بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا- امجد اسلام امجد

یوں تو جو بھی انسان اس دنیا میں پیدا ہوا ہے، ہے یا ہوگا اس کی مشترک اور مستقل شناخت ان دو بریکٹوں کی وساطت سے ہوتی ہے جن میں اس کا سن پیدائش اور سال وفات درج کیاجاتا ہے۔

لیکن بقول کسے زندگی ان دو ہندسوں کے درمیان گزرے شب و روز کی گنتی اور تعداد کا نہیں بلکہ اس کا اصل تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ جو مہ و سال کسی نے گزارے ان کے اندر ’’زندگی‘‘ اتنی تھی اور یہ وہ پیمانہ ہے جس پر بہت کم لوگ پاس ہوتے ہیں اور ان کی تعداد تو بہت ہی کم ہے جو فرسٹ ڈویژن یا کوئی خصوصی پوزیشن حاصل کرپاتے ہیں۔

اس اصول کا اطلاق یوں تو زندگی کے ہر شعبے پر یکساں ہوتا ہے لیکن اہل قلم کے حوالے سے یہ امتحان اور بھی کڑا اور مشکل ہوجاتا ہے کہ یہاں مقابلہ صرف ہم عصروں سے نہیں بلکہ ’’وقت‘‘ کی اس جولاں گاہ میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ گھمسان کا رن پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر احمد ندیم قاسمی مرحوم (پیدائش 20 نومبر 1916ء وفات 10 جولائی 2010ء) کے تقریباً 90 سالہ دور حیات میں صرف برصغیر پاک و ہند اور اردو زبان میں ہی کئی ایسے باکمال اور عہد ساز ادیب ہو گزرے ہیں کہ جن کے فکرو فن کو عالمی اثاثے کا درجہ حاصل ہے۔

قاسمی صاحب کا اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے بیک وقت چار حیثیتوں میں کام کیا اور ہر شعبے میں پہلی صف میں جگہ پائی۔ میری مراد افسانہ نگاری، شاعری، کالم نویسی اور ادارت سے ہے جب کہ ان کا پانچواں حوالہ تقریباً تین نسلوں کی وہ ادبی اور فکری رہنمائی بھی ہے جو انھوں نے ’’فنون‘‘ کی وساطت سے کی اور جس کے تربیت یافتہ بے شمار لوگ آج بھی ہماری ادبی فضا میں پیش پیش ہیں۔

20 نومبر 2017ء ان کا ایک سو ایک واں یوم پیدائش تھا جس کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد ماہنامہ ’’بیاض‘‘ کی طرف سے 13 دسمبر کو الحمرا آرٹ کونسل میں کیا گیا۔ اس تاخیر کی ایک وجہ اختیاری اور دوسری مجبوری تھی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اتفاق سے 20 نومبر قاسمی صاحب کے عزیز دوست اور ہم عصر اور بیسویں صدی کے بعداز اقبال سب سے بڑے شاعر فیض احمد فیض کا یوم وفات بھی ہے جو ہر برس بہت محبت اور احترام سے منایا جاتا ہے، لیکن دونوں تقریبات کے ایک ہی دن میں پڑنے کے باعث احباب کو زحمت اور پریشانی ہوتی تھی کہ حاضری دونوں جگہ ضروری ہے۔

سو طے پایا کہ اس کا کوئی ایسا حل نکالا جائے جس سے دونوں بزرگوں کی روحیں خوش اور ان کی مدا حین مطمئن ہوسکیں۔ اس ضمن میں محبان ندیم نے فیصلہ کیا کہ قاسمی صاحب کی سالگرہ 20 نومبر سے دو چار دن آگے پیچھے کرکے منائی جایا کرے تاکہ ٹکراؤ کے بجائے سہولت کا رستہ نکل سکے۔ اس اختیاری فیصلے کے تحت 27 نومبر کا دن طے ہوا۔ مگر اب مجبوری یہ آن پڑی کہ اس روز فیض آباد والے دھرنے نے پورا ملک بند کروادیا اور موٹروے اور جی ٹی روڈ سمیت کئی شہروں کی بیشتر سڑکیں بلاک ہوگئیں۔

سو ایک بار پھر تاریخ تبدیل کرنا پڑی۔ الحمرا کے ڈائریکٹر برادرم کیپٹن ریٹائرڈ عطا محمد کی خصوصی توجہ اور محبت سے ہال نمبر 3 کی بکنگ تو ہوگئی مگر اب معلوم ہوا کہ برادرم سعود عثمانی کے برخوردار کی وہ تقریب ولیمہ بھی جو دھرنے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑی تھی اسی دن ہونا قرار پائی ہے۔

برادرم عمران منظور سے مشورہ کرکے تقریب کے وقت کو ری ایڈجسٹ تو کرلیا گیا مگر اسی شام شاہراہ قائداعظم عرف مال روڈ پر کسانوں کا دھرنا شروع ہو گیا مجھے گھر سے بیگم اور برخوردار عاقب انور کو لے کر رائے ونڈ روڈ پر عزیزی ابن سعود کے ولیمے میں پہنچنا تھا اور یہ فاصلہ کم از کم ڈیڑھ گھنٹے کا تھا۔

جبرو اختیار کے اس پریشان کن سفر کی روداد یقیناً آپ کے لیے کسی دلچسپی کی حامل نہیں ہوگی مگر اب کیا کیا جائے کہ ’’ردیف آخر میں ضرور آتی ہے‘‘ اب اس کی وضاحت کے لیے احسان دانش مرحوم سے متعلق ایک بہت ہی دلچسپ واقعے سے رجوع کرنا پڑے گا لیکن اس میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ واقعہ بہت دلچسپ اور مزیدار ہے اور ہے بھی بالکل سچا کہ اس کے راوی خود قاسمی صاحب ہیں۔ احسان صاحب بتاتے تھے کہ ایک دفعہ ان کے پاس ایک نوجوان شاعر اپنی ایک غزل بغرض اصلاح لایا جس کا مطلع کچھ یوں تھا۔

میں نہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں گا نہ سمجھاؤ مجھے
بس خدا کے لیے آگے سے سرک جاؤ، مجھے
احسان صاحب نے کہا برخوردار یہ دوسرے مصرعے کے ’’مجھے‘‘ کا کوئی محل یا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ اس پر اس نام نہاد ’’برخوردار‘‘ نے بہت غصے اور افسوس آمیز نظروں سے احسان صاحب کی طرف دیکھا اور بولا ’’کمال ہے آپ اتنے بڑے شاعر اور استاد بنے پھرتے ہیں اور آپ کو اب تک یہ بھی نہیں پتہ کہ ’’ردیف آخر میں ضرور آتی ہے‘‘
مجھے اچھی طرح یاد ہے احمد ندیم قاسمی مرحوم اس واقعے کو دہراتے ہوئے بے حد ہنسا کرتے تھے۔ تقریب کی صدارت قاسمی صاحب کی صاحبزادی ڈاکٹر ناہید قاسمی نے کی جب کہ مہمان خصوصی برادرم جلیل عالی تھے جو اس تقریب میں شرکت کے لیے خاص طور پر اسلام آباد سے آئے تھے اور اتفاق سے اس محفل کے شرکاء میں وہ واحد شخص تھے جنھوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں احمد ندیم قاسمی صاحب کے نام سے منسوب کی جانے والی اس سڑک کا وہ بورڈ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھوا ہے جس پر ’’احمد ندیم قاسمی ایونیو‘‘ کے الفاظ درج کیے گئے ہیں۔

یہ سڑک اسلام آباد کی تین مرکزی سڑکوں میں سے ایک ہے اور اس سے پیشتر اس کو سیونتھ ایونیو کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہ معاملہ اگرچہ بہت دنوں سے CDA اور حکومتی ایوانوں میں چل رہا تھا مگر اس کو عملی شکل دینے میں عزیزی یاسر پیرزادہ نے بہت محنت اور توجہ کی ہے۔ حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف بھی قاسمی صاحب کے حوالے سے اسی طرح کی کسی یادگار کو عملی شکل دینے کی طرف متوجہ ہوں گے۔

اپنے ادبی مشاہیر کی عزت کے حوالے سے تقریباً ہر مہذب معاشرے میں ان کے ناموں سے مختلف چیزوں اور جگہوں کو منسوب کیا جاتا ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ اب ہمارے شہروں میں بھی یہ رویہ ایک رواج کی شکل اختیار کرلے گا کہ بقول شاعر ’’سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا‘‘ اور اہل قلم بلاشبہ کسی معاشرے کے بہترین معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔

برادر عزیز عرفان صوفی کو جب میں نے یہ بات بتائی کہ وہ بے حد خوش ہوا اور مجھے یاد دلایا کہ شکاگو کے نزدیک جس خوبصورت قصبے نیپرول میں وہ رہتا ہے اس کی ہر سڑک کا نام کسی نہ کسی لکھاری کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کے امریکا ہی میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے بچے اسد اور سروش بھی اس بار اس کے ساتھ آئے ہیں۔ انھوں نے قاسمی صاحب کا ایک شعر بار بار فرمائش کرکے سنا، آئیے ہم بھی اس کی معرفت ان کو پھر سے یاد کرتے ہیں۔

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا