امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت - نزہت وسیم

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ یہ اہم فریضہ اسلام نے حکام و علماء، عوام و خواص مرد و عورت، جوان و بوڑھے، چھوٹے بڑے، ملازمین و افسران سب پر برابر کا فرض کیا ہے اور اس ذمہ داری کو ایک ایسی معاشرتی ذمہ داری قرار دیا ہے جس سے کوئی انسان بھی مستثنیٰ نہیں ہے ہر شخص پر اس کی حیثیت و طاقت اور ایمان کے مطابق یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی دلیل اور اساس الله تعالی کا یہ فرمان ہے :

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ ۗ تم ان سب امتوں سے بہتر ہو جو عالم میں بھیجی گئی ہیں، اچھے کاموں کا حکم کرتے ہو اور بُرے کاموں سے منع کرتے ہو اور الله پر ایمان لاتے ہو۔

اس کے علاوہ ارشادِ باری تعالی ہے

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں نیک بات سکھلاتے ہیں اور بری بات سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکاة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں وہی لوگ جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست ہے حکمت والا ۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی الله عنھم اور ہر اس شخص سے جو مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوتا جب بیعت لیا کرتے تھے تو ان سے تنگی و ترشی، خوشی و ناخوشی دونوں حالتوں میں فرمانبرداری اور اطاعت کی بیعت لیتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی وعدہ لیا کرتے تھے کہ وہ جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور حق بات اور الله کا پیغام پہنچانے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی قطعاً پروا نہیں کریں گے۔ امام بخاری ومسلم حضرت عبادہ بن امت رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ پر تنگی و فراخی، خوشی و ناخوشی ہر حالت میں اطاعت وفرمانبرداری پر بیعت کی اور اس پر بھی کہ اگر ہم پر کسی دوسرے کو ترجیح دی گئی تو ہم اسے برداشت کریں گے اور حکام کے خلاف بغاوت نہ کریں گے مگر یہ کہ ہم ایسا کُھلا ہوا کفر دیکھ لیں جس کی مخالفت کرنے کی ہمارے پاس من جانب الله برہان و دلیل ہو اور اس پر بھی بیعت کی کہ ہم جہاں پر بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور الله کا پیغام پہنچانے میں کسی ملامت کرنے والے کی قطعاً پروا نہ کریں گے۔ معاشرے کو افراد اور افراد کو معاشرے پر جو نظر رکھنا چاہیے اس کی مثال نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک کشتی کے ساتھ دی ہے۔ امام بخاری و ترمذی حضرت نعمان بن بشیر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو الله کی حدود پر قائم ہو اور اس کی مثال جو الله کی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہو اس قوم کی طرح ہے جو کشتی میں قرعہ اندازی سے سوار ہوئی ہو اور بعض کو اوپر منزل ملی ہو اور بعض کو نچلی۔ جو لوگ نچلی منزل میں ہوں وہ پانی لینے کے لیے اوپر والی منزل کے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہوں اور اگر نچلی منزل والے یہ سوچ لیں ہم اپنی منزل میں سوراخ کرلیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہ دیا کریں اور ایسی صورتحال میں اوپر کی منزل والے ان کو یہ سوراخ کرلینے دیں تو سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے اور اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں (اور ان کو سوراخ نہ کرنے دیں ) تو وہ خود بھی بچ جائیں گے اور دوسروں کو بھی بچا لیں گے۔

بنی اسرائیل اس لیے لعنت کے مستحق بنے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو برائی سے نہ روکا۔ کوئی انسان بھی الله کی لعنت کا مستحق اس وقت تک نہیں بنتا جب تک کسی ایسے فریضے کو ترک نہ کرے جو اس کے ذمہ فرض ہو۔ اس لیے آیت لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ ( مائدہ ۷۸) بنی اسرائیل میں کافر ملعون ہوئے۔ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنا ہر مسلمان مرد و عورت، جوان و بوڑھے اور چھوٹے بڑے پر فرض ہے۔ اس کے واجب ہونے پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا درج ذیل فرمان مبارک بھی دلالت کرتا ہے جسے امام ترمذی نے روایت کیا۔ جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑ گئے تو ان کے علماء نے انہیں ان سے روکا لیکن وہ لوگ باز نہ آئے اور ان کے علماء پھر بھی ان کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے رہے اور خورد و نوش میں شریک رہے تو الله تعالی نے ان کے دل ایک جیسے کر دیے اور ان پر حضرت داود و عیسی ابن مریم علیھم السلام کی زبانی لعنت بھیجی جس کی اصل وجہ ان کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنا تھا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ٹیک لگائے آرام فرماتے سیدھے بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا کہ نہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جب تک تم انہیں حق پر اچھی طرح سے مجبور نہ کردو۔

بخاری و مسلم حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نہایت گھبراہٹ کے عالم میں تشریف لائے اور آپ یہ فرمارہے تھے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہں، ہلاکت ہو عربوں کے لیے اس شر سے جو قریب آچکا ہے، آج کے دن یاجوج و ماجوج کی سد (دیوار) میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے اور آپ نے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی سے حلقہ بنا کر اشارہ کیا، تو میں نے عرض کیا اے الله کے رسول کیا ہم اس وقت بھی ہلاک کیے جا سکتے ہیں جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں! جب برائیاں عام ہو جائیں۔

اسی طرح امام ترمذی حضرت خدیجہ رضی الله تعالی عنھا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرو ورنہ قریب ہے کہ الله تم پر عذاب نازل فرما دے اور پھر تم دعا مانگو تو اسے بھی قبول نہ کرے اور ابن ماجہ وابن حبان حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے چہرہ دیکھ کر سمجھ لیا کہ کوئی معاملہ درپیش ہے۔ آپ نے وضو کیا اور کسی سے کوئی بات نہ کی میں کمرے کی دیوار سے لگ کر کھڑی ہوگئی تاکہ آپ کی گفتگو سُن سکوں۔ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے الله تعالی کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا۔ اے لوگو! الله تعالی تم سے ارشاد فرماتا ہے کہ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو اس سے قبل کہ تم مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں اور تم مجھ سے سوال کرو اور میں عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد طلب کرو اور میں تمہاری مدد نہ کروں، آپ نے ان سے یہ فرمایا اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اس قدر تاکید اس لیے کی گئی تاکہ ہر مسلمان اپنے معاشرتی اور اجتماعی فریضہ دیکھ بھال و نگرانی کو محسوس کرے ظالم کے ہاتھ کو پکڑ لیا جائے، اور امت کا عقیدہ و اخلاق محفوظ رہے، اس کا وجود و تشخص برقرار رہے اور دوسروں کے ہاتھوں کھلونا بننے اور ظالموں اور جا بروں کے پنجہ استبداد میں جانے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی وہ حدیث سے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص کسی بری بات کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے درست کر دے اگر یہ طاقت نہ ہو تو زبان سے اس پر نکیر کرے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے اسے برا سمجھے یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے۔ اس حدیث سے بعض حضرات اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہاتھ اور قوت بازو کے ذریعے برائی کا مٹانا حکام اور امراء کا کام ہے اور دل سے برا سمجھنا عوام کا کام ہے، لیکن یہ استدلال بے بنیاد ہے۔ اس حدیث سے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان مبارک ( من رأی منکم منکراً ) میں لفظ من عموم پر دلالت کرتا ہے اور ہر کسی شخص کو شامل ہے جو کسی منکر و برائی کو ہاتھ یا زبان سے مٹا سکتا ہو یا دل سے برا سمجھے۔ اگر ہم خود اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے و امت کو ہلاکت و بربادی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف یہ کہ خود اپنی اور اہل خانہ کی اصلاح پر توجہ دینی ہوگی بلکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی غیر اسلامی اقدار اور جاہلانہ رسوم کی بھی سختی سے روک تھام کرنی ہوگی۔

دین اسلام فرد کا انفرادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کی تعلیمات معاشرے کے ہر فرد کی دنیا سے جُڑی ہوئی ہیں۔ ایک اسلامی ریاست جہاں حکام اور امراء کا کام اسلام اور اسلامی قوانین کو پوری طاقت سے نافذ کرنا ہو وہاں فرد کی ذمہ داری اپنے اور اہل خانہ تک محدود ہوتی ہے۔ لیکن جب ریاست اور ذمہ دار حکام دینی فریضہ کے نفاذ سے لاپرواہی برتیں، اسلامی احکام و فرائض کے نفاذ میں دلچسپی نہ لیں تو فرد کی ذمہ داری کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ پھر نہ صرف اس پر اپنی اور اپنے زیر نگیں لوگوں کی ذمہ داری آجاتی ہے بلکہ وہ معاشرے میں موجود ہر فرد جس سے بھی اس کا کسی قسم کا تعلق ہو اس کی اصلاح کا بھی ذمہ دار ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسلامی اقدار و قوانین کی پاسداری کریں اور ان قوانین کے نفاذ میں کسی بھی قسم کی نرمی یا رعایت نہ کریں۔ تاکہ افراد پر سے ذمہ داری کا بوجھ کم ہو اور پورا معاشرہ ہلاک ہونے سے محفوظ رہے۔