’’اٹکے بوڑا پاکستانی‘‘ – احسان کوہاٹی

’’ہم ایسا بھکاری نہیں ہے، سب کچھ تھا ہمارے پاس، مال دولت عزت گھر سب کچھ تھا جو ہم نے پاکستان پر لٹا دیا، قربان کر دیا لیکن ہمیں ملا کیا؟ ہمارے ساتھ الطاف حسین نے بھی غداری کیا اور نوازشریف نے بھی،بے نظیر بھی ادھر آئی تھی اور ہمیں پانچ لاشوں کا تحفہ دے کر گئی تھی،ہم اس سے ملنے کے لیے گئے، اس نے ملنے سے انکار کردیا۔ پولیس نے فائرنگ کی اور پانچ پاکستانی شہید ہوگئے۔ پاکستان کے پاس بنگالیوں کے لیے جگہ ہے، ہاں! تیس لاکھ افغانی رہ سکتا ہے، نہیں ہے تو ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ادھر ہم کس حال میں رہ رہا ہے کسی کو خبر ہے؟ آج بھی کیمپ میں 80 فیصد لوگوں کا گھر ایسا ہے جہاں ایک وقت کھانا بنتا ہے۔ بس اب امید دم توڑ گیا، اب ہمیں موقع ملا تو بنگلہ دیش کے ساتھ رہے گا!‘‘ڈھاکہ کے جنیوا کیمپ میں مقیم عبدالجبار خاں کی غم و غصے سے لرزتی آوازسیلانی کو بحیثیت ایک پاکستانی کے شرمندہ کیے دے رہی تھی۔ سچ میں اس کا سر شرم سے جھکا جا رہا تھا کہ وہ ایک ایسی قوم کا فرد ہے جس کی پیشانی بے وفائی کے الزام نے داغ رکھی ہے۔

16 دسمبر کا سورج بہت سی تلخ یادیں لیے طلوع ہوتا ہے، اس دن سیلانی کا پاکستان آدھا ہو کر رہ گیا تھا، اس کا ایک بازو کاٹ ڈالا گیا تھا،ڈھاکہ سے سبز ہلالی پرچم لپیٹ کربنگلہ دیش کا پرچم لہرا دیا گیا تھااور اس سانحے کے اگلے روز پڑوس میں مغرور اندرا گاندھی نے لوک سبھا میں سر اٹھا کرنخوت سے کہا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا۔ اس جملے کی کاٹ آج بھی ہر وہ پاکستانی محسوس کر سکتا ہے جس کے دل میں ذرا بھی پاکستانیت ہو۔

اس بار بھی 16 دسمبر کا سورج سیلانی کے لیے اضطراب، بے چینی اور افسردگی لیے طلوع ہوا۔ سقوط پاکستان یاد آیا تو سیلانی کو وہ سچے اور کھرے پاکستانی بھی یاد آگئے جنہیں ہم وطن سے محبت کی سز ادے کر خود کو دنیا بھر میں رسوا کر رہے ہیں۔ یہ وہی پاکستانی ہیں جنہوں نے 47ء میں گھر بار،جائیدادیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھارت کے بہار، اڑیسہ، آسام، کلکتہ سے پاکستان کے لیے ہجرت کی تھی اور تب کے مشرقی پاکستان میں آبسے تھے لیکن 71ء میں ایک بار پھر انہیں ان کی اولادوں کو ہجرت درپیش تھی جس وطن کے لیے انہوں نے گھر بار چھوڑا تھا آج وہی وطن پرایا ہوچکا تھا۔ پاکستان سے محبت نے انہیں ’’غدار‘‘ اور ’’رضاکار‘‘ بنا دیا تھا۔ 71ء میں پاک فوج کی مدد کرنے والوں کو بنگالی قوم پرست رضاکار کہہ کر زمین پر تھوکا کرتے تھے، بنگلہ دیش بننے کے بعد ان پاکستانیوں نے اپنے لیے بچے کھچے پاکستان کا انتخاب کیا۔ اس انتخاب پر انہیں بنگلہ حکومت نے ہانک کر شہر سے دور کیمپوں میں محصور کر دیا کہ جب تمہارے پاکستان کو تمہارا خیال آئے گا تو یہاں سے چلے جانا۔1974ء میں اس حوالے سے ایک بنگلہ دیش اور پاکستان حکومت کے مابین معاہدہ بھی ہوا۔ مہاجر کیمپوں کی کھولیوں میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کرنے والے پاکستانیوں کی آس بندھی کہ اب سبز ہلالی پرچم والا طیارہ لینڈ کرے گا اور66 کیمپوں میں سسکتے محصورین کو ان کے وطن لے جائے گا لیکن یہ پرواز 47ء برسوں میں بھی پاکستان سے ٹیک آف نہ کرسکی، ’’اٹکے بوڑاپاکستانیوں‘‘ کا انتظار ختم نہ ہوسکا،ان محصورین کے لیے ذرا نرم گوشہ رکھنے والے انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں جس کے معنی ’’اٹکے ہوئے پاکستانی‘‘ کے ہیں۔

سیلانی اس وقت روزنامہ امت کے دفتر سے فون پر انہی اٹکے ہوئے پاکستانیوں کے بزرگ راہنما عبدالجبار خان سے بات کر رہا تھا۔ بات کیا کر رہا تھا؟ شرمندہ شرمندہ سرجھکائے ان کی کھری کھری سن رہا تھا۔ وہ پاکستان اور پاکستانیوں سے خاصے ناراض تھے اور کیا اب بھی نہ ہوتے؟ 1971ء سے 2017ء تک 47 برس ہوگئے ا ن کے انتظار کو، 47 برس پہلے جو بھرپور جوان تھے اور اب بڑھاپے کی دیمک نے ہڈیوں سے گوشت ڈھلکا دیا ہے۔ وہ اب78برس کے ہو رہے ہیں ان کی زندگی کی کئی دہائیاں مہاجر کیمپوں کی غلاظت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور اب تو ان کیمپوں میں آنکھ کھولنے والے بھی جوانی گزار کر بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہیں۔ 47 برس بہت ہوتے ہیں، عمر قید بھی چودہ برسوں میں کٹ جاتی ہے۔

سیلانی نے عبدالجبار خاں صاحب کا نمبر کراچی کے حید علی حیدر صاحب سے لیا تھا۔ حیدر بھائی اور جماعت اسلامی والے ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں سقوط کا دن یاد رہتا ہے۔ جماعت اسلامی کو چھوڑ کر کسی جماعت کو یہ زحمت بھی نہیں رہتی کہ وہ سقوط ڈھاکہ پر بھاڑے پر رکھے گئے پی آر او سے چھ سطر کی پریس ریلیز ہی جاری کروادیں۔ حیدر علی حیدر، بریگیڈئیر صلاح الدین صاحب کے ساتھ مل کر ایک چھوٹی سے این جی او بھی چلاتے ہیں۔ ان کی یہ این جی او کراچی پریس کلب کے قریب سقوط ڈھاکہ پر پروگرام رکھنا نہیں بھولتی۔ سیلانی نے حیدر بھائی ہی سے عبدالجبار خان صاحب کا نمبر لیاتھا اور اب وہ ان سے مخاطب تھا

’’جبار صاحب! یہ بتایئے گا کہ… ‘‘سیلانی کی بات بیچ ہی میں رہ گئی دوسری طرف سے اسے سخت لہجے میں کہا گیا’’پہلے ہماری سنیے!‘‘

’’جی، جی، جی فرمایئے ‘‘

’’دنیا میں دو ہی نظریاتی ریاستیں ہیں، ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل،اسرائیل دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے پشتیبان ہے۔ اس نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیو ں کو ویلکم کیا، انہیں اپنے یہاں آباد کیا روزگار، رہائش دی، ان کے بچوں کو ہر سہولت دی اور پاکستان نے کیا کیا؟ان 66 کیمپوں میں پڑے ہم چار لاکھ ہیں ہی کتنے؟ پھر ہم پاکستانی ہیں ہم اپنے وطن آنا چاہتے ہیں، وہاں رہنا چاہتے ہیں، وہاں مرنا چاہتے ہیں، ہمیں کیوں نہیں آنے دیا جا رہا؟ پاکستان کے لیے ہم نے کیا نہیں کیا؟ اور پاکستان نے ہمیں جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ ہم سے الطاف حسین نے غدار ی کی اس نے محصورین کا نام استعمال کیا لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، نوازشریف سے امید تھی اس نے بھی کچھ نہیں کیا،نوازشریف کے والد بھی تو مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آئے تھے، بھٹو خاندان نے انگریزوں کی چاکری کرکے جاگیریں لیں لیکن ہم جنہوں نے پاکستان کے لیے سب کچھ قربان کیا ہمیں کیا ملا؟‘‘

سیلانی نے عبدالجبار صاحب کو کہنے دیا ان کے دل میں ناراضگی کی آنچ ذرا کم ہوئی تو ان کا لہجہ بھی کچھ نارمل ہوگیا۔ وہ سیلانی کے سوالوں کے جواب دینے لگے، بتانے لگے کہ ہم یہاں کھولیوں میں رہتے ہیں ایک ایک کمرے میں چھ چھ سات سات افراد رہ رہے ہیں،گندگی غلاظت کی وجہ سے بیماریاں عام ہیں،ہمارے بچے کسی نہ کسی طرح پڑھ لکھ تو لیتے ہیں لیکن انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، نوکری کے لیے شناختی دستاویزات درکار ہوتی ہیں کسی گھر کا پتہ چاہیے ہوتا ہے اور جب ہمارے بچے بتاتے ہیں کہ وہ جنیوا کیمپ میں رہتے ہیں تو انہیں اٹکے بوڑا کہہ کر واپس کر دیا جاتا ہے۔ اچھی ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ جس غربت میں انہوں نے آنکھ کھولی تھی آج بھی وہ اسی میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ’’آپ ہمیں بتاؤ ان بچوں کا کیا مستقبل ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عبدالجبار صاحب نے سیلانی سے پوچھا آپ ہمیں بتایئے گا کہ معاہدہ ہوا تھا کہ میاں چنوں پنجاب میں ہمیں آباد کیا جائے گاتو پھر ہمارے لیے پاکستان کی زمین تنگ کیوں پڑ گئی؟‘‘

’’اس ساری صورتحال میں نئی نسل کیا کہتی ہے؟‘‘

’’کیا کہنا چاہیے،وہ اب بنگلہ بولتی ہے انہیں اپنی زبان زیادہ نہیں آتی اور اب وہ پاکستان آنا بھی نہیں چاہتے، جن کے بہن بھائی پاکستان میں رہتے ہیں وہ پاکستان آنا چاہتے ہوں تو چاہتے ہوں لیکن اب ہم سب پاکستان سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ہمیں بنگلہ دیش کی شہریت کی پیشکش دی گئی تو اب ہم نہیں ہچکچائیں گے۔ بنگلہ حکومت کا رویہ اب ہمارے ساتھ بدل گیا ہے حسینہ واجد سے میں پانچ بار مل چکا ہوں، میں ان کے پاس جا کر کیمپوں کی زندگی کا حال بتاتے بتاتے رو پڑا اور وہ بھی روپڑیں ‘‘۔

عبدالجبار خاں صاحب کی زبانی یہ سن کر سیلانی کو زیادہ حیرت نہیں ہوئی اگر وہ آج بنگلہ دیش کو پاکستان پر ترجیح دے رہے ہیں تو اس کے پیچھے 47 برس کی بے وفائی کی وہ طویل داستان ہے جس کے ہر موڑ پر جنم لیتی امید کو مایوسی کا اژدھا نگلتا رہاہے۔ ڈھاکہ کے جنیوا کیمپ کے سامنے ہی زندگی ساری رعنائیوں کے ساتھ موجود ہے، وہاں موجود فلیٹوں کی قیمت دو دو کروڑ ٹکا ہے جبکہ یہاں زندگی سسک رہی ہے اور انسانیت پشیمان ہے۔ ریاست کو ماں کہا جاتا ہے،ایسی ماں جو کبھی بھی، کہیں سے بھی پلٹ پڑنے والے بچوں کو آغوش میں لے لیتی ہے، سینے سے لگا لیتی ہے۔ یہاں معاملہ ہی الٹ ہے 20 کروڑ پاکستانیوں کی دھرتی، چار لاکھ پاکستانیوں کے لیے چھوٹی پڑرہی ہے۔ سیلانی میں زیادہ دیر عبدالجبارصاحب سے بات کرنے کی سکت نہیں تھی اس نے ٹھنڈی سانس بھرکر ان سے بحیثیت پاکستانی معافی مانگی اور لائن کاٹ کر چشم تصور سے جنیوا کیمپ کی کھولیوں میں جانوروں کی طرح پڑے اٹکے بوڑا پاکستانیوں کو شرمندہ شرمندہ نظروں سے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.