سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار بھٹو کیوں؟ ابو محمد

پانچ جولائی بھٹو کے اقتدار کے خاتمے اور جنرل ضیاء کے طویل اقتدار کے شروع ہونے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ہماری قوم تصویر کو ایک ہی رخ سے دیکھنے کی عادی ہے، کیا بھٹو کا ہٹایا جانا بے سبب تھا؟ کیا بھٹو کی پھانسی سے اس کے گناہ دھل گئے؟ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار بھی جنرل ضیاء ہی تھا؟ اسی آخری نقطے پر، ایک تحقیقاتی جائزہ۔

تاریخ چنگیز اور ہلاکو کی تلوار کی طرح بے رحم ہوتی ہے، یہ عباؤں، قباؤں اور پگڑیوں کی لاج نہیں رکھتی، محرم اور مجرم کو بیچ چوراہے پر کپڑے اُتار کر چھوڑ جاتی ہے۔ تاریخ کے صفحات ہمیں مشرقی پاکستان، اور ان ہستیوں کے متعلق کیا حقائق بتاتے ہیں، چند حقائق پیش خدمت ہیں۔ کوشش رہی ہے کہ میں ان حقائق کا ذکر کروں جن کو فیکٹ آن ریکارڈ کہا جاتا ہے، یعنی جن سے کوئی دوست یا دشمن باوجود اختلاف کے انکار نہ کر سکے۔

یہ مضمون بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے.
اول، مجیب، بھٹو اور مشرقی پاکستان کے حق میں یحی خان کا کردار
دوم، بھٹو اور یحی کے تعلقات
سوم، بھٹو کا مجیب اور مشرقی پاکستان کے لیے کردار

یحی خان نے بنگالیوں کی شکایات کم کرنے کی کوشش کی۔ مثلا، یحی خان پہلا چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر مملکت تھا جس نے بنگالیوں کی آرمی میں بھرتی کی حوصلہ افزائی کی، اور آرمی میں بنگالیوں کی تعداد دوگنی کر دی۔ یحی خان پہلا اور آخری شخص تھا جس نے بنگالیوں کے احساس محرومی کا ادراک کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں بنگالی چیف سیکرٹری تعینات کیا۔ کہا جاتا ہے کہ یحی خان سیاسی طور پر ایک نااہل شخص اور ایک کمزور شخصیت کا مالک تھا جبکہ بھٹو بلا کا شاطر، ذہین اور خاندانی رئیس، یحی خان بھٹو کے زیراثر تھا، یہ دونوں ہی بلا کے شراب نوش تھے، اور اکھٹے شراب و کباب کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے، یحی خان بھٹو کے گھر اس کی تقریبات میں شریک ہوتا تھا۔

اکہتر کے الیکشن اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں یحی خان نے مشرقی پاکستان کا مسئلہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور صدر ہوتے ہوئے خود شیخ مجیب سے ملنے بنگلہ دیش گیا، اور مجیب سے منت سماجت کی حد تک درخواست کی کہ وہ بھٹو سے ملے، اور شیخ مجیب کو منا بھی لیا، جبکہ دوسری طرف بھٹو عوامی لیگ کی واضح اکثریت کو ماننے سے صاف انکار کر چُکا تھا۔ بھٹو نے ملکی وحدت کے خلاف کئی بار بات کی، جو اس کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مثلا اُدھر تم ادھر ہم، جو ڈھاکہ گیا میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا، اور جس نے ڈھاکہ جانا ہو وہ یکطرفہ ٹکٹ لے کر جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسرائیل و بھارت کو کون روکے گا؟ قادر خان یوسف زئی

یحی نے بہرحال بھٹو کو بھی مجیب سے ملنے پر رضامند کر لیا، گو کہ اس کے لیے یحی کو صدر پاکستان ہوتے ہوئے بھٹو کے گھر لاڑکانہ جا کر اس کو منانا پڑا۔ دوسری طرف یحی خان مجیب کو 67 فیصد اکثریت کے باوجود بھٹو سے مذاکرات پر آمادہ کر چُکا تھا، لیکن مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو نے عوامی لیگ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا، حالانکہ بھٹو کی اکثریت صرف 32 فیصد تھی لیکن اس نے مغربی پاکستان کی اکثریتی پارٹی ہونے کے ناطے قومی اسمبلی کا سیشن منعقد کرانے کی مخالفت کی، جبکہ یحی خان اس کو کنوینس کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا۔ واضع رہے کہ آئینی طور پر نیشنل اسمبلی کے سیشن میں ہی عنان اقتدار دوسرے حکومت کو منتقل کی جاتی ہے، بقول احمد رضا قصوری "اگر یہ سیشن ہو جاتا تو آج خوشحال متحدہ پاکستان ہوتا"۔

احمد رضا قصوری صاحب کی بات میں یوں بھی وزن ہے کہ آخر بنگالیوں کا شروع دن سے شکوہ ہی یہی تھا کہ انھیں برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا، انہیں حق حکمرانی نہیں دیا جاتا، ان پر مغربی پاکستان حکومت کرتا ہے، تو جب مجیب نے اکثریت ووٹ لیے تو ایسے میں بنگالیوں کا ووٹ کی قوت سے جیتا حق حکمرانی تسلیم کرنے سے ان کے سارے ایسے گلے اور شکوے دھل جاتے اور علیحدگی کی نوبت نہ آتی۔

بہرحال اس صورتحال میں یحی خان کے پاس کوئی اور آپشن نہ تھا کہ کسی سیٹلمنٹ تک پہنچنے تک بحیثیت صدر قومی اسمبلی کا سیشن ملتوی کر دے۔ یہ سیشن ملتوی ہونا بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کو سڑکوں پر لے آیا، کیونکہ ان کی 67 فیصد اکثریت کے باوجود ان کو حکومت نہیں دی جا رہی تھی۔ اس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں حالات اور خراب ہوئے اک لاوا جو عرصے سے پک رہا تھا، پھٹ پڑا، لہذا حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے یحی خان نے لیفٹننٹ جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان بھیجا۔ ٹکا خان اپنے متشدد مزاج کی وجہ سے مشہور تھا، تاثر یہ ہے کہ یحی خان نے بھٹو دوستی میں بھٹو کے ایما پر ٹکا خان کو ڈھاکہ بھیجے جانے کے لیے چُنا کیوں کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹکا خان بھٹو کا چہیتا اور لاڈلا بن کے منظر عام پر اُبھرا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی فوج نے تیسری عالمی جنگ جیتی-سہیل وڑائچ کا خصوصی انٹرویو

اسی ٹکا خان نے بھٹو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر بھٹو کی سیاسی پارٹی جوائن کی، بھٹو نے اسے اپنا وزیر دفاع بنا لیا، اور بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد ٹکا خان پیپلز پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا، ٹکا خان بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی پیپلز پارٹی میں اسی عہدے پر قائم اور بےنظیر کا قریبی مشیر رہا، اس کے پاس یہ عہدہ 2002ء میں اس کے انتقال تک رہا۔

یحی خان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ امر قابل غور ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے چند یوم بعد 20 دسمبر 1971ء کو ہی یحی خان نے صدارت اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

نوٹ
یہ نکات تاریخی حقائق ہیں جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر لکھے گئے ہیں، ان کے حوالہ جات ساتھ دیے گئے ہیں جن پر اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
آپ ان تاریخی حقائق سے بھٹو، یحی اور ٹکا خان کا کردار، اور سقوط ڈھاکہ سے متعلق کیا اخذ کرتے ہیں، یہ آپ پر منحصر ہے، جو نتیجہ میں نکال سکا ہوں وہ یہ ہے کہ "سقوط ڈھاکہ کا واحد اور براہ راست فائدہ جس شخصیت کو تھا وہ بھٹو تھا۔''

http://historypak.com/yahya-khan-a-profile-1917-1980/

http://en.wikipedia.org/wiki/Tikka_Khan

http://www.zemtv.com/2013/12/16/aaj-with-reham-khan-20-saal-beet-gaye-ab-gaddari-ka-mukadma-kiyu-16th-december-2013/

http://en.wikipedia.org/wiki/Yahya_Khan