’میں‘ اور زندگی کی تباہ کاریاں - نمرہ شارق

آج یونیورسٹی سے واپسی پر شدید تھکن کی وجہ سے آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ ابھی مین روڈ پر گاڑی پہنچی ہی تھی کہ سائرن کی آواز کانوں میں پڑی۔ جھنجھلا کر آنکھیں کھولیں تو کہیں کچھ نظر نہیں آیا۔ غنودگی کے باعث کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ آواز نزدیک آتی گئی۔ قریب آنے پر سامنے والا منظر نہایت اندوہناک تھا، دل ڈوبا جاتا تھا۔ اور آنکھیں شرمندگی کے باعث کھل نہیں سکتی تھیں۔ اپنے جھنجھلانے پر میں شرمند ہونے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ لیکن احساس ندامت فقط اس وجہ سے تو نہیں تھا۔ میں تو شرمندہ تھی اس قوم کا انسان ہو کر۔

ایمبولینس بالکل میری گاڑی کے پیچھے تھی۔ اس کا سائرن چیخ چیخ کر کسی الم ناک واقع کے منظر پذیر ہونے کا اعلان کر رہا تھا۔ ڈرائیور بے تاب تھا کہ ایمبولینس کو اڑا کر منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اندر بیٹھے افراد بے چین دکھائی دیتے تھے۔ کچھ ورد میں مصروف تھے تو کچھ کھڑکی سے باہر لاچار سی نگاہ ڈالتے تھے۔ نجانے ان کا کوئی پیارا زندگی اور موت کی کشمکش میں کس حد تک گرفتار تھا۔ ٹریفک کے ہجوم میں وہ ایمبولینس پھنس چکی تھی اور کوئی انسان اسے راستہ دینے کو تیار نہ تھا۔ ہر انسان جلد از جلد گھر پہنچنا تھا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شام کی چائے پی سکے۔ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلے اور آرام کرے۔

نہیں تھی تو کسی انسان کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ جانے کون اس ایمبولنس میں موجود ہے؟ کسی کو اس بات کا خیال نہیں تھا کہ گاڑی میں لیٹا ہوا شخص بھی اپنے گھر جانا چاہتا ہے، اس کے بچے بھی اس کا انتظار کرتے ہوں گے۔ لیکن وہ بجائے گھر جانے کے اسپتال جا رہا ہے۔ ایمبولنس کا سائرن علی اعلان کہہ رہا ہے کہ کچھ بھی افسوسناک ہو سکتا ہے۔ مگر ہم اس قدر بے حس ہیں کہ ہمیں وہ سنائی ہی نہیں دیتا۔ چلو مانا کہ اگر ٹریفک جام ہو تو انسان نہیں دے سکتا لیکن کوشش تو کی جا سکتی ہے؟ ایمبولنس میں موجود لوگوں سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہو لیکن اسپتال پہنچنے میں ان کی مدد کر کے ان سے انسانیت کارشتہ تو بنایا جا سکتا ہے۔

مگر کہاں کی انسانیت؟ وہ جو اس دور میں ناپید ہے۔ ہم سب immune ہو چکے ہیں، بالکل صُم بکم اور بے حسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ باشعور اور تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی ہمیں کسی چیز کا علم نہیں۔ اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی تو ہمارے لیے اہم ہے لیکن دوسروں کی زندگی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ ہم کسی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم نے اپنی زندگی سے ’ہم‘ کو نکال کر ’میں‘ جگہ دے دی ہے اور میں ہی اصل وجہ ہے لا تعلقی کی۔

کاش کہ ہم سب اپنے اپنے خول سے باہر نکل آئیں، اپنی انا خود غرضی اور سب سے بڑھ کر اپنی ’میں‘ کو ختم کر دیں۔ ’ہم‘ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں۔ تب ہی ہم ایسا معاشرہ اور ایسی قوم بنیں گے جہاں ’میرا مسئلہ‘ نہیں بلکہ ’ہمارا مسئلہ‘ ہوگا۔ جہاں ’ہماری خوشیاں‘ ہوں گی اور ’ہمارے غم‘ ہوں گے۔ جہاں ہر انسان دوسرے کی خوشی اور غمی کو اپنے خوشی اور غم تصور کرے گا اور جہاں ایمبولینس میں پڑے انسان کی فکر بالکل اپنے بھائی کی طرح ہی کی جائے گی۔ پھر ’ہم‘ سب اپنی گاڑیاں ایک طرف کر کے ایمبولینس کو جگہ دیں گے اور اس کے اندر موجود اشخاص کی آنکھوں میں کرب اور بے چینی کے بجائے شکریہ کی مسکان ہوگی۔

یہ لکھتے ہوئے یہ بات ذہن میں آرہی ہے کہ ہم یہ سب کیسے کر سکیں گے؟ تو یقین جانیں بہت سی آسان عمل ہے۔ ’ہم‘ حاصل کرنے کے لیے زندگی میں جھنجلانے کے برداشت پیدا کیا جائے۔ ایک دوسرے کے لیے دل میں عزت رکھی جائے۔ ہر شخص کو اپنی طرح کاانسان سمجھا جائے اور ان سے اپنے ہی خاندان کے فرد کی طرح ہی پیش آیا جائے۔ یہ چند عمل ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آئیں گے۔ اورزندگی خوشیوں کے ڈگر پر چل پڑے گی۔