بیت المقدس کا ایک ممکنہ حل - داؤد ظفر ندیم

بہت سے دوستوں نے بیت المقدس کے حل کے لیے یہ تجویز کیا ہے کہ بیت المقدس کو ایک بین الاقوامی شہر کا درجہ دیا جائے جس کا انتظام ایک ایسی کونسل کے پاس ہو جس میں تینوں ابراہیمی مذاہب کے نمائندے شامل ہو۔ مگر یہ بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ مسیحی بیت المقدس کی فتح کے بعد رضاکارانہ طور پر اس سے الگ ہوئے ہیں۔ پوپ اور پروٹسٹنٹ بڑوں نے 1930ء و 1940ء کی دہائیوں میں یورپ کو یہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ بیت المقدس مسیحیوں کا ایک مقدس شہر ہے اس کا انتظام مسیحی کونسل کے پاس ہو جس میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذاہب کے نمائندے شامل ہوں بلکہ یورپ نے یہاں یہودیوں کی آبادکاری اور قبضے کی حمایت کی۔

1948 کا وقت ایک فیصلہ کن وقت تھا جب اردن کے بادشاہ اور شریف مکہ کے بیٹے شاہ عبداللہ کی افواج نے یروشلم کے مشرقی حصے میں پیش قدمی کرتی ہوئی اسرائیلی افواج کو روک لیا اور غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کرلیا۔ شاہ عبداللہ کی کوشش تھی کہ وہ اس سرحد بندی کو اسرائیل کے ساتھ مستقل کرلے اور دونوں ممالک میں سرحد بندی ہوجائے مگر ایک فلسطینی کے ہاتھوں قتل کے بعد اس کے جانشین شاہ حسین کو یہ جرات نہ ہوسکی کہ وہ اس موضوع پر بات آگے بڑھا سکتا۔ 1967 میں اسرائیلی افواج نے مشرقی حصے پر بھی قبضہ کرلیا اور بعد میں اس کو اپنا حصہ بنالیا۔

اس مسئلے میں پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب 1994ء میں مصر نے غزہ کی پٹی اور اردن نے غرب اردن اور بیت المقدس سے دست برداری کا اعلان کیا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی ایک چال تھی کہ ایک کثیر الملکی مسئلے کو اسرائیل کا اندرونی مسئلہ بنایا جائے اور فلسطینیوں کو بعض علاقے میں جزوی طور پر بلدیاتی اختیارات دیے جائیں۔

مگر وقت کے ساتھ ثابت ہوگیا ہے کہ دو ریاستی حل ایک فراڈ کے سوا کچھ نہیں۔ حل یہی ہے کہ 1967ء سے پہلے کی پوزیشن کو بحال کیا جائے۔ مصر اور اردن اپنے علاقوں سے دست برداری واپس لیں، مصر غزہ کو اپنا علاقہ قرار دے جہاں وہ فلسطینیوں کو اپنے زیر انتظام ایک بااختیار بلدیاتی حکومت بنانے کی اجازت دے گا جبکہ اردن غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر دعویٰ کرے بیت المقدس کی تولیت کا حق جتلائے اور اپنے زیرانتظام علاقوں میں فلسطینیوں کو بااختیار بلدیاتی حکومت کا حق دے۔

ایک کمزور فلسطینی حکومت ہمیشہ اسرائیل کی ناکہ بندی کا شکار رہے گی مصر اور اردن اقوام متحدہ سے بھی اپنے علاقوں کی واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور یہودیوں کی آباد کاری بھی رکوا سکتے ہیں جبکہ وہ اسرائیل کی ناکہ بندی کے خوف کا بھی شکار نہیں ہوں گے۔