حسن ِمجسم - ام حبیبہ

میں ظہر کی اذان کا انتطار کررہی تھی کہ نماز ادا کروں اور گھر کی راہ لوں کہ دروازے سے داخل ہونے والی لڑکی پر نظر پڑی اور ٹھہر ہی گئی۔ ایک لمحہ کو لگا میں سانس لینا بھول گئی ہوں۔ "حسن" کا لفظ اس پری پیکر کے لیے مختص ہونا چاہیے تھا۔ ایک عورت ہونے کے ناتے دوسری عورت کے حسن سے اس قدر متاثر ہونا کافی عجیب سا لگتا ہے، کجا یہ کہ انسان بےبس سا ہو جائے اور اس کی تعریف میں مناسب الفاظ ہی نہ ملیں ۔ وہ محترمہ تو لگتا تھا سیدھا جنت سے تشریف لارہی ہیں۔ اک شانِ بےنیازی سے کمرے میں داخل ہوئیں اور اپنی سہیلی کے ساتھ جگہ تلاش کرکے بیٹھ گئیں۔

آمد کا مقصد تو مجھے معلوم نہ تھا، نہ انہوں نے بتانے کی زحمت کی، بس سرگوشیوں میں گفتگو جاری تھی ۔ میری نظر بھٹک کر بار بار اس کی طرف جاتی اور میں خود ہی بےچینی کا شکار ہو رہی تھی کہ ایسی کیا حور شمائل زمین پر اتر آئی ہے کہ میں توجہ اس سے ہٹا ہی نہیں پارہی؟ رنگت، نقش، قدو قامت،ہاتھ پاؤں ، اندازِ گفتگو سب کچھ ایسا خاص تھا کہ آپ تعریف کیے بغیر رہ نہ سکیں ۔

میں نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو وہاں دو اور لڑکیاں موجود تھیں۔ اب اونچی آواز میں سب اس لڑکی کے مسئلے پر بحث کر رہی تھیں ۔ وہ قرآن سینٹر کی معلمہ سے مشورہ لینے آئی تھی ۔ ایک سال پہلے اس کی منگنی ہوئی اور لڑکا باہر کے ملک میں تھا۔ سکائپ پر بات بھی ہوتی پر لڑکے کےرویّے کی سرد مہری لڑکی کو پریشان کررہی تھی۔ اب شادی کے دن قریب تھے اور لڑکا آنے پر تیار نہیں۔ پوچھنے پر کہتا تھا کوئی وجہ نہیں، میں مصروف ہوں۔ مالی پریشانی بھی نہیں تھی کہ وہ شادی کو ٹال رہا ہو۔ آخرکار لڑکی اپنے خیر خواہوں کے مشورے سے اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ لڑکے کو پسند نہیں ہے۔ دوسری طرف اسے لڑکا پسند ہے اور اپنی ناقدری کے باوجود وہ کوئی راستہ تلاش کر رہی تھی۔

میں جو اتنی دیر سے اس سراپا حسن سے متاثر ہو رہی تھی اور پھر نوبت 'جیلس' ہونے تک آگئی تھی کہ بندہ اتنا حسین بھی نہ ہو، یہ مسئلہ سن کرمجھے حیران رہ گئي۔ یااللہ !کون اندھا اور بدذوق ہے جو اس پری کو ناپسند کرسکتا ہے؟ کچھ دیر بعد میرا صدمہ ذرا کم ہوا تو میرے منہ سے بےاختیار نکلا "منگیتر کیا لگتاہے تمھارا؟"

لڑکی حیران سی میرے پاس اٹھ کر آگئی اور بولی باجی "نامحرم"۔ میں نے پھر پوچھا آئینہ دیکھتی ہو ؟ کہنے لگی" جی باجی! روز دیکھتی ہوں" ۔ میں نے کہا "اللہ کا کتنا شکر ادا کرتی ہو ؟جس نے تمھیں یہ ملکہ جیسا حسن عطا کیا؟" مجھے نہیں معلوم یہ باتیں کس طرح میرے منہ سے نکل رہی تھی ۔ میرا یہ کہنا تھااور اس حور پری نے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے اور رونا شروع کر دیا۔ وہ بےبسی کی انتہا پر تھی اور کہہ رہی تھی "باجی! آپ میرے لیے دعا کریں، وہ مان جائے ، اس کا دل موم ہو جائے،" جملے اس کے ہونٹوں سے بےربط نکل رہے تھے " مجھے پتہ میں خوبصورت ہوں، پر میں بےسکون ہوں"۔ بس یہی تکرار تھی "باجی! میرے لیے دعا کریں۔"

میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا تسلی دوں؟ میں نے کون سا ان معاملات میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔ میں بس یہی کہہ پائی میں دعا کروں گی،اللہ بہترین سبب بنائے گا اور تم اس کے لیے خوار مت ہو۔ رب کی طرف سچے دل سے رجوع کرو، یہ آزمائش اللہ کی طرف سے آئی ہے ۔ جس طرح تمھارا ظاہری وجود خوبصورت ہے، رب تمھارا باطن بھی پاک کرنا چاہتا ہے۔ اللہ اپنے پیاروں کو امتحان میں ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ رب کا انتخاب کرتے ہیں یا اپنی خواہش کے پیچھے دنیا وعاقبت برباد کرتے ہیں۔ وہ لڑکی تو چلی گئی پر میرے ذہن کو لامتناہی سوچوں میں مبتلا کر گئی ۔

آج اسلام آنے کے چودہ سو سال بعد بھی ہم زبان سے کلمہ پڑھ کر اللہ کی وحدانیت کا اقرار تو کر لیتے ہیں پر دل میں خواہشات کے بت سجا رکھے ہیں ۔ ہم ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور پھر در در خوار ہوتے ہیں ۔ جہاں کوئی خواہش ادھوری رہ گئی، وہ ہمارا جنون بن جاتی ہے، کائنات کا سارا حسن ورعنائی مند پڑ جاتی ہے، ہر نعمت زحمت لگتی ہے اور ہم بکھر جاتے ہیں۔ یہ ہمارے باطن کا امتحان ہے جو ہماری ظاہری ذات کو بھی کشمکش میں مبتلا کر دیتاہے۔ صرف زبان کی گواہی کافی نہیں جب تک انسان کی روح گواہی نہیں دے گی کہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ذات عبادت کے لائق ہے، باقی معبود باطل ہیں، ہم سچی خوشی اور بندگی کے تصور اور لذت سے ناآشنا رہیں گے۔ ادھوری خواہشات کے اندھیرے ہمارا مقدر ہوں گے۔

داناؤں کا کہنا ہے، اللہ برداشت نہیں کرتا بندہ بندے سے عشق کر بیٹھے، چاہ ٹھیک ہے،محبت ٹھیک ہے،ذمہ داریاں ٹھیک ہیں،پر عشق کے قابل تو صرف رب کی ذات ہے۔ دل ہمیشہ اللہ کی ذات سے لگائیں، وہ سارے در کھول دے گا۔

ٹیگز