جنت کے وارث کون؟ - ام محمد سلمان

"ارے بھائی بس کرو، چپ کر جاؤ، ہر وقت کی تبلیغ ہر وقت کی نصیحتیں... معاف کردو تم ہمیں، ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں۔ " فیاض نے اپنے دوست سہیل سے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔

"یار فیاض! تم سمجھتے کیوں نہیں ہو؟ جو کچھ تم کررہے ہو یہ ناجائز ہے حرام ہے۔ تم کیوں اپنی اچھی بھلی حلال تنخواہ کو حرام کر کے کھاتے ہو؟ کیوں ملاوٹ کرتے ہو اس میں؟ تم اپنی پوسٹ اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہو؟ او یار! کچھ تو خدا کا خوف کرو۔" سہیل نے تقریباً رو دینے والے انداز میں فیاض کی منت کرتے ہوئے کہا۔ مگر فیاض پر ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا تھا۔ آج بھی اس کی یہی تکرار تھا بلکہ کہہ رہا تھا کہ "یار! تم لوگوں نے اللہ کو اتنا ڈراؤنا اور خوفناک بنا کر پیش کیا ہوا ہے ورنہ وہ تو بہت غفور ورحیم ہے۔ تھوڑا سا مال ادھر ادھر کر دیتا ہوں کوئی بات نہیں۔ اللہ بہت بخشنے والا ہے بہت مہربان ہے۔ وہ بہت محبت کرتا ہے اپنے بندوں سے، جہنم میں نہیں ڈالے گا۔ جہنم تو کافروں کے لیے ہے۔ ہم تو مسلمان ہیں یار، اللہ کا شکر ہے کلمہ پڑھتے ہیں۔"

"تم پچھتاؤگے فیاض ! تمہاری خوش فہمیاں تمہیں لے ڈوبیں گی ایک دن "۔ سہیل نے بڑے دکھی دل سے کہا۔

"وہ وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا، ابھی تو سکون سے جینے دو۔" فیاض نے لاپروائی سے کہا۔

سہیل ایک سیدھا سچا مسلمان تھا، فیاض کے بچپن کا دوست تھا، اس لیے کبھی پیار سے کبھی تکرار سے اکثر اسے سمجھاتا تھا۔

آج بھی ایک شکستہ سی مسکراہٹ لیے وہاں سے اٹھ گیا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ موذن کی آواز آنے لگی تھی۔ سہیل مسجد کی طرف چل دیا۔ فیاض نے ایک نظر اسے جاتے ہوئے دیکھا اور نخوت سے اخبار جھٹک کر پھر سے پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔


ہماری اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے آج، جو صرف کلمہ پڑھ لینے کو کافی سمجھتے ہیں مگر کبھی کلمے کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ عمل سے خالی ہاتھ لیے رحمت کی آس میں بیٹھے ہیں کہ بس جنت تو مل ہی جائے گی۔

حالانکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جنت کے حصول کے لیے جا بجا ایمان اور اعمال صالحہ کی شرط لگائی ہے کہ جنت تیار کی گئی ہے متقین کے لیے۔ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں، تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور گناہوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

جنت جیسی چیز کی طلب رکھنے والا کبھی بھی نیک اعمال سے خالی نہیں ہو سکتا۔

بےوقوف ہیں وہ لوگ جو جنت کی تمنّا کرتے ہیں مگر گناہوں میں لت پت ہیں اور "اعمال صالحہ" کے سرمائے سے غافل ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ کہ اللہ نے جنت کے بدلے مومنین کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے اور آج ہمارا کیا حال ہے؟ کیا ہم جنت کے حصول کے لیے اپنے مالوں اور جانوں کو لگا رہے ہیں؟ کیا جنت کے حصول کے لیے کوئی تیاری کررہے ہیں یا صرف الله کی رحمت کی آس میں بیٹھے ہیں؟

جنت مومن کے نیک اعمال کا بدلہ ہے۔

سورہ الحاقہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " جس دن تم اللہ کے سامنے (حساب کےلیے ) پیش کیے جاؤگے، تمھاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہو گی پھر جس شخص کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ خوشی کے مارے ایک نعرہ لگائے گا اور کہے گا کہ لو میرا اعمال نامہ پڑھ لو، مجھے تو پہلے سے یقین تھا کہ ایک دن مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے (میں تو دنیا ہی میں اس کے لیے تیاری کر رہا تھا ) پس یہ شخص تو پسندیدہ زندگی یعنی بہشت بریں میں ہوگا جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہا جائے گا) کہ کھاؤ اور پیو مزے کے ساتھ، یہ بدلہ ہے تمھارے ان اعمال کا جو تم نے گزرے ہوئے زمانے (یعنی دنیا میں )کیے ہیں اور پھر ایک خوبصورت، حسین، پر تعیش زندگی اس کا انعام ہوگی، جس کی نعمتیں لذتیں راحتیں ہمیشہ بڑھتی رہیں گی کبھی ختم نہ ہوں گی۔

اور اس کے برعکس جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس وہ نہایت ہی (حسرت اور اور غم) سے کہے گا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مجھ کو میرا نامہ اعمال ہی نہ ملتا اور مجھ کو خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے؟ کاش میری موت ہی میرا خاتمہ کر دیتی۔

کبھی اپنا محاسبہ تو کریں کہ آج ہمارا عمل کیا ہے؟

نماز کے لیے موذن پکارے تو سوتے رہ جائیں

زکوٰة کا حکم عائد ہو تو جان چرانے لگیں

رمضان آئے تو روزے کھا جائیں

حج فرض ہو تو مال کی محبت میں بے حج کیے مر جائیں

حلال حرام کو کوئی اہمیت نہ دیں

جھوٹ بولیں، غیبت کریں

سود پر سود کھائیں اور اس کے نت نئے نام رکھ کر اپنے لیے حلال جانیں

رشوت کے لین دین کو اپنا حق سمجھ لیں

یتیموں کا مال کھاجائیں

میراث شریعت کے مطابق تقسیم نہ کریں، بہنوں اور بیٹیوں کا حق مار کھائیں

ضعیفوں پر ظلم کریں، تنگ دستوں سے بیگار لیں

رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات توڑ لیں

قرآن اورحدیث کے پڑھنے پڑھانے کو وقت کا ضیاع سمجھیں

امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے غافل ہو جائیں

اور پھر بھی جنت کے بلند درجات کی تمنا کریں؟

یہ بہت بڑی نادانی ہے، بہت بڑی بھول میں پڑے ہیں ایسے لوگ! جنت کے بلند مراتب کے لیے نفس کو قابو میں کرنا پڑتا ہے۔ احکام شریعت پر عمل کرنے میں اور حرام خواہشات کو کنٹرول کرنے میں جو نفس کو ناگواری ہوتی ہے، اسے سہنا پڑتا ہے، اسی ناگواری کے پیچھے جنت ہے۔

ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے "ہوشیار وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو کرلے اور موت کے بعد (والی زندگی) کے لیے عمل کرے اور بے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگائے رکھے اور بغیر کسی نیک عمل کے اللہ سے (جنت کی) امید رکھے۔

یہ رحمت کی امید نہیں ہے بلکہ یہ شیطان کا دھوکہ ہے دھوکہ!

جسے دوزخ سے بچنے کی فکر اور جنت میں پہنچنے کی لگن ہو، وہ کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔ جتنی نیکیاں کرے گا، کم سمجھے گا اور اپنے درجات بڑھانے کے لیے ہر دم اعمال صالحہ کا اہتمام کرتا رہے گا۔ پھر اس کے ساتھ اگر کوئی غفلت کوئی کوتاہی ہوجاتی ہے اور نفس و شیطان اسے کسی گناہ میں ملوث کر ہی دیتے ہیں تو وہ جلد اللہ کی طرف رجوع کر لے، اپنے گناہوں پر نادم ہو سچے دل سے رب کی بارگاہ میں معافی مانگے تو وہ ضرور اپنے بندوں کی سچی توبہ قبول کرتا ہے۔ وہ غفور الرحیم ہے۔ جو سیدھا چلتے چلتے ٹھوکر کھا کے گر پڑے اسے وہ نہیں سنبھالے گا تو کون سنبھالے گا؟

لیکن کوئی سنبھلنا بھی تو چاہے؟ افسوس تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آخرت کی فکر ہی نہیں۔ دونوں ہاتھوں سے دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں - حالانکہ یہ دنیا کی زندگی تو آخرت کی کمائی کرنےکا بہترین موقع ہے ہمارے پاس۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے!

ابھی بھی وقت ہے ہم لوٹ آئیں اپنے پروردگار کی طرف !

آج وقت ہے موقع ہے، ندامت کا ایک آنسو جھنم کی بھڑکتی آگ کو بجھا سکتا ہے۔ کل قیامت کے دن آنسوؤں کے سمندر بھی بہا دیے تو کچھ کام نہ آئیں گے ۔

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے

قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے

Comments

Avatar

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.