علم کا حصول - ام محمد عبداللہ

"چھوٹے صاحب! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ اگر میرے رب، میرے مالک، میرے خالق نے پوچھ لیا کہ فضل دین میرے نبیؐ نے جو پیغام دیا تھا کہ علم حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے ۔ تو تُو نے کیا کیا فضل دین تو نے علم حاصل کیا؟ پھر، پھر میں کیا جواب دوں گا؟" آنسو قطار بنائے فضل دین کے نحیف و نزار رخسار پر بہنے لگے۔ میری اپنی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔ میں جانتا تھا فضل دین بستر مرگ پرپڑا ہے۔ یہ یہاں کبھی نہ اٹھنے کے لیے لیٹا ہے۔

"فضل دین! ہمارا رب غفور الرحیم ہے۔ تُونے ساری زندگی علم حاصل کرنے کی لگن میں گزار دی اور ہمارا رب تو معاف کرنے والا قدر دان ہے۔" اس کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔ میں نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا اور کلمہ شہادت پڑھا، اس نے دہرایا اور جان جان آفریں کے سپردکر دی۔

مجھے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا، کون رو رہا تھا، کون چیخ رہا تھا، اسے کب نہلایا، کب کفنایا گیا؟ ہم نے کیسےنماز جنازہ ادا کی، کب اسے لحد میں اتارا گیا؟ میں کب واپسی کے لیے گاڑی میں سوار ہوا؟ میری نگاہوں کے سامنے اپنی اور فضل دین کی زندگی کی جیسے فلم سی چلنے لگی تھی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے بہت بچپن میں بڑے ابا نے اسے میری خدمت پر مامور کیا تھا۔ وہ عمر میں مجھ سے کوئی ایک دو سال ہی بڑا ہو گا۔ دبلا پتلا فضل دین مجھے بھی اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ ہمہ وقت میراخیال رکھتا میرے ناز نخرے اٹھاتا۔ ہمیشہ کھیلتے ہوئے مجھ سے ہار جاتا۔ کسی منجھی ہوئی انّا کی طرح مجھے لاڈ لاڈ سے کھانا کھلاتا، میرے کپڑے جوتے کتابيں کھلونے ترتيب سلیقے سے رکھتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک روز میں صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا اور فضل دین میرے قریب قالین پر بیٹھا میرے سکول کے جوتے پالش کر رہا تھا کہ ٹی وی پر حدیثِ پاک دکھائی جانے لگی۔ حضرت محمد مصطفی نے فرمایا۔ " علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" فضل دین نے یکدم چونک کر سر اٹھایا۔ "چھوٹے صاحب ! علم حاصل کرنا ہم سب پر فرض ہے؟" اس کا انداز سوالیہ تھا۔ "ہاں نا فضلو!" میں نے بے پروائی سے جواب دیا۔ "چھوٹے صاحب! پھر تو مجھے بھی علم حاصل کرنا ہے۔" وہ پر جوش ہوا۔ میں ہنسنے لگا۔ "علم حاصل کرنے کے لیے سکول جاتے ہیں، پھر کالج، پھر یونی ورسٹی۔ اتنے بہت پیسے لگتے ہیں! تیرے پاس پیسے ہیں ؟ علم حاصل کرے گا، ہونہہ۔۔!" میں کچھ طنزیہ، کچھ تلخ ہو گیا۔ دکھ کا ایک سایہ سا شاید اس کے چہرے پر لہرایا ہو گا، جسے میں اس وقت نہیں سمجھ ہی سکتا تھا لیکن پھر میں نے دیکھا کہ فضلو کے دل میں علم کے حصول کی اک لگن لگ گئی تھی۔ میرے ٹیوشن ٹائم سے پہلے پہلےفضلو جلدی جلدی اپنے سب کام سمیٹ لیتا۔ جب مجھے ٹیوٹر پڑھا رہا ہوتا تو وہ بہانے بہانے سے ہمارے قریب رہنے کی کو شش کرتا۔ میں جانتا تھا اسے انگلش سمجھ نہیں آتی تھی، پھر بھی وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا۔ مجھے یاد ہے میں جب بھی نئی جماعت میں پروموٹ ہوتا۔ فضلو امی جان سے میری پرانی کتابیں مانگ لیتا۔ امی جان بخوشی کتابیں اس کے حوالے کر دیتیں۔ ساتھ ہی ہدایت کرتیں، ردّی میں دے کر کچھ روپے لے لینا۔ اپنی مرضی کی مٹھائی خرید کر کھا لینا۔ وہ مسکرا دیتا۔ میں جانتا تھا وہ یہ کتابیں ردّی میں نہیں بیچے گا۔ سب سے چھپ کر پڑھنے کی کوشش کرے گا۔ سمجھنے کی کاوش کرے گا۔

"تُو یہ کتابیں سمجھ کر کیا کرے گا فضلو؟ رہے گا تو چھوٹے صاحب کا ملازم ہی نا؟" میں نے ایک بار اس کا مذاق اڑایا تو وہ سنجیدہ ہو گیا۔ کہنے لگا "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مسلمان پر علم کا حصول فرض نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ پھر میں غریبی کو عذر بنا کر اس نعمت کو حاصل کرنے سے منکر کیوں ہو جاؤں؟" یہ جواب میرے لیے غیر متوقع تھا۔ میں نظریں چرا کر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں، بیٹا اور پرنسپل - نیر کاشف

فضل دین میں بے پناہ خوبیاں تھیں۔ میرے ارد گرد وہ ایک مکمل خاندان کی طرح اپنا آپ بُننے لگا تھا۔ وہ ایک ملازم تھا، جو ہر وقت میری خدمت کے لیے مستعد تھا۔ دوست تھا جو میری خوشیوں میں شریک اور پریشانیوں کو کم کرنے والا تھا۔ بھائی تھا، جو ہر وقت مضبوطی کے ساتھ میری پشت پر کھڑا تھا۔ پھر میرا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا۔ ہمارے گھر جشن کا سا سماں تھا۔ سب بہت خوش تھے، فضلو بھی۔ مجھے گھر چھوڑ کر ہاسٹل جانا پڑا۔ میرا اور فضل دین کا ساتھ کچھ عرصہ کے لیے چھوٹ گیا۔ کچھ پڑھائی سخت تھی اور کچھ کالج اور ہاسٹل کی رنگینی زیادہ۔ فضل دین کا سنجیدہ سا کردار جو ہمہ وقت اپنا اثر لیے رکھتا تھا مدھم پڑنے لگا۔ میرے ذہن ودل سے شاید وہ محوہی ہو جاتالیکن جب میں ڈاکٹر بن کر گھر لوٹا تو میں نے دیکھا فضل دین اپنے سب کام سمیٹ کر شام کے وقت گھر سے نکلتا، کبھی کسی روتے ہوئے بچے کو بہلا کر چپ کراتا، کسی ضیف کو سڑک پار کراتا، رستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیتا اور ہاں! میرے علم میں یہ بھی آیاکہ وہ سب سے چھپ کر محلے کے ایک یتیم بچے کے تعلیمی اخراجات اپنی تنخواہ سے ادا کر رہا تھا اور اگر اس کے علاوہ بھی اگر اس کے پاس کہیں سے کچھ رقم آتی تو وہ ترجیحًا پنسل، پین، کاپیاں، کتابیں جو وہ کر سکتا، سکول کے ضرورت مند بچوں کو پہنچاتا۔ " ڈاکٹری کی ڈگری میں نے لی اور مسیحائی تو نے شروع کر دی فضلو؟" میں ہنسا۔ "چھوٹے صاحب! یہ سب تو میں نے آپ کی کتابوں سے پڑھا ہے۔ " اس نے شرمندگی سے سر جھکایا جیسے میں نے اس کی چوری پکڑ لی ہو۔

اور ہاں! ایک اور اہم واقعہ جسے میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ میرے پاس ہسپتال میں بہت بیمار بچہ داخل ہوا۔ اس کی طبیعت کسی طور نہ سنبھلتی تھی۔ اس کے والدین بےبسی کے عالم میں میری منتیں کرنے لگے۔ ان کے خیال میں میں ان کے بچے کو بچا سکتا تھا۔ جتنا وہ رو رہے تھے مجھے اپنی کم مائیگی اور بے بسی کا اتنا ہی زیادہ احساس ہو رہا تھا۔ میں دنیا کے ان چند خوش نصیبوں میں سے ہوں جن کی زندگی میں بے بسی جیسی کوئی کیفیت نہیں ہوتی۔ غم اور پریشانیاں جن کے قریب آنے سے ڈرتی ہیں۔ سو آج کا یہ دن اور یہ صورت حال میرے لیے بہت مشکل تھی۔ جدید سہولیات سے مزیّن ہسپتال، بہترین ادویات، کوالیفائڈ، محنتی تجربہ کار سٹاف۔ کیا نہیں تھا میرے پاس؟ تکلیف میں تڑپتا بچہ اور بے بسی کے عالم میں میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے پریشان حال والدین۔ میری بے چینی اپنے عروج پر تھی۔ میں انہیں کیسے بتاتا اپنی تمام تر مہارت آزمانے کے بعد میں دل سے خود بھی ہمت ہار چکا تھا؟ مریض کو جونیئر ڈاکٹر اور نرس کے حوالے کر کے میں کچھ دیر کے لیے گھر آ گیا۔ فضل دین میرے لیے چائے بنا لایا۔ اسے دیکھا تو خیال آیا جیسا بے بس آج میں ہوا ہوں، ایسے لمحے اس پر تو زندگی میں کئی بار آئے ہوں گے، پھر یہ کیا کرتا ہو گا؟ مجھے تجسس ہوا۔ میں نے پوچھا فضلو "تم بے بسی اور پریشانی کے عالم میں کیا کرتے ہو؟"

"اپنی بے بسی کا اعتراف کرتا ہوں۔ "

میں نے استفسار بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ "چھوٹے صاحب! ہم سب، تمام انسان خواہ طاقت اور اختیار کے کیسے ہی بڑے رتبے پر کیوں نہ ہوں، زندگیوں میں ایک ایسا موڑضرور آتا ہےجہاں ہر طاقت اور اختیار گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ تب پتہ چلتا ہےکہ وہ ہستی کوئی اور ہے جو اندھیروں سے روشنی، مایوسی سے امید اور دیوار سے در بناتی ہے۔ ہم غفلت ہی میں پڑے رہنا چاہیں تو اور بات، وگرنہ ماتھا ٹیک کر اس کے سامنے جھولی پھیلا دو تو وہ بادشاہوں کا بادشاہ خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ بے بسی ختم ہو جاتی ہے، پریشانی دل کے سکون میں بدل جاتی ہے۔ "

یہ بھی پڑھیں:   بیکن ہاؤس سکول سسٹم اور نظریاتی زوال - بلال شوکت آزاد

وہ بول رہا تھااور میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ یہ کون سا علم تھاجو اس نے حاصل کیا تھا اور جس سے میرا دامن خالی تھا؟

“ میں ماتھا ٹیک دیتا ہوں چھوٹے صاحب! نفل نماز حاجت پڑھتا ہوں۔ اقرار کرتا ہوں اعتراف کرتا ہوں کہ میں کچھ نہیں، عاجز ہوں، بے بس ہوں۔ تعریف کرتا ہوں اپنے مالک کی کہ وہ بڑے اقتدار والا زبردست غلبہ رکھنے والا ہے۔ میں کسی ضدی بچے کی مانند روتا ہی رہتاہوں۔ یہاں تک کہ وہ میرے دل کو مطمئن کر دیتا ہے۔ "

کیا تھا اس کے لہجے میں؟ بلا کا اعتماد اور یقین۔ وہ خاموش ہوا۔ مجھے لگا فضلو نہیں کوئی عالم فضل دین بول رہا تھا۔ وہ بیمار معصوم چہرہ میری نظروں کے سامنے لہرایا۔ " تو پھرآؤ مجھے اپنے رب سے اس بچے کی صحت زندگی مانگ دو۔ " میں نے اسے چیلنج کیا۔ " وہ ہم سب کا رب ہے۔ آئیے مل کر دعا مانگتے ہیں۔ " اس نے میرا ہاتھ تھاما۔ مجھے تو جیسے ۱۰۰۰ والٹ کا کرنٹ لگا تھا۔ میں ایک قدم پیچھے ہٹا۔ "میں نے ایسے یقین سے اسے کبھی نہیں پکارا۔ " میری آواز بہت بے چارگی لیےبہت دور سے آتی مجھے سنائی دی۔ مجھے خبر بھی نہ ہوئی کئی آنسو آنکھوں سے ڈھلک کر رخساروں پر آ گرے تھے۔ نماز تو کبھی کبھار میں پڑھ لیا کرتا تھا۔ مگر اللہ اکبر کہنے کے باوجود بڑا تو ساری زندگی میں خود کو سمجھتا رہا تھا۔

"آج یقین سے عاجزی سے پکاریے چھوٹے صاحب!" اس نے التجا کی۔ ہم دونوں نے وضو کیا، نفل پڑھے، درود پاک کا ورد کیا، رب کے حضور رو کر دعا کی۔ میرے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ ایسے ہچکیاں لے لے کر تو میں ساری زندگی کبھی نہ رویا تھا۔ معصوم بچے کی پریشانی اپنی جگہ تھی لیکن اپنی بڑائی اور با اختیار ہونے کا جو بت اندر کہیں ٹوٹاتھا، اس کی تکلیف بے حال کیےدے رہی تھی۔ اس قادر مطلق کی بڑائی کے جس فہم کا آغاز ہوا تھا اس سے دل الگ سہما جا رہا تھا۔ بے ربط اعتراف، بےربط دعائیں، سبھی کچھ ٹوٹا پھوٹا تھا میرے پاس۔ مگر فضل دین کےرب نے میرے رب نے کائنات کے رب نے مجھ ایسے گنہ گار کو مایوس نہ کیا تھا۔ میں جو ساری زندگی اس سے اجنبی رہا تھا۔ اس کے لمحے کی پکار پر ہی اس نے شناسائی کا دروازہ کھول دیا تھا۔ آنسو بہتے جاتے تھے اور طریقہ علاج میرے ذہن میں واضح ہوتا جا رہا تھا۔ ہسپتال جا کر عمل کیا تو مثبت نتائج سامنے آنے لگے۔

میں گھر واپس آیا توایک ہی احساس تھا جس نے مجھے گھیر رکھا تھا۔ فضل دین! آج آج تو نے مجھے کس سے ملوا دیا؟ کس سے تعلق جڑوا دیا؟ کس کی بارگاہ میں جھکنا سکھا دیا؟ ہمارے ارد گرد کتنے ہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم حقیر جانتے ہیں مگر فہم و عمل کے حوالے سے وہ ہم سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ اب تو کبھی کبھی دل چاہتافضلو کو بجائے فضلو کہنے کے فضل صاحب کہوں اور اس کے قدموں میں بیٹھ جاؤں مگر ایک نامعلوم سی جھجک آڑے آ جاتی۔ آج جبکہ وہ میرے ساتھ اس دنیا میں نہیں اس کی یاد دل کو بے قرار کر رہی ہے۔ بے بسی کا احساس بڑھ رہا ہے۔ بے بسی کا یہ بڑھتا ہوا احساس مجبور کر رہا ہےکہ ماتھا ٹیکوں، روؤں اوررب سے پوچھوں کیا فضل دین نےعلم حاصل کرنے کا فرض پورا کر لیا؟ اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ مگر ڈرتاہوں جب میرا رب پوچھے گا کہ علم کا حصول سب کے لیے یکساں آسان کیوں نہ رکھا ؟ اس فریضے کو مشکل اور پیچیدہ بنا کر اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان فاصلہ کیوں بڑھایا گیا تو میں کیا جواب دوں گا؟

ہم سب فضل دین اور ہر اس مسلمان بچے کے مجرم ہیں جو علم سیکھنا چاہتے ہیں مگر نہیں سیکھ پاتے۔ آؤ علم کو ہر سو عام کریں۔ اس کے حصول کو آسان کریں۔ اپنے نبی کے سچے امتی بن جائیں۔ اپنی بخشش کا سامان کریں۔ اللھم اغفرلی!

ٹیگز