فاٹا میں ریفرنڈم کیوں نہ کروا لیا جائے؟ - تزئین حسن

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومتی اتحادی محمود خان اچکزئی نے فاٹا کو آزاد علاقہ قرار دے دیا، جس پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ ہوا۔ فاٹا یعنی (Federally Administered Tribal Areas)جنھیں عرف عام میں علاقۂ غیر یا قبائلی علاقے بھی کہا جاتا ہے ، میں باجوڑ، کرم ایجنسی، مہمند، خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، شمالی اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔ اس کی سرحدیں مشرق اور جنوب میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان اور مغرب اور شمال میں افغانستان سے ملتی ہیں۔ اس خطے کے مرکزی شہر پاراچنار، میران شاہ، رزمک، وانا، جمرود اور لنڈی کوتل ہیں اور یہ خطہ وفاق سے براہ راست پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

فاٹا کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ یا تو "فاٹا کو الگ صوبہ قرار دیا جائے یا خیبرپختونخوا ساتھ شامل کردیا جائے۔ "

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پختون خواہ عوامی ملی پارٹی کے ایم این اے محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ فاٹا آزاد علاقہ ہے، پاکستان کا حصہ نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا فاٹا پر کوئی حق نہیں، فاٹا کو چھیڑا تو فوج وہاں پھنس جائے گی۔

جہاں تک اچکزئی صاحب کے بیان کا تعلق ہے ہم انہیں یہ یاد دلا دیں کہ 12 نومبر 1893ء کو افغانستان کے امیر عبد الرحمان اور برطانیہ کی طرف سے سفارت کار اور سول سرونٹ سر مورٹیمر ڈیورنڈ نے پارا چنار میں باقاعدہ ایک سرحدی معاہدے کے ذریعے افغانستان اور پاکستان کے درمیاں ڈیورنڈ لائن کو سرحد قرار دیا تھا۔ ڈیورنڈ لائن کے مشرق میں نہ صرف موجودہ کے پی کے بلکہ فاٹا کا علاقہ بھی شامل تھا۔ یہی نہیں افغانستان کی جانب سے 1919ء، 1921ء اور 1930ء میں اسے بارڈر تسلیم کیا گیا۔ یہی نہیں خان عبدا لغفار جیسے پشتون نشنلسٹ لیڈرز نے تقسیم کے وقت ایک متحدہ انڈیا کی بات کی متحدہ افغانستان کی نہیں۔ پاکستان کو ڈیورنڈ لائن کی یہ سرحد صرف وراثت میں ہی نہیں ملی بلکہ سرحدی صوبے کے اپنے عوام کی خواہش پر ملی ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے ہم یہ بھی بتا دیں کہ اس سرحد کے تعین سے برطانیہ نے روس اور برٹش انڈیا کے درمیان افغانستان کو ایک بفر زون تسلیم کر لیا تھا اور اپنے طور پر گریٹ گیم کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ سینٹرل ایشیا سے انڈیا پر حملہ آور ہمیشہ افغانستان سے ہی بر صغیر میں داخل ہوئے۔

ڈیورنڈ لائن نامی سرحد جسی جیو اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دنیا کی خطرناک ترین سرحد قرار دیا گیا، نہ صرف پشتون قبائلی بیلٹ کو قطع کرتی ہے بلکہ اس نے بلوچستان اور گلگت بلتستان کے حصوں کو بھی قطع کیا جن کے کچھ حصے افغانستان کے شمال مشرقی اور جنوبی صوبوں میں شامل ہوئے۔

قبائلی علاقوں کا پاکستان کے ساتھ انضمام ایک ایسا اشو ہے جس پر مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ پاکستان کا ہرسیاستدان چاہے اس کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہو یا جماعت اسلامی سے، تحریک انصاف سے ہو یا اے این پی سے، متفق ہے۔ خود فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کی اکثریت اور خیبر پختون خواہ اسمبلی بھی اس پر راضی ہے۔ محض فضل الرحمان اور اچکزئی جیسی کباب میں ہڈیوں کو بہانہ بنا کر حکومت اس معاملے کو ٹال رہی ہے۔

ریفرنڈم سے ملک دشمن عناصر کے ساتھ انڈیا اور افغانستان کا منہ بند کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ صرف ایک علاقے کو اس کی آئینی حیثیت دینے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ مملکت پاکستان کو مغربی سرحدوں پر در پیش تشویشناک چیلنجز سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی میں جو بے تحاشہ اضافہ ہوا اس کا بھی ایک سبب یہی ہے کہ وہاں حکومت پاکستان کی رٹ نہیں ہے۔ فاٹا کے معاملات پر اتھارٹی سمجھے جانے والے پاکستان کے معروف صحافی اور سلیم صافی کے مطابق " ٹی ٹی پی اور داعش کے اس علاقے میں پھلنے پھولنے کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ وہاں پاکستان کا آئین اور قانون نافذ نہیں۔ "

یہ بھی پڑھیں:   خیبر پختونخوا کی حالت بدترین ہے - چیف جسٹس

سات جولائی 2017 کو سلیم صافی نے اپنے پروگرام جرگہ میں وفاقی وزیر عبدا لقادر کے ساتھ فاٹا میں اصطلاحات کے موضوع پر تفصیلی گفتگو رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سترسال میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ملٹری، قبائلی اور مین اسٹریم سیاسی جماتیں سب انضمام پر متفق ہیں۔ عبد القادر بلوچ کا کہنا تھا کے حکومت اپنا کام کر رہی ہے اور یہ کام اتنی جلدی ممکن نہیں۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ "میں الله کو حاضر ناظر جان کر آپ کو بتاتا ہوں وہاں کے لوگ اس نظام سے تنگ آ گئے ہیں" اور اس مرجر (انضمام) کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں اور شاید اسی لیے پانامہ حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ قبائلی علاقے کے خود اس معاملے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ افضل السلام پشاور یونیورسٹی کےپچیس سالہ طالب علم ہیں (نام ان کی خواہش پر تبدیل کر دیا گیا ہے) ان کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جو فاٹا کی آٹھ ایجنسیز میں سب سے چھوٹی ایجنسی تصور ہوتی ہے اور افغانستان کے ساتھ 52 کلومیٹر لمبا بارڈر شئیر کرتی ہے۔ افضل اپنے خاندان کے ساتھ 2008ء میں فوجی آپریشن کی با عث باجوڑ سے پشاور منتقل ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاٹا کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق فاٹا کےعوام کا کہنا ہے کہ یا تو "فاٹا کو الگ صوبہ قرار دیا جائے یا کے پی کے ساتھ شامل کردیا جائے۔ "

فاٹا کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پاکستانی آئین اور قانون نافذ نہیں ہے۔ یہاں انگریز کے زمانے کا FRC یعنی فاٹا کریمنل ریگولیشنز نافذ ہے جس کے مطابق اسلام آباد سے بھیجا ہوا سول سرونٹ جسے پولیٹیکل ایجنٹ کہا جاتا ہے یہاں کے تمام معاملات کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ افضل کا کہنا تھا کے فاٹا کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انگریزوں کے بنائے ہوئے کالے قانون FRC یعنی فاٹا کریمنل ریگولیشنز کو ختم کیا جائے جس میں پولیٹیکل ایجنٹ کو وزیر اعظم پاکستان سے زیادہ اختیارات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ FCR کے تحت ایک آدمی جرم کرتا ہے اسکے پورے قوم خاندان کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔

افضل کو فاٹا میں پاکستانی حکومت کے کردار پر بھی کوئی اعتراض نہیں اگر وہ ترقیاتی کاموں میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں اور فاٹا کے عوام کو ان کے جائز حقوق دیں۔ فاٹا کے لوگوں کو فوج سے شکایات ہیں مگرافضل اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ فوج کے آنے کے بعد سے علاقے میں تبدیلی آئی ہے۔ افضل کا کہنا تھا کہ 2008ء کے بعد سے ترقی ہوئی ہے، خصوصاً فوج نے اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا ہے اور اس سے تعلیم کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ سروس کو اس کے اجراء کے بعد پراسرار طور پر ختم کر دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستانی فوج اور قبائلی ایک ایسے شیطانی چکّر میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:   خیبر پختونخوا کی حالت بدترین ہے - چیف جسٹس

عوام فوج سے شکایتوں کے باوجود دہشت گردوں کے ساتھ نہیں۔ افضل کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے 2006ء میں باجوڑ مدرسے میں بڑی تعداد میں بچوں کی شہادت اور 2007ء میں لال مسجد پر فوجی آپریشن کو exploit کر کے بھی معصوم نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ شروع میں اسلامی نظام کے نعرے نے بھی عوام کو متاثر کیا کیونکہ قبائلی علاقے کے لوگ اسلام پسند ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے قیام کے بعد اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ دہشت گرد ان میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں مگر عام تاثر یہی ہے کہ اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔

افضل کے مطابق فاٹا کے لوگوں کو ایک شکایت یہ بھی ہے کہ دوسرے علاقوں کے لوگوں نے ماضی میں فاٹا کے جعلی شناختی کارڈ اور ڈومیسائل بنوا کر ان کے کوٹے پر میڈیکل کالج اور انجینرنگ یونیورسٹی میں ایڈمشن لیے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو فاٹا کے رہائشی نہیں مگر وہاں کے ڈومیسائل کا فائدہ اٹھا کر فاٹا کے اصل غریب لوگوں کا حق مار رہے ہیں۔

افضل کا کہنا ہے کہ ہم بھی پاکستان ہیں۔ ان کی ایک شکایت یہ ہے کہ "جب ہم پنجاب یا پاکستان کے کسی اور علاقے میں جاتے ہیں تو وہاں ہمیں رجسٹریشن کروانا پڑتی ہے جبکہ ہم بھی پاکستانی ہیں۔ " اس کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے شدید محبت کرتے ہیں اور عوام فاٹا میں حکومت پاکستان کا کردار چاہتے ہیں۔ "

پاکستان حکومت اس معاملے کو پہلے ہی بہت لمبا لٹکا چکی ہے۔ اس سے قبل کہ معاملات اور خراب ہوں ایمرجنسی بنیاد پر اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ کام ملک میں اگلے الیکشن سے پہلے ہونا چاہیے۔ یہ علاقہ جو کبھی پاکستان کی مغربی سرحدوں کی حفاظت کا کام کرتا تھا اسے آج دشمن علاقہ سمجھ لیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے قومی دھارے میں شامل کر کے وہاں کے عوام کو احساس دلایا جائے کے وہ پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ یاد رہے یہاں کی صورت حال بلوچستان سے بہت مختلف ہے جہاں کے کچھ علاقوں میں پاکستان کے قیام سے ہی پاکستان مخالف جذبات موجود رہے ہیں۔ انہیں اپنا بنانا اتنا مشکل کام نہیں۔

ہمارے نزدیک مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے بیانات کا ایک شافی علاج یہ ہو سکتا ہے کہ فاٹا میں فوج کی نگرانی میں انضمام کے مسئلے پر ریفرنڈم کروا لیا جائے جس سےعلاقے میں جمہوری روایات کا اجراء بھی شروع ہو، افغانستان کا منہ بند کرنے میں بھی آسانی رہے جو اٹک تک کے علاقے کے الحاق کا خواب دیکھتا ہے، اور مودی کو بھی آئینہ دکھایا جا سکے جو ستر سال سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیر میں ریفرینڈم کروانے کے بجائے ڈھٹائی سے پاکستان کو بلوچستان اور دیگر علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے طعنے دیتے ہیں۔