اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

صدر زرداری نے کہا ہے کہ اچھا ہوا شہباز شریف نااہل نہیں ہوئے۔ نواز شریف کے لیے صدر زرداری کی وہی رائے ہے جو بہت کی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف نواز شریف سے بہتر ہیں۔ آج کل نواز شریف پر نظریاتی ہونے کا خمار چڑھا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں نواز شریف نظریے کا نام ہے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کونسا ”نظریہ“ ہے۔

شہباز شریف کے لیے صدر زرداری کے دل میں نرم گوشہ ہے۔ البتہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک عجب بات کی ہے۔ اب اس کا مطلب ہر شخص اپنے اپنے حالات کے مطابق نکالے۔

بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔

صدر زرداری نے نواز شریف کو کہا کہ جمہوریت کے کمزور ہونے کا سبب آپ خود ہیں۔ نواز شریف اپنے گریبان میں جھانکو وہ تو کب کا پھٹ چکا ہے۔ آپ اپنے دل میں جھانکو مگر اپنے دل میں جھانکنے کی طاقت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔

صدر زرداری نے برادرم شعیب بن عزیز کا شعر بھی پڑھا اور بالکل ٹھیک پڑھا
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
نواز شریف نے بھی ایک شعر دو بار پڑھا اور دوسری بار بھی صحیح نہ پڑھا۔ دونوں نے شاعر کا نام نہیں بتایا۔ نواز شریف نے غالب کا شعر پڑھا اور بے چارے غالب کو مغلوب بنا دیا۔ انہوں نے غالب کی محروم زندگی کا اپنی امیر کبیر زندگی سے مقابلہ کرنے کی ”کامیاب“ کوشش کی۔ آپ شعر پڑھتے ہوئے دونوں کی زندگیوں کو اپنے سامنے رکھیں۔

زندگی اپنی جب اس طور سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد رکھیں گے کہ خدا رکھتے تھے
تحریک انصاف کی دبنگ رہنما فردوس عاشق اعوان کی ایک تصویر دیکھی۔ نجانے رہنما کی مونث کیا ہے؟ عظیم گلوکارہ طاہرہ سید کے سابق شوہر نعیم بخاری فردوس عاشق اعوان کو سر پہ ہاتھ رکھ کر پیار دے رہے ہیں۔

ایک بے معنی مگر معنی خیز جملہ سنیے۔ یہ میں نے نجانے کہاں سے سنا ہے۔ یا میرے دل نے کہا ہے۔
شاہد خاقان عباسی کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ عباسی صاحب سے کسی کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تو خطرہ کس کی حکومت کو ہے؟ کس حکومت کو ہے؟ یہ سوال نہیں ہے۔

اس کے جواب کی کوئی ضرورت نہیں؟ بس اس سوال پر غور کریں۔ میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر خان نیازی نے کہا
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
مگر مجھے ابھی سوال کا جواب نہیں ملا کہ منیر نیازی نے یہ شعر کس کے لیے لکھا ہے۔

کل دیکھا اک آدمی اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں جیسے خوشبو پھول میں
اب جبکہ دسمبر گزر گیا ہے بلکہ گزر رہا ہے اور مجھے ملتان کے بہت زبردست شاعر اور استاد عرش صدیقی کا یہ مصرعہ یاد آ رہا ہے۔ نجانے یہ مصرعہ ہے ان کی نظم کا عنوان ہے۔ میں نے ایف اے ایمرسن کالج ملتان سے کیا ہے عرش صاحب میرے قریب ہی رہتے تھے ان سے تقریباً ہر شام ملاقات ہوتی تھی۔ بہت قابل آدمی تھے۔ اپنے زمانے میں کالج کے محبوب اساتذہ میں سے تھے۔

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
میں سمجھتا ہوں کہ دسمبر کے لیے اس سے بڑھ کر تعریف نہیں ہو سکتی۔ میں نے ملتان میں برادرم ڈاکٹر انوار احمد کو فون کیا۔ انہوں نے مجھے وہ نظم بھیجی مگر مجھ سے کہیں مس ہو گئی۔ انہوں نے کمال دوستانہ محبت میں مجھے فون پر یہ نظم لکھوا دی۔

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور
ماضی کی گھپا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون ہو جائے گا جسموں میں
نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی دیواروں
میں لرزاں ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا تو کیسے برف پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے!
٭٭٭٭٭