تدبر قرآن اور قرآن فہمی کی دو اِقسام ہیں - عادل سہیل ظفر

قرآن پاک میں تدبر کرنے کی اہمیت، فضیلت اورتدبر کرنے والوں کے دِل و رُوح پر اس کے اثر عظیم کے بارے میں کہیں کوئی دو مختلف رائے نہیں پائی جاتیں۔

بہت سے مسلمان تدبر قرآن کی بات کرتے ہیں، سُنتے ہیں، اِس کی دعوت دیتے ہیں، لیکن… اُن کی اکثریت تدبر قرآن کی اہمیت اور فضیلت سننے اور پڑھنے تک ہی محدود رہتی ہے، جِس کا ایک عام سبب یہ وسوسہ ہے کہ"قرآن کریم میں تدبر کے لیے تفسیر کا علم ہونا ضروری ہے، تاکہ جب کوئی آیت پڑی جائے تو اُس میں تدبر کیا جا سکے، اگر تفسیر ہی نہیں جانتے تو تدبر کیا کریں گے؟ "

پس جو مسلمان تو اس وسوسے کے شِکار ہو جاتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اُن کے اور تدبر قرآن کے درمیان نہ طے ہو سکنے والے فاصلے ہیں، بلکہ کچھ لوگ تووسوسوں کے سامنے اِس قدر بے چارگی کا شِکار ہو جاتے ہیں کہ یہ تک کہنے، لکھنے اور ماننے لگتے ہیں کہ تدبر قرآن ہر کس و ناکس کا کام ہی نہیں، جب تک فُلاں فُلاں مفسر کی طرح تفسیر کا علم حاصل نہ کر لیا جائے قرآن پاک میں تدبر جائز ہی نہیں۔

غور کیجیے کہ اِس قِسم کے وسوسوں کی وجہ سے کتنے مُسلمان تدبر قرآن کی لذت سے خود کو محروم رکھے ہوئے ہیں، اللہ کی کتاب کی مِٹھاس سے خود کو دُور کیے ہوئے ہیں، کتنی بڑی خیر اور کامیابیوں اور اپنے درمیان روکاٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

ہم حُسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسے لوگ خود کو تدبر قرآن کے باغات میں داخل ہونے سے نیک نیتی کی بِناء پر ہی روکے رکھتے ہیں کہ کہیں بغیر علم کے اللہ کے بارے میں کچھ ایسا نہ سمجھ لیں جو اللہ کی مُراد نہ ہو، لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اِس مُقام پر یہ خوف دُرست ہے اور یہاں اِس خوف کے مُطابق عمل کرنا مطلوب ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ تدبر قرآن کریم کا معاملہ ایسا نہیں جِس کو اِس مذکورہ بالا خوف کی بِناء پر ترک کر دِیا جائے، کیونکہ یہ حقیقت بالکل واضح ہے، اور اِس میں شک کی کوئی گنجائش تک نہیں کہ قرآن کریم میں تدبر کرنا اور قرآن پاک کی تفسیر بیان کرنا دو مختلف معاملات ہیں، خوب سمجھنے کی بات ہے کہ قرآن کریم میں تدبر دو اقسام میں ہوتا ہے۔

(1) ذہنی معرفت کے مطابق، اُس معرفت کی دُرُستگی، اور اُس میں اضافے کے لیے قرآن حکیم میں تدبر اور قرآن فہمی

(2) قلبی اور اِیمانی معرفت کے مطابق، اُس معرفت کی درستگی کے لیے اور اس میں اضافے کے لیے قرآن حکیم میں تدبر اور قرآن فہمی

پہلی قِسم میں قرآن کریم میں اِستعمال ہونے والے غریب اِلفاظ کی تفسیر کرنا، أَحکام أَخذ کرنا، عقائد کی چھان بین کرنا اور دلائل کی وضاحت کرنا ہوتا ہے۔

یہ وہ کام ہیں جو یقیناً اہل عِلم ہی کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے اُنہیں ہی اِس کی اِستطاعت عطاء فرمائی ہوتی ہے۔

پس وہ لوگ اللہ کے عطاء کردہ عِلم و اِستطاعت اور توفیق کے مطابق اللہ کے کلام کی تفسیر کرتے ہیں فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا تو وادیاں اپنی اپنی طاقت(اِستطاعت، ظرف) کے مُطابق بہہ نِکلیں(سورت الرعد(13)/آیت 17)

پس پہلی قَسم کا تدبر قرآن اور قرآن فہمی ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے، بلکہ ہماری گفتگو کا موضوع دوسری قِسم کا تدبر اور فہم قرآن ہے، جو کہ دِلی إِیمان کے مطابق، اُس إِیمان کی دُرُستگی کے لیے اور اُس إِیمان میں اِضافے کے لیےقرآن پاک میں تدبر کرنا اورقرآن پاک کو سمجھنا ہے۔

یہ وہ تدبر ہے جو کہ قرآن کریم پڑھنے والا ہر قاری،قرآن کی ہر آیت کو پڑھتے ہوئے با آسانی کر سکتا ہے اور اِس کام کے لیے اُس قاری کا تفسیری علوم کا عالم ہونا ضروری نہیں۔

زیر قرأت آیت کریمہ میں تدبر کرنے کے لیے قاری کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آیت مبارکہ کا کسی مذہبی،مسلکی، جماعتی اور فلسفیانہ تعصب کے بغیر ترجمہ جانتا ہو،عام قاری کے لیے قطعا یہ ضروری نہیں کہ وہ تدبر قرآن کے لیےتفسیری علوم کا ماہر ہو، یا کتب تفسیر کا مطالعہ کرے۔ اپنی ز ُبان میں مُیسر، لیکن قرآن کریم اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کے موافق ترجمے کی روشنی میں وہ آیات مبارکہ میں غور و فِکر کرے اور اپنی شخصیت کو اُن کے مطابق پرکھے اگر خود میں کوئی خوشخبری والی صِفت پائے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر معاملہ اِس کے بر عکس ہو تو اللہ کی پناہ طلب کرے اوراپنا محاسبہ کرتے ہوئے اپنی اِصلاح کی کوشش کرے۔

یاد رکھیے کہ دُوسری قِسم کا تدبر و فہم اصل مقصد ہے اور ہر مُسلمان سے بدرجہ اولیٰ اور ہر اِنسان سے مطلوب ہے، اور پہلی قِسم کا تدبر و فہم اِس دُسوری قِسم تک پہنچنے کاایک ذریعہ ہے، پس دوسری قَسم کے تدبر و فہم یعنی اصل مقصد تک رسائی کے لیے یہ ہر گِز ضروری نہیں کہ پہلی قِسم کے اس ذریعے کے بغیر اصل مقصد تک رسائی ممکن ہے۔

امام الحسن البصری رحمہُ اللہ کا کہنا ہے "عِلم دو قِسم کا ہوتا ہے (1) وہ عِلم جو دِل میں ہوتا ہے اور یہی عِلم نفع مند عِلم ہوتا ہے، اور (2)وہ عِلم جو ز ُبان پر ہوتا ہے اور یہ عِلم اللہ کی طرف سے اُس کی مخلوق پر اُس کی حُجت ہوتی ہے۔"

اِس مختصر سی تفصیل کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ تدبر قرآن کے لیے تفسیری عُلوم کا ماہر ہونا ضروری نہیں، کچھ مزید وضاحت کے لیے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ اگر کوئی سورت النبا(78) کی قرأت کرے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھے کہ إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا یقیناً ہم نے تُم لوگوں کو بہت قریب کے عذاب کے سے ڈرایا ہے جِس دِن انسان وہ سب کچھ دیکھے گاجو اُس نے اپنے ہاتھ سے آگے بھیجا ہو گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہو گیا ہوتا(آخری آیت) کیا اِس آیت کریمہ میں تدبر کرنے اور اِس کا فہم حاصل کرنے کے لیے کسی تفسیری علم کی ضرورت ہے؟

جی نہیں، اور بالکل نہیں، اِس آیت مُبارکہ میں تدبر کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قاری اِسے پڑھنے کے بعد کچھ دیر رُکے اور سوچے کہ عنقریب واقع ہونے والے اِس دِن کے لیے اُس نے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اور وہاں اپنے دیکھنے کے لیے کیا بھیج رہا ہے؟اور کافر کیوں یہ چاہے گا کہ وہ مٹی ہو گیا ہوتا؟ یہی تدبر ہے اور اِس کے نتیجے میں قاری سمجھ جائے گا کہ قیامت والے دِن کے کیا معاملات ہوں گے اور اُن کو اچھے طور پر نمٹانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیونکہ غور کر کے، تدبر کر کے، قرآن پڑھنے والا قاری قرآن میں بیان شدہ قیامت کے معاملات کی خبر جانتا ہو گا لہذا، اِس آیت کریمہ میں تدبر کرنے کے لیے، اُس قاری کے لیے تفسیری عُلوم کا عالم ہونا تو کیا، اُن کی جان پہچان ہونا بھی ضروری نہیں۔

اِس تدبر کی مثالیں ہمیں آج بھی اپنے اِرد گِرد ملتی ہیں، مثال کے طور پر ایک دفعہ ایک دِینی علمی اعتبار سے ایک عام سے شخص نے نماز میں إِمام صاحب کو یہ آیات قرأت کرتے ہوئے سُنا وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا؀ لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا اور جب ہم نے نبیوں سے اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے شدید مضبوط عہد لیا ؀ تا کہ(اللہ)سچے لوگوں سے اُن کے سچ کا حال پوچھے اور اُس نے کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے(سورت الاحزاب(33)/آیات 7،8)

تو نماز کے بعد بڑے خوف کی حالت میں کھڑا ہو کر بلند لیکن کانپتی آواز میں کہنے لگا "اے لوگو، اللہ سے ڈرو، اور دیکھو کہ جب نبیوں اور رسولوں کا بلکہ اُن میں سے سب سے زیادہ خیر والوں کایہ معاملہ ہے کہ اُن سے سچائی کے بارے میں پوچھا جائے گا تو ہمارے جیسوں کا کیا حال ہو گا؟ ہم کیا جواب دیں گے؟ " یہ کہہ کر وہ خود بھی زار و قطار رونے لگا اور تقریباً مسجد میں موجود سب ہی لوگ رو پڑے۔

دیکھیے ایک عام سے شخص نے، جو دِینی علوم میں سے چند بنیادی ترین مسائل کے عِلاوہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا، کس قدر دُرُست طور پر قرآن کریم کی اِن آیات میں تدبر کیا۔ یہی اصل مطلوب تدبر ہے جسے میں نے دُوسری قِسم کا تدبر کہا تھا۔

یعنی دِلی إِیمان کے مُطابق، اُس إِیمان کی دُرُستگی کے لیے اور اُس میں اِضافے کے لیےتدبر کرنا، اور اِس کے لیے تفسیری عُلوم کا جاننا ضروری نہیں، لہذا ہم سب کو اِس وسوسے سے دُور رہنا چاہیے اور اپنے رب کی کتاب کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر تلاش کرتے ہوئے اپنے رب کے کلام میں تدبر کرنا چاہیے۔

إِمام ابن القیم رحمہ ُ اللہ کا کہنا ہے "التدبر مفتاح حیاۃ القلب یعنی (قرآن میں )تدبر دل کی زندگی کی چابی ہے ۔"

پس جو کوئی اللہ کی کتاب میں تدبر کرے گا وہ ایسی راحت و سکوں اور سعادت و خوش نصیبی والی زندگی پائے گا جس کی مثال دینا مشکل ہے۔

کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو مخاطب فرما کر یہ خوشخبری عطاء نہیں فرمائی کہ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقرآن لِتَشْقَى(اے محمد)ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں(سورت طہٰ (20)/آیت 2)

جی ہاں اور بلا شک یہ حق ہے کہ قرآن کسی مُشقت کے لیے نازل نہیں کیا گیا، بلکہ قرآن رحمت و سکوں اور دُنیا اور آخرت کی سعادت کے لیے نازل کیا گیا ہے، پس جو کوئی اِس میں نیک نیتی سے اور دُرُست طور پر تدبر کرے گا اللہ تعالیٰ اُس تدبر کرنے والے کو اپنے اِس کلام پاک کے فوائد عطاء فرمائے گا۔ اور جو کوئی اللہ پاک کے کلام کو مادی معایر، پیمانوں، اپنی مرضی، اپنی عقل، اپنے بنائے یا اختیار کردہ فلسفوں، منطقوں، وغیرہ کے مُطابق سمجھنے کی کوشش کرے گا، وہ خود بھی یقینی گمراہی کا شِکار ہو گا اور اپنے ساتھ کئی دُوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ حق پر چلنے کی ہمت عطاء فرمائے، اپنی بات کے اختتام میں امام قتادہ رحمہُ اللہ کی دُعا دہراتا ہوں کہ "میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ میرا اور آپ کا دِل اُس کی کتاب کے فہم کے لیے کُشادہ فرما دے اور اُس کی کتاب میں اُس طرح تدبر کے لیے کُشادہ فرما دے جس طرح کہ وہ ہم سے راضی ہو ۔"

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.