سقوط ڈھاکہ اور دوہرا معیار - صوفی نعمان ریاض

معلوم ہے زندگی تسلسل کا نام ہے، استقامت اور مستقل پن کا نام ہے، ہر لمحہ سانس لینا اور روزانہ وقت پر کھانا پینا اسی تسلسل کی علامت ہیں کہ جو چیز ناگزیر ہو تو اس کے وقوع پذیر ہونے میں غیر معمولی توقف اس کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ ہم لوگ دراصل ایونٹس کے عادی ہو گئے ہیں، ہم نے بنایا ہوا ہے ہنسنے، رونے، شادیانے بجانے اور نوحہ خوانی کرنے کا شیڈول، ہم نے دن مخصوص کر دیے ہیں ہر کام کے لیے اور یہی جدید طرز زندگی ہمارے رنج و الم کو ختم تو کیا، کم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔

کہاں سن 71ء کے بعد روز ہر ہر لمحہ ہم نے رونا تھا کہ جوان ہوتی نسلیں ہر وقت ہمیں حالت غم میں دیکھ کر عبرت پکڑ لیں۔ کہاں ہم نے ایک دن مخصوص کر دیا؟ کہاں ہم نے پہلے ناحق قتل پر مرثیہ خوانی اور احتجاج سے باز نہیں آنا تھا کہ دوبارہ ایسا درد دینے والا جرات ہی نہ کرے، لیکن کہاں ہم نے سانحوں اور حادثوں کو تواریخ سے منسوب کر دیا؟

اب ہم بہت سیانے ہیں، عیدین، عاشورہ، ربیع الاول، ماہ صیام سمیت تمام مذہبی تہواروں کو تو ہم نے ان کے اپنے اپنے خانے میں مقید کر ہی دیا تھا، اب ہم اس دستور کو بھی اپنا چکے ہیں، 16 دسمبر کو پہلے ڈھاکہ اور پھر اے پی ایس کا ذکر کر کے ٹسوے بہائیں گے۔ 25 دسمبر کو قائد سے والہانہ محبت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی وش کر دیں گے۔ 14 فروری کو اوٹ پٹانگ طریقے سے لڑتے جھگڑتے محبت کا دن منالیں گے تو فروری میں کشمیر سے یکجہتی کا دن، مارچ اور اپریل میں موج بہار ہو نہ ہو بہرحال ایکٹنگ ضرور کر لیں گے۔ مئی میں مزدور طبقے پر احسان صادر فرمائیں گے اور اسی طرح باقی مہینوں اور مہینوں کے ایک ایک دن سے منسوب ایک خوشی یا اداسی والا ایونٹ۔
یار! کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں ہم لوگ؟ اپنے ایمان سے بتائیں یہ فطری عمل ہے؟ فطری عمل ہے تسلسل، کھانا، پینا، سونا، سانس لینا مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اسے بھی فطرت کی پیروی میں دن رات رویا ہوتا تو بخدا! آج ہر کسی کو مرکزی اور وفاقی قیادتوں اور طاقتوں پہ شک نہ ہوتا، سرحدی اور قبائلی علاقوں میں عوام بد ظن نہ ہوتی، دشمن کسی بھی جگہ سے گُھسنے کی کوشش کرتا تو منہ کی کھاتا، لسانی اور صوبائی عوامل نے ہماری شہہ رگ میں پنجے نہ گاڑے ہوتے، لوگوں کو حقوق سے زیادہ خیال فرائض کا ہوتا، لیکن نہیں! ہم نے وہ کام کرنا ہی نہیں ہم صرف آج کے لیے دھواں چھوڑیں گے، کل سے اگلے 16 دسمبر تک ڈھاکہ پھر واپس آجائے گا، وہ ننھے منھے شہید دوبارہ سکول جانے لگیں گے اور پھر سب کچھ ایسے ہی۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط دلی سے سقوط ڈھاکہ تک - نصراللہ گورایہ

یہ ٹائم اینڈ ایونٹ ایڈجسٹمنٹ چھوڑ کر حقیقت کے دائرے میں آئیں، ڈھاکا خوش ہے، بنگالی حُسن ماند نہیں پڑا، وہاں کا جادو آج بھی چیختا چنگھاڑتا ہے، بنگلہ دیشی کنہیا کا سانولا پن ابھی بھی نمکین پانی کا کنواں ہے، آپ بلوچستان بچائیں، آپ سندھ بچائیں، آپ پختونخوا بچائیں، آپ پنجاب بچائیں اور کتنا ہی اچھا ہو کہ مجموعی طور پر یہ باقی شُدہ میری جان سے بھی پیارا، ہماری آن ہماری شان، ہمارا پاکستان بچائیں۔