پاکستان کے حالات اور سرونسٹن چرچل- عطا ء الحق قاسمی

قارئین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے، میں کہتا ہوں مجھے کیا پتہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ انٹرپول کے ذریعے اسحاق ڈار کو واپس لانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ انہیں کوئی ایسی بیماری نہیں ، جس کا علاج پاکستان میں نہ ہواور جنرل پرویز مشرف کو کون سی ایسی بیما ری لاحق ہے کہ جس کا علاج صرف بیرون ملک ہی ممکن ہے؟ میں کہتا ہوں مجھے کیا پتہ، وہ پوچھتے ہیں کہ نواز شریف کو بیٹوں سے تنخواہ وصولی نہ کرنے پر نہ صرف یہ کہ نا اہل قرار دے دیا گیا بلکہ ان کے خلاف نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، اور دوسری طرف عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی نیازی سروس کا اعتراف کیا اور انہیں با عزت طور پر ’’اہل‘‘ قرار دے دیا گیا، جسے ماہرین قانون ’’معجزہ‘‘ قرار دے رہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ میں کہتا ہوں مجھے کیا پتہ ہے ۔

وہ پوچھتے ہیں کہ قومی اسمبلی کےسپیکر سردار ایاز صادق اپنی جماعت مسلم لیگ ن کی کامیابیوں کے بارے میں مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیا اسی موقع پر اس طرح کی باتیں کارکنوں کا حوصلہ پست نہیں کرتیں۔ میں کہتا ہوں مجھے کیا پتہ ہے۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ مریم اورنگ زیب نے اقلیتوں کے حوالے سے ایسی کون سی بات کہہ دی کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ٹوئٹس کی یلغار ہو گئی ہے۔ اس سوال کا جواب تو میں بالکل نہیں دے سکتا کیونکہ مختلف دوستوں نے مجھے مذاقی ٹوئٹس فارورڈ کئے، میں نے ان میں سے ایک سرسری طور پر پڑھا اور اس کے بعد ان میں سے تین چار ٹویٹ بغیر پڑھے اپنے چند دوستوں کو فارورڈ بھی کردیئے، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ خود مجھے مریم اورنگ زیب صاحبہ کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں، مگر جب فرصت ملی اور وہ ٹویٹ پڑھے تو احساس ہوا کہ کم از کم اس معاملے میںنہ صرف یہ مریم اورنگ زیب کے بیان غلط لیا گیا ہے بلکہ دوسروں کوبھی خواہ مخواہ لپیٹ میں لے لیا گیا تھا۔

مریم اورنگ زیب نے جن ہندوئوں اور یہودیوں کی عمران خان کے لئے فنڈنگ کا ذکر کیا، ظاہر ہے ان کا اشارہ بیرونی عناصر کی طرف تھا، پاکستانی اقلیتوں کی طرف نہیں۔

سو صورت حال یہ ہے کہ آئے روزہر ذہن میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں اور وہ پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں اور کوئی واضح جواب نہیں دے پاتا۔ ایک سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ فوج میں احتساب کا اپنا نظام ہے۔ وہاں اگر کرپشن ہوتی ہے یا کوئی بھی غیر قانونی کا م ہوتا ہےوہ اپنے نظام کے تحت اس کی سزا سناتے ہیں۔ مگر انہیں عدالت میں نہیں جانا پڑتا، انہیں ہتھکڑی پہنا کر میڈیا کے سامنے نہیں پیش کیا جاتا۔ عوامی سطح پر ان کی کردار کشی نہیں ہو تی، ججوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔

کسی کرپٹ جج کا محاسبہ ان کی اپنی کونسل کرتی ہے یا کرنا چاہیے۔ مگر ہم نے کسی جج کو ہتھکڑی میں نہیں دیکھا نہ عوام میں ان کی ’’اوئے اوئے‘‘ کرائی جاتی ہے۔ صحافیوں اور وکیلوں کے معاملات بھی تقریباً اسی طرح ڈیل کئے جاتے ہیں ۔ صحافتی بے ضابطگیوں کے لئے پیمرا موجود ہے مگر اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، چنانچہ یہ سب طبقے اپنے اعمال کی سزا خود ہی سناتے ہیں ، اگر کبھی سناتے ہیں ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کروڑوں عوام کے منتخب کردہ سیاست دان اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ انہیں ہر دور میں عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔

ان کی سات پشتوں کی ایسی کی تیسی پھری جاتی ہے ، ان کی بے پناہ کردار کشی کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے جو کوئی ظالم مالک بھی اپنے گھریلو ملازموں کے ساتھ نہیں کرتا۔ ایسا کیوں ہے؟مجھے اس بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں، بس اس کا ایکحل ہے جو سیاست دانوں نے سوچ رکھا ہے اور ایک عرصے سے اس پر پورے صبر سے عمل پیرا ہیں کہ آپس میں لڑتے رہو اور ایک دوسرے کی ذلت پر خوش ہوتے رہو۔ پارلیمنٹ میں کوئی ایسا بل منظور نہ کرایا جائے کہ دوسرے طبقوں کی طرح پارلیمنٹیرین کا احتساب ہی صرف پارلیمنٹ کا استحقاق ہو گا اگر ایسا نہیں تو پھر محمود ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیں!

صرف یہی نہیں ، میرے قارئیں مجھ سے یہ بھی پوچھتے رہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کٹھ پتلیوں کے کھیل تماشوں سے بھری ہوئی ہے ۔

کٹھ پتلیوں کا یہ کھیل کب ختم ہو گا؟میں اس کے جواب میں دوسری جنگ عظیم کا واقعہ سناتا ہوں، جب جنگ طول پکڑ گئی اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی تو چرچل کا ایک دوست اس کے پاس گیا تاکہ پوچھے کہ یہ جنگ کب ختم ہو گی۔ وہ چرچل کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ چرچل نے سگار کا ایک لمبا کش لیا اور دوست سے پوچھا یار ،یہ جنگ کب ختم ہو گی؟
بس میں بھی اپنے قارئین کے سوالوں کے جواب میں ان سے وہی پوچھتا ہوں جو وہ مجھ سے پوچھ رہے ہوتے ہیں! آخر میں علی اکبر عباسی کی ایک تازہ غزل کے چند اشعار!
بیت و بانات کے اسباب ہی خدشات میں ہیں
تہہ نشیں لوگ سبھی ورطہء حالات میں ہیں
ہیں جو پروردہ اغیار ہمارے گھر میں
ایسے لگتا ہے کہ دن رات کسی گھات میں ہیں
پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا کہ پتھر کے ہوئے
واقعات ایسے بھی کچھ تازہ روایات میں ہیں
راستہ روکے ہوئے بیٹھے شیاطین زمان
خضر صورت لئے مصروف مناجات میں ہیں
آئے جمرات ثلاثہ پہ رمی کرنے جو
غور سے دیکھا تو شامل سبھی جمرات میں ہیں
حسن فطرت کو یہاں ڈھونڈنے جائیں تو کہاں
شہر کے شہر درانداز مضافات میں ہیں