انقلاب، ریفارمز، احتجاجی تحریک اور عوامی نفسیات (2) - وقاص احمد

پچھلے مضمون میں کہا گیا تھا کہ آئندہ تاریخی حوالوں سے انقلاب، ریفارمز اور احتجاجی مطالباتی تحریک میں فرق واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اور یہ بحث بھی کی جائے گی کہ آخر یہ کیوں وقوع پذیر ہوتے ہیں، لوگ کیوں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یا جماعتیں اور تنظیمیں کیوں لوگوں کو منظم کرکے احتجاج پر آمادہ کردیتی ہیں، کیوں ایک چلتے ہوئے نظام میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے، جہاں ایک اقلیت، ’’سٹیٹس کو‘‘ میں خوش باش اور آسودہ حال ہوتی ہے؟

تاریخی حوالوں سے انقلاب، ریفارمز اور احتجاجی مطالباتی تحریک میں فرق

گوکہ عام فہم معنوں میں یہ بات درست اور مستعمل ہے بلکہ اور دوسری ڈکشنری -ویب سائٹس پر موجود بھی ہے کہ ’’سیاسی انقلاب ‘‘ کا یہی مطلب ہے کہ موجودہ حکومت کوختم کرکے نیا سیاسی آرڈر لے آیا جائے، جو اضافی طور پر اگر اس کے نظریات کا حصہ ہو تو معاشی اور سماجی آرڈر بھی تبدیل کردے۔ امریکا، فرانس، روس، کیوبا،، چین، ایران کے انقلابات میں جہاں معاشی اور معاشرتی سطح پر چیزیں تبدیل ہوئی ہوں یا نہ ہوں جو ایک چیز سب میں موجود تھی وہ تھی اسوقت کے حکمرانوں کا قتل، گرفتاری، فرار یا جلاوطنی۔ انقلابات میں قتل و غارت، تشدد، مارپیٹ کا معاملہ کم یا زیادہ ہوسکتاہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی جھڑپ ہی نہ ہو۔ اس مفہوم کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے سارے ’’ملٹری کُو ‘‘ کو فوجی انقلابات کہا جاسکتا ہے گو کہ ان سے کوئی قابلِ ذکر سماجی اور معاشی تبدیلی نہیں آئی۔ سیاسی طور پر بنگالیوں کی انقلابی تحریک سے آدھا حصہ ہم نے گنوا دیا۔ مفہوم کے اسی تناظر میں پاکستان میں بڑی تبدیلیوں کے لیے ہم انقلاب کا لفظ استعمال کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اور اس کے بجائے حقیقی دباؤ والی احتجاجی تحاریک اور موومنٹ کا نام استعمال کرلینا بہتر ہے۔

اسی مقام پر مناسب ہوگا کہ ریفارمز یعنی اصلاحات پر بھی بات کر لی جائے۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے الیکشن میں وعدوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق معاشی، سماجی آرڈر میں کوئی بڑی تبدیلی یا کسی ذیلی نظام، جیسے احتسابی نظام یا الیکشن نظام میں بنیادی یا واضح تبدیلی، آئینی و قانونی طور پر کرنا ریفارمز یا اصلاحات کہلاتا ہے۔ اصلاحات پر غور و فکر اور اس کی تیاری ایک تدریجی عمل ہوتا ہے۔ عوامی مفاد کی کوئی خاص اصلاحات، اگر نئی ہے تو اسپر عوام کی ذہن سازی بھی کی جاسکتی ہے اور رائے عامہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں عوام ان اصلاحات کی یا تو حمایت کرتی ہے یا پھر مخالفت۔ معا ملہ کی دینی، قومی، جذباتی، علاقائی، طبقاتی یکسانیت، ہمہ گیریت کو دیکھتے ہوئے احتجاجی تحریک کی سمت و ولولہ انگیزی، دورانیے اور سب سے اہم طاقت و وسعت کا تعین و اندازہ ہوتا ہے۔ نامو س ِ رسالت اور ختم نبوت کی تحاریک اس کی مثال ہیں۔

لیکن اگر کوئی سیاسی پارٹی مثال کے طور پر بینکنگ ریفارمز چاہتی ہے، کوئی پارٹی ایک زبر دست، مربوط، جامع، آزاد اور شفاف احتسابی نظام بنانا چاہتی ہے لیکن وہ پاکستان میں رائج الیکٹورل نظام کی دھاندلیوں اور خامیوں کی وجہ سے یا ویسے ہی ایلکشن ہار جائے تو اسے پانچ سال انتظار کرنا ہوتا ہے۔ پہلے انتخابات جیتنے کے لیے اور پھر ریفارمز کے لیے۔ مطلوبہ اکثریت نہ ملنے پر دوسری پارٹیوں سے مذاکرات و ’’مفاہمت ‘‘ کی جاتی ہے۔ اس لیے ریفارمز کا بالکل خالصتاً، جمہوری نظام کے اصولوں کے تحت ہونا، ایک تدریجی سفر ہے جو ہوسکتا ہے کبھی سفر مکمل نہ کرسکے۔ دوسری طرف پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ’’جمہوریت ‘‘ کے بچاؤ، آئین میں حکومتی اختیارات کی تقسیم کہ اشرافیہ میں سے کون کیا مرکز میں سنبھالے گا اور کون کیا صوبوں میں، انہی باتوں پر ہلچل مچتی ہے۔ حکومت اور پارلیمنٹ انہی چیزوں پر متحرک ہوتےہیں۔ تبھی ان ’’قابلِ احترام ‘‘ روایتوں کی پاسداری کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کی سینکڑوں تجاویز پارلیمنٹ میں زیرِ غور بھی نہیں آتیں۔ زمینداروں سے ٹیکس لینے کے معاملے میں پوری اسمبلی سارے اختلافات بھلا کر ایک طرف ہوجاتی ہے، ٹیکس ریفارمز کے حوالے سے صرف اور صرف تنحواہ دار طبقہ پھنستا ہے اور عوام کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ (مگر صرف کچھ عرصے کے لیے ہی یہ اثر رہتا ہے کیونکہ اس کے بعد ووٹ انہی جماعتوں کو پڑتا یا پڑجاتا ہے۔)

یہ بھی پڑھیں:   مظفر آباد تا چکوٹھی سیز فائر لائن احتجاجی مارچ - چودھری وقاراحمد بگا

لیکن جب کوئی عوامی نوعیت کی اصلاحات، اپوزیشن یا کسی اور تنظیم کے دبادٔ میں حکومت وقت کرے تو یہ دوسری بات ہے۔ اس کا حکومت کو کوئی خاص کریڈٹ نہیں ملتا کیونکہ وہ اعمال و اقدامات تو حکومت نے آئندہ دسیوں سالوں میں بھی نہیں کرنے ہوتے۔ چونکہ یہ سارا عمل عوام کےدبادٔ کے نتیجے میں ہوتا ہے اور حکومت کی مزاحمت کے نتیجے میں تصا دم اور ٹکراؤ کا خدشہ بھی رہتا ہے اس لیے اس کے نتیجے میں جو حالات و واقعات پیدا ہوتے یا ہوسکتے ہیں اور ایک طرح سے انقلابی خصوصیات رکھتے ہیں۔

کبھی کبھی سیاسی عوامل و نتائج کے حساب سے، دیکھنے میں بڑے لیکن قانونی طور پر قدرے معمولی کاموں کے لیے بھی حکومت کو مجبور کیا جاتا ہے۔ جیسے ججز کی بحالی تحریک کو ختم کرنا ایک ایگزیٹو آرڈر کا کھیل تھا۔ فیض آباد کا دھرنا ختمِ بنوت سے متعلق شقوں کی بحالی اور وزیرِ قانون کے استعفیٰ کے لیے تھا۔ ماضی میں زکوٰۃ کے حوالے سے شیعہ برادری، ضیاءالحق کے آہنی دور میں اپنے مطالبات منوا چکی ہے۔ توہین رسالت بل میں چھیڑ چھاڑ بھی مذہبی جماعتوں کے احتجاج سے رکی۔ اینٹی قادیانی تحریک البتہ ایک بڑی آئینی ترمیم پر ختم ہوئی۔ جس میں باقاعدہ پارلیمنٹ میں طویل بحثیں اور کارروائیاں ہوئیں۔
ل
یکن یہ بات شریعت میں مسلمہ ہے کہ فتنہ اور فساد کے پیشِ نظر مسلمان حکومتوں کے ہٹا نے کے لیے خروج چاہے وہ غیر مسلح ہی کیوں نہ ہو ناجائز ہے چاہے حکمران کھلے فسق و فجور کا مظاہرہ ہی کیوں نہ کر ہے ہوں۔ براہِ راست حرام کا حکم عوام کو دے رہے ہوں یا کھلے ظلم کا ارتکاب کر رہے ہوں۔ اس معاملے میں سول نا فرمانی اور احتجاج تو ہو سکتا ہے لیکن حکومت کو ہٹانے کی مہم جوئی شرعاً ٹھیک نہیں۔ اس معاملے میں علماء مزید راہنمائی کر سکتے ہیں لیکن مسلح خروج کی مسلم معاشروں میں شرعی حوالوں سے ممانعت ہے۔ اسی طرح جن ممالک میں عوامی نمائندوں کی طرف سے کوئی متفقہ آئین نافذہے اس کے لحاظ سے بھی یہ آئین شکنی ہے۔ لیکن جو سوال مضمون میں بار بار اٹھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر مطالبات اخلاقی، دینی، قومی، تاریخی، قانونی اور آئینی لحاظ سے ٹھیک ہو، حق ہو اوراخلاقی، سماجی اور معاشی اقدار اور نظریات کے حوالے سے بڑی تبدیلی اور اصلاح کا تقاضہ کرتا ہو تو تحریک کے قائدین اور عوام کس حد تک جاسکتے ہیں۔ اس بات پر آگے ہم غور کرتے ہیں۔

غیر مسلح احتجاجی تحریک، اس کی نفسیات اور اس کی متوقع شدت

عوام میں سے ہی کسی تحریک یا پریشر گروپ کا منظم ہو جانا قطعاً بعید از قیاس نہیں ہوتا۔ یہ اکثر ایک طویل پراسس کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مقصد کے حصول کے لیے اگر مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں کا فرق اور شرعی بحثوں کو اگر کچھ دیر کے لیے الگ رکھا جائے تو کشمیرو فلسطین کے عوام کس حد تک خطرہ مول لیتے ہیں ہمارے سامنے ہے۔ انسانی ردّعمل کی نفسیات ِ میں یہ ایک عام سی بات ہے۔ آپ اپنی اولاد کے لیے خدا نا خواستہ اگر وہ بیمار ہے اور اس کے علاج کے لیے ایک خاص رقم درکار ہے جو آپ کے پاس نہیں ہے تو آپ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ چوری، ڈاکہ تو غیر شرعی اور جرائم ہوگئے مگر زمینی حقائق میں یہ آپشن ختم نہیں ہوجاتا اور اہل ِ حکمت اور دانش بعض مجبوریوں اور نفسیاتی مسئلوں پر نظر رکھتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے ایسے ہی نہیں قحط کی انتہائی حالت میں چوری پر حد کی سزا موقوف کردی تھی۔ خیر، آپ گھر کا سامان بیچ سکتے ہیں۔ دو نوکریاں کرسکتے ہیں۔ کسی سے قرض مانگ سکتے ہیں اور قرض مانگنے میں کافی عاجز بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ذرا سوچیں! اگر آپ کا کوئی دوست جسکے مالی حالات آپ سے بھی بد تر ہوں اگر وہ یہ کام آپ کے لیے کرے جو ابھی گنوائے گئے صرف اللہ کی رضا اور آپکی مدد کے لیے تو آپ کے کیا جذبات ہونگے۔ کیا ایثار و قربانی، اپنے اوپر کسی اور کو ترجیح دینا جیسے جذبات صرف کتابوں میں پڑھنے کے لیے ہیں۔ صحابہ ؓکے واقعات سنانا بس تقریروں میں اثر پیدا کرنے کے لیے رہ گیا ہے۔ دنیا کیا ان لوگوں سے خالی ہو گئی ہے جن میں صحابہ ؓ جیسے اوصاف کی رمق بھی نہ ہو۔ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کس نے آپ کی زندگی بدل ڈالی؟ محمد عامر خاکوانی

اگر کچھ لوگ کہیں ساتھ جارہے ہوں اور دیکھیں کہ ایک شخص کسی عورت کے ساتھ دست درازی کر رہا ہے اور اس کے پاس خنجر بھی ہے تو ایمان، شجاعت اور بہادری کے لحاظ سے لوگوں میں سے ہر شخص کا رد عمل اور رویہ، واقعہ کو بالکل نظر انداز کرکے تیزی سے موقع سے بھاگ جانے سے لیکر اس بدمعاش سے باقاعدہ جسمانی مقابلہ کرنے تک کئی طرح کا ہوسکتا ہے۔ رخصت سے عزیمت تک کئی راستے اور ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ اور یہی بات سمجھنا ضروری ہے۔
ک
سی تحریک یا گروپ کی طرف سے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے، (بالکل فرضِ کفایہ کی طرح) مطالبے کی اہمیت، مسئلے کی سنگینی اور ابتر صورتحال کو سمجھتے ہوئے، گھر میں چادر اوڑھ کر مونگ پھلیاں کھانے اور ملکی صورتحال پر صرف تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے حکمرانوں کی طرف سے بے حسی اور مایوس کن رویہ دیکھتے ہوئے، عوام میں حرکت پیدا کرتے ہوئے ایک خاص تعداد میں لوگوں کا مطالبات لے کر سڑکو ں پر لے آنا، احتجاج و ہڑتال و گھیراؤ کی کوشش کرنا ایک ہمت و عزیمت والی کوشش ہوتی ہے۔ ایسی تحریک عوام میں مطالبات کے حوالے سے دعوت و تبلیغ کا کام کر کے انکے جذبات کی ترجمان بن جاتی ہے۔ اس تحریک کا آگے چل کر کوئی فیصلہ کن قدم، عوام کو، میڈیا کو تجزیہ کاروں کو اچانک اور غیر متوقع ہونے کی وجہ سے کسی انقلابی تحریک کی طرح لگتا ہے۔ وہ اسے سیاق و سباق سے با لکل ہٹ کر جتھوں کی حکومت بھی کہہ سکتے ہیں۔

پاکستان کے خاص حا لات میں جہاں مسائل کے انبار ہیں۔ عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ دین ِ اسلام کے نظریات اور طرز حکمرانی کے مخالف کام ہو رہا ہے جن کو میں مضمون میں بار بار دوہرا بھی رہا ہوں۔ وہاں اصلاحات کا نام لینے والی جماعتیں اور تنظیمیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر وہ پاکستان میں واقعی موجود ہیں اور واقعی وہ اپنے کام سے مخلص ہیں تو انکی محض حمایت کرنا اور یا انکو ووٹ دے دینا رخصت کا طرز عمل ہے۔ خاص طور پر اُس قوم وملک میں جس کے اجتماعی شعور میں، تاریخ میں، یاد داشتوں میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی پوری زندگی کا طرز عمل اور عکس موجود ہو۔ یہ جہاد کے وسیع مفہوم میں مرد کی پسپائی ہے۔ چاہے جائز مجبوری ہو یا نا جائز۔ شرمندگی دونوں صورتوں میں ہے۔ چاہے وہ شخص، عزیز و اقارب اور والدین کے لیے بہترین کیوں نہ ہو۔ اخلاق اس کے اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ دھوکہ دہی اورخیانت سے بچا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ ویسے اس پر رسول اللہ ﷺ کی حدیث یاد آئی جسمیں آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میرا خلاق جہاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی نہی عن المنکر والی حدیث یہی درجات سمجھاتی ہے۔ اس کی روشنی میں تو جو نیچے والا ہے وہ اوپر والے پر تنقید کے بجائے اس کے لیے دعا کرے۔ اس کی خامیوں پر پردہ ڈالے، اس کی نیت پر خوامخواہ شک نہ کرے۔ خود اگر کسی وجہ سے اس میں کم ہمتی، سستی اور کاہلی ہے تو اپنے اندر ان چیزوں پر قابو پانے کی کوشش کرے نہ کہ فکری اور نظری طور ان کمزوریوں کو اصول بنالے۔ مجاہدانہ طرز عمل یہ ہوگا کہ ہم مخلص احتجاجی اور مطالباتی تحاریک کے دست و بازو بنیں۔

اگلے مضمون میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا کسی بھی مطالبے پر اگر پانچ ہزار لوگ جمع ہوجائیں تو مطالبہ جائز ہو جاتا ہے؟ اور ریاست یرغمال ہوجاتی ہے؟۔ یا اسمیں ہم سب کو، خاص طور پر تجزیہ کاروں، دانشوروں کو کچھ اصولوں کے تحت تفریق کرنا چاہیئے۔ اس پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی قسم کی سطحی بات ہم سب پر، خاص طور پر لبرل طبقات پر پاپولر وکلاء تحریک، امریکا کی سول رائٹ موومنٹ، مصر کی تحریر اسکوائر موومنٹ اور انیسویں صدی کی مزدور تحریکیں (جس پر ہم سب یکم مئی کو چھٹی بھی مناتے ہیں ) بھی ناجائز، تکلیف دہ، وقت کا زیاں اور جتھہ بازی ثابت ہوجائیں گی۔

(جاری ہے)

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • […] پچھلی قسط سلسلہ کے اس تیسرے مضمون میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا کسی بھی مطالبے پر اگر پانچ ہزار لوگ جمع ہوجائیں تو کیا وہ مطالبہ جائز بن جاتا ہے؟ اور ریاست یرغمال ہوجاتی ہے؟ ۔ کیا ایک ناحق مطالبہ صرف زیادہ افراد کے احتجاج کی وجہ سے حق اور ایک حق بجانب مطالبہ ایک یا چند لوگوں کے کھڑے ہونے کی بنا پر ناحق تصور ہوتا ہے؟ یا اس میں ہم سب کو، خاص طور پر تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو کچھ اصولوں کے تحت تفریق و تمیز کرنا چاہیے؟۔ اس معاملے پر سطحی، یک رخی اورمعمولی درجہ کی گفتگو کے بجائے، حکیمانہ گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ وہ کیا حا لات ہوتے ہیں، وہ کیا مجبوریا ں ہوتی ہیں اور وہ کیا مطالبات ہوتے ہیں جو کسی کٹھن، تشنہ و بے مراد سفر سے گزرنے کے بعد پاکستان جیسے’’ جمہوری، پارلیمانی نظام‘‘ میں بھی لوگوں کو دھرنے اور احتجاج پر مجبور کردیتے ہیں۔ مضمون میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ بعض حلقے کیوں خائف رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ ایسے تو کوئی بھی جتھہ آئے گا لوگوں کی زندگی اجیرن کرے گا اور اپنے مطالبات چاہے وہ کیسے ہی کیوں نہ ہو منوا کر چلا جائے گا۔‘‘ ’’ ریاست جتھوں اور ہجوم کے سا منے یرغمال بنتی رہے گی‘‘۔ […]