ایک نئی تفسیر ’’صراط الجنان‘‘ خریدی۔ جو کہ ایک نئے مفسر قرآن مولانا قاسم صاحب کی کاوش ہے۔ اس تفسیر کو تحقیقی اصول پر ترتیب دیا گیا ہے۔ مزید دو کتابیں فیضان حضرت ابو بکر صدیق اور فیضان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خریدیں۔ یہیں سے بچوں کی کہانیوں کا ایک رنگین کتابچہ ’’بکری اور زرافہ ‘‘ صرف پچیس روپے میں خریدا، جو ان کے ذیلی ادارے دارالمدینہ پبلی کیشن نے شائع کی تھی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اس مکتبے سے اردو کے علاوہ عربی، انگریزی، فرانسیسی سمیت دنیا کی کئی زبانوں میں کتابیں دستیاب تھیں۔ امید ہے کہ آئندہ نمائش میں ان کے اسٹال سے مزید بہترین کتابیں دستیاب ہوں گی۔

عزیزم اقبال خورشید جو میرے حلقہ احباب میں ایک بہترین کتاب شناس ہیں، میلے میں جانے سے قبل ان سے چند تازہ ترین اہم کتابوں کے نام پوچھے۔ جن میں سے’’وبا کے دنوں میں محبت ‘‘اور ’’سرخ میرا نام ‘‘اب میری لائبریری کی زینت بن چکی ہیں۔ ان کا تجویز کردہ ایک اور ناول اندھا پن نہ مل سکا۔ ان کے لیے دل سے بے اختیار دعائیں نکلتی ہیں۔

کتب میلے میں کئی اور کتابیں بھی خریدیں۔ میلے میں شرکت کے بعداب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ گبریل گارشیا مارکیز ’’وبا کے دنوں میں محبت‘‘کرنا سکھائیں گے۔ محبوب الہی مخمور’’ستاروں سے آگے‘‘اور جہانوں سے روشناس کروائیں گے۔ شعیب خالق’’ٹی وی ڈرامہ کیسے لکھا جاتا ہے ‘‘کے اصول سمجھائیں گے۔ محمد حمید شاہد یہ بتائیں گے کہ ’’افسانہ کیسے لکھیں ‘‘میلان کنڈیرا ’’ناول کا فن ‘‘لکھنا سکھائیں گے۔ نوشاد عادل ’’قصے دڑبہ کالونی کے ‘‘اور احمد عدنان طارق’’ملک ملک کی کہانیاں‘‘سنائیں گے۔

جسٹس جاوید اقبال کی آپ بیتی’’اپنا گریباں چا ک ‘‘مستنصر حسین تاڑڑ کے ناول ’’راکھ اور بہاؤ‘‘بھی لینے کی بڑی خواہش تھی مگر اب جیب میں پیسے تھوڑے سے رہ گئے تھے۔ اب ان کتابوں کے لیے کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑ ے گا۔ اپنی ان محبوباؤں کو اگلی بار اپنے کتب خانے کی زینت بنانے کا سوچ کر گھر کی راہ لی۔ اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے کتابیں خریدنے کی طاقت بخشی۔

کتاب زندگی ہے۔ اس بات کا اندازہ مجھے کتاب میلے میں شرکت سے ہوا۔ میلے میں شرکت سے میری طبیعت بحال ہونا شروع ہوئی۔ زندگی سے بھرپور کچھ لمحے گزرے۔ دعا کرتا ہوں کہ ان لمحوں کی تعداد میں یونھی اضافہ ہوتا رہے۔

خریداری کے بعد کچھ چیزیں بڑی شدت سے محسوس ہوئیں۔ موسم کی مناسبت سے اگر کافی یا نمکو شاپس ہوتیں تو مزا دوبالا ہوجاتا۔ ایکسپو میں موجود کینٹین کا معیار بھی اچھا نہیں۔ اگر آئندہ سال بچوں کی تفریح کے لیے جھولے وغیرہ بھی رکھ لیے جائیں تو لوگوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سال رواں کی اہم کتابوں اور ان کے اسٹال کی نشان دہی کردی جائے تو یہ بھی ایک اچھا کام ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */