جذبات میں ملاوٹ - نمرہ شارق

"یہاں کبھی کچھ اچھا ملا بھی ہے؟ ہر چیز میں تو ملاوٹ ہوتی ہے، کوئی بھی چیز خالص نہیں ہے۔"

"بالکل صحیح کہہ رہے ہو،" دوسرے شخص نے کہا "ہم کھانے کی چیزوں کی کیا بات کریں، یہاں تو پانی بھی صاف نہیں ملتا۔"

" استاد آپ بھی عجیب باتیں کرتے ہو، بھلاپانی ملتا ہی کب ہے؟" دکان پر کام کرنے والے نے بڑی مہارت سے دودھ میں پانی ملاتے ہوئے تبصرہ کیا۔

ابھی تھوڑا آگے بڑھی ہی تھی کہ ایک اور آواز کان میں پڑی۔ "چھوٹے کیا کر رہا ہے؟ پورا پورا تول کے ڈال رہا ہے، اس طرح تو میرا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا!"

بھائی! یہ تو غلط بات ہے نا؟ میری اماں کہتی ہے تول میں کمی بیشی کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔"

"بس بس، مجھے مجھے لیکچر نہ دے، پورے ملک میں کہیں بھی دیکھا ہے پورا پورا تول کرتے ہوئے؟"

صبح صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے یہ گفتگو سن ہی رہی تھی کہ ساتھ ہی ایک گاڑی آکر رکی۔ جس سے اترنے والی خاتون نہایت مہذب لگتی تھیں۔ "اف! کتنا گند کر رکھا ہے سڑک پر؟ جگہ جگہ کوڑے کا ڈھیر لگا ہے۔ کسی کو کوئی خیال ہی نہیں آتا؟ آخر یہ حکومت کرتی کیا ہے؟ صفائی کیوں نہیں کراتے؟"

"بہن! آ پ کا بچہ کوڑا پھینک رہا ہے، اسے منع تو کریں۔" مجھے مجبوراً یہ کہنا پڑا۔

"ہاں تو کیا ہو گیا؟ جہاں اتنا سارا گند پڑا ہے وہاں ایک چھلکے سے کیا ہو جائے گا؟"

"لیکن ابھی آپ نے کہا کہ کوئی خیال نہیں کرتا، آخر ہم اپنے بچوں کو خود کیوں نہیں روکتے؟"

"اوہو! کیا ہو گیا؟ جہاں اتنا گند اٹھائیں گے، وہاں یہ بھی اٹھ جائے گا!"

میں اس لا حاصل بحث میں پڑنے کی بجائے آگے بڑھ گئی، جہاں ایک نوجوان کو بزرگ سے الجھتے دیکھا۔ موضوع گفتگو درخت کی کٹائی تھی۔ بزرگ اس کو درخت کاٹنے کے نقصان بتا رہے تھے اور اس شخص کا جواب مجھے حیران کر گیا۔ "بابا جی! مجھے تو میرے کام سے مطلب ہے، بچوں کا پیٹ بھی تو پالنا ہے۔ درخت لگانا حکومت کا کام ہے، میرا نہیں۔"

" لیکن بیٹا! کچھ فرض تو ہمارا بھی ہے؟ دیکھو فضا کتنی آلودہ ہوتی جا رہی ہے؟"

"بابا جی! پہلے کم تھی اور ہمارا بھلا کیوں فرض ہے؟ یہ سب کام صرف حکومت کے ہوتے ہیں۔"

باقی سارا راستہ یہی سوچتے گزرا کہ آخر ہم کس مقام پر آگئے ہیں؟ مجھے لگتا ہے اس شخص نے صحیح کہا تھا کہ یہاں کچھ بھی خالص نہیں ملتا، نہ کھانا، نہ پانی اور نہ ہی جذبے۔ ہم نے اپنے جذبوں میں بھی ملاوٹ کر لی ہے۔ ہم اپنی ذمہ داریاں بھول گئے ہیں۔ اپنی غلطیوں کا الزام حکومت اور ملک کو دیتے ہیں۔ ا یک شہری ہونے کے ناتے ہمارے بھی تو کوئی فرائض ہیں، ہر کام تو حکومت کو نہیں کرنا۔

مجھے یقین ہے جس دن ہم نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر لیا، اپنے فرائض پورے کرنے شروع کر دیے، حکومت کی بجائے خود اپنی ذمہ داری پوری کی اس دن نہ تو اس ملک میں ملاوٹ ہو گی، نہ ہی تول میں کمی۔ ہمارا خوبصورت ملک ہر طرح کی غلاظت سے پاک ہو گا۔ جذبات خالص ہوں گے تو ہم اپنے بجائے دوسروں کے لیے جیئیں گے اور زندگی خوبصورت ہو گی۔