یونیورسٹی میں ٹی ٹی ایس پر ملازمت: ایک جائزہ - حافظ محمد زبیر

پاکستانی یونیورسٹیوں میں اس وقت ہائرنگ دو طرح سے کی جاتی ہے؛ بی پی ایس (BPS) پر اور ٹی ٹی ایس (TTS)۔ بی پی ایس سے مراد "بیسک پے اسکیل" ہے کہ جو تعلیمی اور دیگر سرکاری اداروں میں ہائرنگ کا پرانا طریقہ کار ہے اور عرصہ دراز سے چلا آ رہا تھا۔ اسے عرف عام میں "پکّی نوکری" کہا جاتا ہے۔ اس میں پینشن اور دیگر سرکاری سہولیات وغیرہ بھی ملازم کو میسر ہوتی ہیں۔

کچھ عرصہ سے تعلیمی سیٹ اپ میں پروفیسرز کی ہائرنگ کا ایک نیا طریق کار متعارف کروایا گیا ہے کہ جسے ٹی ٹی ایس کہا جاتا ہے۔ اسے اس قدر پروموٹ کیا گیا ہے کہ اب سرکاری یونیورسٹیاں تقریباً 95 فی صد ہائرنگ ٹی ٹی ایس پر کرتی ہیں کہ جس کا مطلب ہے "ٹینورڈ ٹریک سسٹم"۔ یہ عرف عام کے مطابق "پکی نوکری" نہیں ہے اور نہ ہی اس میں پینشن یا دیگر سہولیات موجود ہوتی ہیں۔

یونیورسٹی ایک پی ایچ ڈی کو ٹی ٹی ایس پر تین سال کا کانٹریکٹ دے کر اسسٹنٹ پروفیسر کا عہدہ دیتی ہے جو کہ انیسیواں اسکیل بنتا ہے۔ یہ کانٹریکٹ مزید تین سال کے لیے ایکسٹینڈ ایبل ہوتا ہے۔ ان چھ سالوں کی کارکردگی سے اگر یونیورسٹی مطمئن ہو تو اس کے بعد مزید چار سال کا کانٹریکٹ ہو سکتا ہے اور اس کے بعد مزید ایک مرتبہ پھر چار سال کا کانٹریکٹ ہو سکتا ہے۔ اس طرح چودہ سال کی سروس کے بعد اگر یونیورسٹی مطمئن ہو تو ٹی ٹی ایس پروفیسر کو "ٹینورڈ پروفیسر" کر سکتی ہے یعنی جس کی نوکری پکّی ہے۔

کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

ٹی ٹی ایس کا فائدہ پروفیسر کو یہ ہے کہ اس میں تنخواہیں بی پی ایس سے زیادہ ہیں لیکن لم سم پے (lump sum pay) ہے۔ ٹی ٹی ایس پر ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ ایک لاکھ 28 ہزار سے شروع ہوتی ہے جبکہ بی پی ایس پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ اس سے کافی کم ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کو فائدہ یہ ہے کہ اس کے بقول اس سے پروفیسر کی پرفارمنس بڑھ جاتی ہے کہ پروفیسر کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اچھی پرفارمنس نہ دکھائی تو یونیورسٹی کانٹریکٹ کو ایکسٹینڈ نہیں کرے گی۔

یونیورسٹی کو دوسرا فائدہ مالی ہے کہ ایچ ای سی (HEC) اس فیکلٹی کی تنخواہوں میں اپنا خاطر خواہ مالی حصہ ڈالتی ہے کہ جو ٹی ٹی ایس پر ہوں لہٰذا یونیورسٹیاں ایچ ای سی سے پیسہ لینے کے لیے بھی ٹی ٹی ایس پر ہائرنگ کرتی ہیں۔ ایچ ای سی کا فائدہ یہ ہے کہ اس نے یہ باؤنڈ کیا ہوا ہے کہ ٹی ٹی ایس اسسٹنٹ پروفیسر سال میں دو ریسرچ پیپرز چھاپے گا جو کہ معیاری ریسرچ جرنلز میں شائع ہونے چاہئیں اور اس سے ملک میں ریسرچ کا معیار بلند ہو گا۔

یونیورسٹی کو یہ بھی فائدہ ہے کہ ایچ ای سی جو یونیورسٹیوں کی سال بھر کی رینکنگ کرتی ہے تو اس میں پہلے نمبر پر ریسرچ کو رکھا گیا ہے کہ جس کے 100 میں سے 41 نمبرز ہیں اور ٹیچنگ کے نمبرز اس سے کم ہیں کیونکہ اب ریسرچ کی اس دوڑ میں وہ کسی کا مقصود نہیں رہی ہے، نہ ایچ ای سی (HEC) کا اور نہ ہی یونیورسٹی کا۔ لہٰذاجو پروفیسر پیپر چھاپ رہا ہے، وہ قابل بھی ہے اور منظور نظر بھی، بھلے کلاس لینے کا اہل نہ بھی ہو۔

ٹی ٹی ایس میں سب سے زیادہ نقصان پروفیسر کا ہے۔ شروع میں زیادہ تنخواہ اچھی لگتی ہے، لوگ ٹی ٹی ایس جوائن کر لیتے ہیں بلکہ اب تو یونیورسٹیاں خیر اس کے علاوہ آپشن ہی نہیں دیتی۔ بی پی ایس پر ہائرنگ ختم ہو چکی ہے بلکہ جو پرانے ہیں بھی انہیں بھی گھسیٹ کر ٹی ٹی ایس میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تین سال گزارنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے معیاری جرنلز میں کوئی پبلیکیشن نہیں کی لہٰذایونیورسٹی آپ کا کانٹریکٹ ایکسٹینڈ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔

اب معیاری ریسرچ جرنلز میں پبلشنگ بھی ایک پورا ڈرامہ اور فنکاری ہے کہ جس کے بارے ہم پہلے کئی ایک تحریریں شیئر کر چکے ہیں۔ چھ، چھ اور سات، سات پروفیسرز مل کر ایک مقالہ شائع کرتے ہیں کہ کم از کم سات آٹھ تک کے ایک ساتھ مقالہ لکھنے کی اجازت ہے۔ ایسے میں مقالہ لکھنے والے ایک دو ہی ہوتے ہیں، باقیوں کی جاب بچانے کے لیے ان سے تعاون کیا جاتا ہے۔ ایسے معیاری امپیکٹ فیکٹر ریسرچ جرنلز موجود ہیں کہ جن میں پیسے دے کر مقالے چھپوائے جا سکتے ہیں اور پروفیسر پیسے شیئر کر کے بے کار مقالے اچھے جرنلز میں چھپوا لیتے ہیں۔

تو بھئی پاکستان میں ریسرچ ہو رہی ہے، خوب معیاری ریسرچ ہو رہی ہے۔ یہ سب ریسرچ، تحقیق کے عالمی معیارات کے مطابق بہت اعلیٰ درجے کی ریسرچ ہے لیکن پروفیسروں، یونیورسٹیوں اور خود ایچ ای سی کو بھی معلوم ہے کہ ردی کی ٹوکری میں جانے والی ریسرچ ہے۔ لیکن چونکہ ایچ ای سی نے حکومت سے فنڈ لینا ہے لہٰذااسے حکومت کو کاغذوں میں اعداد وشمار کی زبان میں یہ بتلانا ہے کہ اتنی سائینٹفک ریسرچ پاکستان میں ہو رہی ہے اور یونیورسٹی نے چونکہ ایچ ای سی سے فنڈ لینا ہے لہٰذااسے کاغذوں میں اعداد وشمار کی رپورٹنگ کر کے یہ بتلانا ہے کہ اتنے ریسرچ پیپرز ہماری فیکلٹی نے چھاپ دیے ہیں۔ اتنی سائینٹفک ریسرچ کے باوجود ہماری جائے نماز اور تسبیح بھی "میڈ ان چائنا" ہے۔

اس سب کچھ کا نقصان سرکاری یونیورسٹیوں کو یہ بھی ہو رہا ہے کہ برین ڈرین (Brain Drain) ہو رہا ہے۔ ایک اس وجہ سے کہ پرائیوٹ یونیورسٹیوں نے ٹی ٹی ایس پروفیسرز کو زیادہ تنخواہیں آفر کرنا شروع کر دی ہیں۔ اب ان کی ملازمت تو پکّی تھی نہیں لہٰذاوہ تنخواہ کے لیے وہاں رکے تھے، جب زیادہ کی آفر ہوئی تو سوئچ کر گئے۔ دوسرا یہ کہ اچھے ٹیچرز اس مصنوعی ریسرچ کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے اپنی جاب کو محفوظ تصور نہیں کر پاتے لہٰذاوہ بھی شفٹ کرتے جا رہے ہیں۔

بھئی اگر اچھا یونیورسٹی ٹیچر بننا ہے اور حقیقی معنوں میں ریسرچر بننا ہے تو بی پی ایس کو ترجیح دیں اور اسی پر ملازمت کریں۔ اب اگرچہ ٹی ٹی ایس کے نقصانات سامنے آ رہے ہیں لیکن ابھی اس نظام کے غلط ہونے کو سمجھنے اور ہضم کرنے میں مزید دس، پندرہ سال اس قوم کو لگ سکتے ہیں۔ اگر یہ نظام اتنا ہی پروفارمنس بڑھا دیتا ہے تو اسے سول بیوروکریسی میں نافذ کرو نا ذرا!

انہیں "چول" بنانے کے لیے پروفیسر ہی ملے ہیں جو اتنی اعلیٰ تعلیم کے بعد تین سال کی کانٹریکٹ جاب پر راضی ہو جاتے ہیں جہاں ہر وقت ٹی ٹی ایس کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ ذرا پولیس، فوج، واپڈا، واسا، ریلوے اور دیگر وزارتوں وغیرہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹی ٹی ایس نافذ کر کے تو دیکھیں، چند ہفتوں میں ملازمین کے احتجاج کی بدولت ان کی حکومت جاتی رہے گی۔