القدس کی ترجیحی حیثیت بھی بچی ہے یا نہیں؟ - محمد ربیع

کچھ دن قبل سی این این پر اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نيكي هيلي کا انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ انھیں عرب اور مسلمانوں کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلے کے بعد شدید رد عمل کی توقع تھی، جیسا کہ سبھی کہہ رہے تھے کہ اس فیصلے کے بعد آسمان گر پڑے گا۔ لیکن ! جمعرات، جمعہ، ہفتہ اور اتوار گزر چکا، آسمان ابھی تلک اپنی جگہ پر قائم ہے۔

انداز خاصا تمسخر انہ، للکارتا اوربرانگیختہ کرتا ہوا تھا، اگرچہ ہم بھی کچھ زیادہ خوش فہم واقع نہیں ہوئے بالخصوص ہمیں اپنے برادر ممالک کی مجبوریوں، مفادات کا احساس ہے اور ہم یہ بھی جانتے تھے کہ" او آئی سی " کے اس اجلاس کا انعقاد محض ردعمل میں ہے اس کا حقیقی کچھ فائدہ اگر کچھ ہو سکتا تو تب ہو سکتا تھا جب صدر ٹرمپ "القدس "(یروشلم)کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے تھےاب تو محض یہ ردعمل ہےاس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہم جیسے ڈوبتے پھر بھی او آئی سی کی شکل میں کسی تنکے کا سہارا ضرور تلاش رہے تھے، اور دل ہی دل میں امید بندھی تھی کہ نمائشی ہی سہی ایک مشترکہ زوردار جواب ضرور امریکا اور اسرائیل کو ملے گا۔

لیکن وائے نصیب! او آئی سی کا ہنگامی سربراہی اجلاس جس کے انعقاد کی دعوت ترکی کے صدر طیب اردوغان نے دی تھی بدھ کو استنبول میں منعقد ہوا، عالم یہ تھا کہ 57 رکن ممالک میں سے محض 16 ممالک کے سربراہ اس میں حاضر ہوئے، ہم نمائشی طور پر بھی اپنے آپ کو اس انتہائی سنگین مسئلہ میں ایک صف میں کھڑا نہیں کر سکے۔

الجزیرہ کے تجزیہ نگار کے مطابق 16 یا 20 حکمرانوں کی القدس کے مسئلہ پر سربراہی اجلاس میں شرکت اور اس کے بالمقابل محمد بن سلمان کا ٹرمپ کے سامنے چند گھنٹوں کی کانفرنس کے لیے 52 اسلامی ممالک کے سربراہوں کو اکٹھا کرنا ایک بہت بڑے فرق کی نشاندہی اور عالم اسلام کی اس نام نہاد قیادت کی ترجیحات کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

سعودی عرب جسے مسلم دنیا کی سربراہی کا فریضہ انجام دینا تھا، وہ سربراہی کے منصب سے اتر کر اس صف میں شرکت کے اعزاز سے بھی محروم رہا،اور یقیناً یہ کسی بڑے صدمہ سے کم نہیں کہ اس نے محض " اسلامی امور" کے وزیر کو بھیجنے پر اکتفا کیا، اسی طرح بحرین اور امارات کےزعماء نے نمائندگی کے لیے اپنے وزراء بھیجے، مصری صدر عبدالفتاح السیسی خود تو نہ اس کے البتہ شرکاء پر احسان عظیم کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ سامح شکری کو بھیج دیا۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں عرب دنیا اور اسلامی ممالک کی اس اجلاس میں شرکت میں عدم دلچسی کی بنیادی وجہ خود ترکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ مصر اور اس کی حکومت ترکی، ترک صدر طیب رجب اردگا ن اور ان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی سے ان کے مصری صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی انقلاب پر سخت ردعمل اور اخوان المسلمین کی حمایت کی وجہ سے نالاں اور شدید سیاسی اختلاف رکھتے ہیں اور قریباً یہی صورتحال سعودی عرب کی ہے جو حالیہ کچھ عرصہ سے اخوان المسلمین اور اس کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے ممالک سے سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے، لیکن دوسرے ممالک تو اس سلسلے میں اپنا بھرپور موقف اور اتحاد دنیا کو دکھا سکتے تھے جبکہ ان سبھی کے ترکی کے ساتھ اچھے تجارتی روابط بھی قائم ہیں اور سبھی ٹرمپ کے القدس بارے فیصلے کو جانبدارنہ اور غیر منصفانہ کہہ چکے ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب، مصر اور ترکی کے مابین عالم اسلام کی قیادت کے حوالے سے بھی سیاسی اختلاف موجود ہیں، لیکن اگر اسے فرض کر بھی لیا جائے تو کیا یہ خودعالم اسلام، اور اس کے مقدسات (جن میں سے اہم ترین القدس ) کے احترام کے لیے لازم نہیں کہ اسرائیل کو روکنے کے لیے ان اختلافات سے آگے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات کیے جائیں۔

لیکن کیا یہ عذرلنگ اتنے اہم مسئلہ کے بارے میں ایسے مجرمانہ ردعمل اور خاموشی کے لیے کافی ہو سکتے ہیں، یا صورتحال اس کے برعکس وہی ہے جس کا دنیا شور مچا رہی ہے اور روز بروز یہ شکوک یقین میں بدلتے جا رہے ہیں؟

یقیناً امریکی صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کے لیے بڑی شاندار ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے اس دعوے پر کہ وہ پہلے دن ہی امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل کر دیں گے پر عمل نہ کر پائے اور اپنے پیش روؤں کی طرح امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو چھ ماہ کے لیے موخر کر دیا لیکن وہ مسلسل اس کے لیے راہ ہموار کرتے رہے اور اس اعلان کے لیے اس سے بہتر موقع پہلے شاید کسی کو میسر نہیں آیا کہ:

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

مصر اور اسرائیل کے تعلقات اپنے سنہری ترین دور سے گزر رہے ہیں، ٹرمپ کے مئی میں سعودی عرب کے دورے کے دوران کیے جانے والا 420 ارب ڈالر کا تجارتی معاہدہ، جسے مملکت کی تاریخ کا سب سےبڑا تجارتی سودا کہا جاتا ہے، نے امریکا اور سعودی عرب کو پہلے سے کہیں زیادہ قریب کیا۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باہمی محبت و قربت کی پینگوں نے اس فیصلے کی راہ ہموار کی۔ اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا، نہ صرف حماس بلکہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کو دہشت گردی سے تعبیر کرنا اور حال ہی میں ولی عہد محمد بن سلمان کو ملنے والی دورہ اسرائیل کی دعوت ان سبھی حالات نے ٹرمپ کو اس جیسا قدم اٹھانے پرشہہ دی۔

یہ وہ اقدامات ہیں جو دنیا کی نظروں کے سامنے ہیں ورنہ درونِ خانہ کیا گل کھلائے جا رہے ہیں اس پر بہت سی چہ میگوئیاں جاری ہیں اور تجزیہ نگاروں کا یہاں تک کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس اعلان سے قبل عرب حکمرانوں کو اعتماد میں لیا تھا اور حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کچھ بعید بھی نہیں۔

بہرحال موجودہ حالات نے ترکی اور صدر رجب اردوغان کویہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور مصر کی جانب سے پیدا کردہ قیادت کے خلا کو پر کر سکیں اور ان کے طرزعمل نے ایک بار پھر مسلم دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا" القدس " اور ان مقامات مقدسہ کی عرب حکمرانوں کے نزدیک اولین ترجیحی حیثیت باقی بھی ہے یا نہیں؟