صرف دس کام اور" نیا پاکستان" - اسماعیل احمد

"نیا پاکستان" کا لفظ ایک سیاسی جماعت کا مقبولِ عام نعرہ ہونے کے باعث کافی "بدنام" ہوا ہے لیکن اس کے برعکس نیا پاکستان ہر باشعور پاکستانی کے دل کی خواہش ہے۔ کس کا دل نہیں چاہتا کہ آنے والا پاکستان، گزرے ہوئے پاکستان سے بہت مختلف ہو؟ وہ جو ہمارے بزرگوں نے اور ہم نے اس ملک کے اندر دیکھا، خدا نہ کرے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وہ سب بھگتنا پڑے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ، معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط اور ایک خوشحال ملک ہو، جہاں کوئی مفلوک الحال نظر نہ آئے، کوئی خستہ حال نہ ہو، اور مادرِ وطن اس قدر خوبصورت اور زندگی سے بھرپور ہو کہ یہاں سے باہر جانے کاکسی کا دل نہ چاہے۔ ہم سب کی خواہش ہے کہ ہم تعلیم، صحت، امن و امان، انفراسٹرکچر، گڈ کورننس اور اس کے علاوہ جملہ امور کو نہایت باوقار انداز سے نمٹاتے نظر آئیں۔ مگر صرف خواب دیکھنے سے منزلیں مل جایا کرتیں تو دنیا میں بڑے بڑے کام کرنے والے سارے لوگ اپنا دن سو کر گزارا کرتے۔

آج کے پاکستان سے کافی بہتر، خوبصورت اور خوشحال نیا پاکستان بنانے کے لیے مندرجہ ذیل میں صرف دس ایسے کام دیے جارہے ہیں جن پر عمل اگر پاکستان کی ساری آبادی نہ سہی صرف اکثریتی آبادی ہی کر لے تو پاکستان میں ایک واضح تبدیلی کچھ عرصہ میں نظر آنے لگے گی۔یہ بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی سی باتیں ہیں۔ ایسی چھوٹٰی چھوٹی باتیں جنہیں ہم چنداں اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ چڑیا تنکا تنکا جوڑ کے آشیانہ بناتی ہے۔ بڑی قومیں اپنی بظاہر معمولی مگر حقیقتاً غیر معمولی طرزِ عمل کے باعث عظٰیم قومیں بنی ہیں اور ہم بھی اگر ایسا طرزِ عمل اپنا لیں تو ہمیں بھی بدلتے زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔وہ دس کام یہ ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   خاتون کو برہنہ کرکے تھانے میں بہیمانہ تشدد - رانااعجازحسین چوہان

1۔ اپنے اردگرد کو صاف ستھرا رکھیں۔

2۔ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔

3۔نیوز ٹاک شوز دیکھنے کی بجائے کارٹون نیٹ ورک یا ڈسکوری چینل دیکھیں۔

4۔ہر ملکی اور بین الاقوامی مسئلے میں کسی کی سازش تلاش کرنے کی بجائے انصاف سے اس کو پرکھیں، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہیں۔

5۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا قلع قمع کرنے کےلیے ضروری ہے ہم سب روزانہ کسی بھی کتاب کی بیس سطریں لازماً پڑھیں۔ کیونکہ کتب بینی ہماری سوچ کی سطح کو بلند کرے گی اور عدم برداشت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

6۔وال چاکنگ کو اپنے اختیار والی جگہوں پر روکنے کی پوری کوشش کریں۔ نہ خود کریں نہ کسی کو کرنے دیں۔ وال چاکنگ نے اس ملک کو عجیب و غریب ملک بنا رکھا ہے۔

7۔آپ کا ذاتی کاروبار ہے یا ملازمت پیشہ ہیں یا پھر زراعت، مزدوری سےوابستہ ہیں۔ پورے پیسے لے کے پورا کام کریں۔

8۔ایک سوچ جو نہایت ضروری ہے اپنے اندر پیدا کریں کہ آپ بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں ریاست کو کم و بیش پندرہ قسم کے ٹیکس دے رہے ہیں جبکہ حکومتوں کے طبلچیوں نے بڑے عرصے سے یہ بے پرکی اڑا رکھی ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتی۔ اب اس کے بدلےاگر حکومتیں آپ کو ہسپتال، سکول، کالج، سڑکیں اور ڈیم وغیرہ بنا کر دیتی ہیں تو کوئی احسان نہیں کرتیں، آپ کے ٹیکس کا بڑا حصہ بھی ان نااہلوں کی بد انتظامیوں اور چالاکیوں کے باعث آپ تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس لیےانفرا اسٹرکچر کے کسی منصوبے پر سیاسی شخصیتوں کی تصاویر دیکھ کر ممنونیت کا شکا ر مت ہو جائیے۔

9۔کچھ حالات کے جبر اور کچھ سیاسی اورمیڈیائی تربیتوں کے باعث ہم پاکستانیوں کے اخلاق بہت برے ہو گئے۔ حالانکہ برے حالات تو ہم سے زیادہ اچھے اخلاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس لیے اپنے اخلاق کو ہمیشہ بلند رکھیں۔بہت اچھا جگت باز ہونے کی نسبت زیادہ بہتر یہی ہے کہ ہم پاکستانی ناگوا ر بات پہ خاموش ہو جایا کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان پر یوٹرن کے اثرات - محمد ساجد الرحمن

10۔جو لوگ دو دو، چار چار اور آٹھ آٹھ سالوں بعد اپنے اصلی ملکوں کو لَوٹ جاتے ہیں، پاکستان ان کا نہیں ہمارا ہے جنہوں نے ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔ اس لیے اپنا گھر سمجھ کر پاکستان کی فکر کیجیے۔ الغرض میرے عزیز ہموطنو! ایک ذمہ دار پاکستانی ہوتے ہوئے عمل میں اتریں اپنے آئینی قانونی انسانی حق کو پہنچانیں اور اپنے دنیاوی آقاؤں سے جواب طلب کرنے کی جرات پیدا کریں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.