کیا المیہ مشرقی پاکستان سے سبق سیکھا گیا؟ - پروفیسر جمیل چودھری

کیا المیہ مشرقی پاکستان سے سبق سیکھا گیا؟

جواب صرف اور صرف ایک ہی ہے۔ ہم نے نہ صرف سیکھا نہیں بلکہ وہی بڑی بڑی غلطیاں دہراتے جارہے ہیں جو1971ء سے پہلے پوربو پاکستان میں بغاوت کا سبب بنیں اور پھر یہ علاقہ ہم نے کھودیا۔ ہم نے وہ مقولہ غلط ثابت کر دیا کہ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔

اس المیے کے وقت سرزمین پاکستان"بےآئین" تھی۔ ملک کے دونوں حصوں میں مارشل لاء یا جنگل لاء تھا۔ 1973ء کا آئین بننے اور نافذ ہونے کے بعدبھی ہم نے اسے3دفعہ معطل کیا یا توڑا۔ یہ وقفے لمبے بھی تھے اور مختصر بھی۔ جنگل لاء کے زمانے میں ہی ہم نے مشرقی پاکستان کے بعداپنی سرزمین کا اہم اور قیمتی ٹکڑا"سیاچن گلیشیئر"کھودیا۔ جانے والا علاقہ کبھی واپس نہیں آتا۔ جن ادوار میں ملک پر آئین کی حکمرانی رہی ہم نے ایک انچ بھی نہیں کھویا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آئین کے نفاذ اور اس پر عمل کرنے سے ہی ریاستیں قائم رہتی اور ترقی کرتی ہیں۔ بے آئین کا مطلب جرنیل کی ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے۔

مشرقی پاکستان کے المیے کی بنیاد پہلے مارشل لاء میں رکھی گئی اور دوسرے مارشل لاء میں یہ المیہ انجام کو پہنچ گیا۔ جرنیل ایوب کے دس سالوں میں مشرقی پاکستان کے ہرشخص کی یہ پختہ رائے بن چکی تھی کہ مغربی پاکستان حاکم ہے اور مشرقی پاکستان کی حیثیت صرف"کالونی"کی ہے۔ کالونی والے بے اختیار لیکن تعداد میں حاکموں سے زیادہ تھے۔ آئین اور اختیارات کے نہ ہونے سے انہوں نے علیحدگی میں ہی عافیت سمجھی۔ آئین کے تحت مکمل اختیارات سے ہی ریاستیں قائم رہتی اور ترقی کرتی ہیں۔ بہت سے علاقوں کے بارے ہم اب تک یہ غلطی دہراتے چلے آرہے ہیں۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ ہم نے ابھی تک سیکھا نہیں ہے۔ دوسری غلطی جو پاکستان کی وفاقی حکومت 1971ء سے پہلے بھی کرتی رہی اور اب تک کرتی رہی ہے وہ وفاق کی مختلف اکائیوں کی ترقی کے لیے وسائل کا برابر اور مناسب استعمال ہے۔ میں اس نقطہ کو کچھ وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ 1971ء سے پہلے مشرقی پاکستان کے سیاستدان اور ماہرین معیشت یہ کہتے رہتے تھے کہ ان کے علاقے کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جارہا ہے۔ مغربی پاکستان کے ماہرین اسے اہمیت نہ دیتے تھے اور حکمران کلاس ایسی باتیں سننے کے لیے بھی تیار نہ تھی۔ متحدہ پاکستان کے یو بی ایل کے مالک رفیق سہگل نے جب اپنے مشرقی پاکستانی ماہر معیشت اخلاق الرحمٰن کو حقائق جاننے اور رپورٹ تیارکرنے کے لیے کہا تو یہ رپورٹ جاری ہونے کے بعد ایوب خان سمیت بہت لوگ ناراض ہوگئے۔ بعد میں غلام اسحاق خان کی سربراہی میں حقائق جاننے کی کمیٹی بنائی گئی۔ ڈاکٹر پرویز حسن اس میں مغربی پاکستان کی نمائندگی کررہے تھے۔ دوسری طرف سے بھی نمایاں معیشت دان شامل تھے۔ لیکن یہ کمیٹی جنوری1969ء تک کوئی متفقہ ڈرافٹ تیار نہ کرسکی۔ مغربی پاکستانی معیشت دان حقائق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ڈاکٹر پرویز حسن بعد میں عالمی بنک میں چلے گئے۔ 1998ء میں ملازمت سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی کہانی"My Life My Country"لکھی۔ اس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ پچاس کی دہائی میں مشرقی پاکستان کی جی ڈی پی کا ایک فیصد سالانہ مغربی پاکستان پر خرچ ہوتا رہا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک صوبے مشرقی پاکستان کے وسائل کا ایک حصہ 10 سال تک دوسرے صوبوں پر خرچ ہوتا رہا اور صوبہ بھی وہ جس کی آبادی مجموعی مغربی پاکستان کی آبادی سے زیادہ تھی۔

یوں مشرقی پاکستان پسماندہ ہوتا رہا اور مغربی پاکستان کے حالات بہتری کی طرف رواں دواں تھے۔ ڈاکٹر پرویز حسن صاحب نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسی پچاس کی دہائی میں ملنے والے بیرونی قرض اور گرانٹ کا80 فیصد مغربی پاکستان میں خرچ ہوتا رہا۔ وسائل کے اس غلط استعمال کا نتیجہ یہ نکلا کہ سال1959-60ء تک مغربی پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح سالانہ4.5 فیصد سے بڑھ کر12.5 فیصد ہوگئی۔ اسی عرصے میں مشرقی پاکستان میں یہ 2 فیصد سے بڑھ کر6.6 فیصد ہوئی۔ یہاں فرق صاف نظر آتا ہے اسی طرح سے60ء کی دہائی میں بھی سرمایہ کاری کی شرح مغربی پاکستان میں زیادہ رہی۔ کراچی اور وسطی پنجاب صنعتوں کے مراکز بن گئے لیکن مشرقی پاکستان کا علاقہ صنعتی لحاظ سے بہت پیچھے رہا۔

مغربی پاکستان میں زراعت میں بھی واضح تبدیلی ایوب کے زمانے میں نظر آتی ہے۔ سندھ کے طاس معاہدہ کے متبادلات منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، بیراجز اور7بڑی نہریں بھی مغربی پاکستان میں ہی بن رہی تھیں۔ بلاشبہ اس کا تعلق مغربی پاکستان سے ہی تھا لیکن اس کے تمام فنڈ چونکہ باہر سے آرہے تھے اس لیے یہ تمام صورت حال مشرقی پاکستان میں بڑی محرومیوں کا سبب بن رہی تھی۔ غلام اسحاق خان کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی جب متفقہ ڈرافٹ تیارنہ کرسکی تو بعد میں دونوں صوبوں نے علیحدہ علیحدہ ڈرافٹ تیار کیے۔ اس سے علیحدگی واضح ہوتی نظر آرہی تھی۔ وہ سچ جو ڈاکٹر پرویز حسن نے 1998ء میں آکربولاوہ اگر مشترکہ کمیٹی میں ہی تسلیم کرلیتے تو اصلاح کی گنجائش نکل سکتی تھی۔

ہمارے معاشرے میں حقائق بتانے کے لیے ذمہ داریوں سے ریٹائرمنٹ کا انتظار کیاجاتا ہے۔ جیسے جنرل عزیز خان نے اب آکر ـ"یہ خاموشی کب تک"لکھی ہے۔ اوپر والی تفصیل بتانے کا مقصد یہ تھاکہ مشرقی پاکستان کے ساتھ وسائل کے معاملے میں واضح طور پر زیادتی ہوتی رہی۔ Parityکے اصول کوبھی کسی نے اہمیت نہ دی۔ غربت اور پسماندگی مشرقی پاکستان کا مقدر بنا رہا۔ ایسی ہی صورتحال اب باقی ماندہ پاکستان میں بھی برقرار رکھی جارہی ہے۔ اب بھی بلوچستان کے لوگ پنجاب اور سندھ کے ترقی یافتہ علاقوں کو دیکھتے ہیں۔ اسلام آباد کی سڑکوں مارکیٹوں اور عالیشان عمارتوں کو دیکھتے ہیں۔ انہیں اپنی محرومیاں واضح نظر آتی ہیں۔ ایسا صوبہ جو کل رقبے کا44 فیصد ہے۔ اس پر شروع دن سے ہی زیادہ توجہ کی ضرورت تھی۔ وسائل اگر ان کو ملے بھی تو سرداروں کے ذریعے۔ سرداروں اور وڈیروں نے انہیں ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ 1971ء کے بعد کے پاکستان میں صرف آبادی کو بنیاد بنا کر وسائل تقسیم ہوتے رہے۔ اس سے بلوچستان جیسا وسیع وعریض اور اہم صوبہ باقی صوبوں سے بہت پیچھے رہ گیا۔ یہاں جو علیحدگی کا مسئلہ ہے اس میں اہم وجہ اب بھی"پسماندگی ـ" ہے۔ تعلیم، صحت اور زراعت ہر شعبہ زمانہ قدیم کا منظر پیش کرتا ہے۔

مرکز میں بیٹھے ہوئے ماہرین نےRegional Developmentکی پالیسی کو اہمیت نہیں دی۔ جوکام اب اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے شروع ہوا ہے اور بلوچستان کو اہمیت ملنے لگی ہے۔ یہ اہمیت پاکستان بننے کے فوری بعد ہی ملنی شروع ہوجاتی، تو اب تک بلوچستان بھی دوسرے صوبوں کے برابر کھٹرا رہتا۔ ابتدائی2 دہائیوں میں جیسے ہم نے مشرقی پاکستان کو Ignore کیا ایسے ہی بلوچستان کو بھی بھولے رہے۔ ان دونوں دہائیوں میں کراچی، وسطی پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے چند اضلاع پر ہی توجہ رہی۔

یہ تو درست ہے کہ پرائیویٹ سرمایہ کاروں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں لیکن بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، رسل ورسائل اور روزگار کی ذمہ داری تو ریاست کی ہوتی ہے۔ بلوچستان کی طرح فاٹا، گلگت بلتستان بھی باقی پاکستان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کم ترقی یافتہ علاقوں میں ہی دشمن کی ایجنسیاں جو کام کررہی ہیں وہ اسی طرح کاجس طرح کا بھارتی ایجنسیوں نے مشرقی بنگال میں کیا تھا۔ بنیادی مسئلہ ہماری غلطیوں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایجنسیاں اسے اپنا کر بڑا اور خوفناک بنا دیتی ہیں۔

تیسرا نقطہ یہ ہے ہم نے مشرقی پاکستان کے مسئلے کو تسلیم کرنے اور مثبت انداز سے حل کرنے کی بجائے وہاں آپریشن سرچ لائٹ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجہ فوری طور پر واضح ہوگیا تھا۔ اب بھی ہم فوجی آپریشن کے ذریعے مسئلہ بلوچستان کو حل کرنے کی کررہے ہیں۔ بھٹو دور سے لیکر اب تک کسی نہ کسی صورت میں یہ کام اب تک جاری ہے۔ بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی ملک کا اہم ترین مسئلہ بنا ہوا ہے، ایک طاقتور چیف جسٹس بھی اسے حل نہیں کرسکا۔ مشرقی پاکستان میں بہت سے لوگوں کے قتل اور مجیب الرحمٰن کی گرفتاری سے مسئلہ حل نہ ہوا تھا۔ ایسے ہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ سردار اکبر بگٹی کے قتل سے بھی مسئلہ نے مزید شدت اختیار کرلی تھی۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے آپریشن سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ باقی ماندہ پاکستان کو3 دفعہ "بے آئین"کرکے جنگل کے قانون کے تحت چلاتے رہے۔ تمام صوبوں اور علاقوں میں وسائل کی تقسیم انصاف سے نہیں کرتے۔ اب بھی میٹروٹرین اور بس کے شاندار منصوبے لاہور اور پنجاب میں مکمل ہورہے ہیں۔ بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، خضدار اور سبی میں ترقی کی چمک دمک نظر نہیں آتی۔ یہی صورت حال فاٹا اور گلگت بلتستان کی ہے۔ قومی ترقیاتی منصوبے بناتے وقت تمام صوبوں اور علاقوں کو برابر اہمیت دینے سے ہی ریاست پاکستان مستحکم ہوسکتی ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • لگتا تو یہی کے کی ابتک کوئی سبق نہیں سیکھا.....بلوچستان کو تو سونے کی کان سمجھ کر وقتی طور پر توجہ دی گئی ہے لیکن فاٹا میں بدقسمتی سے نک کوئی سونے کی کان ہے نہ یہاں سے کوئی سی پیک گزرتی ہے....تھوڑی بہت جو افغان ٹرانزٹ کے نام سے تجارت ہوتی تھی وہ بھی اب چابہار کے زریعے ہاتھوں سے نکل چکی ہے.
    بہت لمبی چھوڑی تمہید کی ضرورت نہیں ہے. بس قصہ مختصر یہی ہے کہ کل کا بنگلہ دیش اج کی فاٹا بن چکی ہے اور اس کے پیچھے کسی ایجنسی کا ھاتھ ہے، نہ کسی ملک کا ایجنڈا........یہ نواز شریف بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ میں بے چاری گھاس کی بدقسمتی ہے. فضل الرحمان اور محمد خان اچکزئی اصل میں نواز شریف کے مہرے ہیں جو نوازشریف کی نااہلی کا بدلہ فاٹا کے غریب عوام سے لے رہے ہیں...اصل میں پہلے نواز شریف بھی فاٹا ریفارمز کا حامی تھا.اور باقی سب سیاسی جماعتیں بھی ...لیکن چونکہ اس انضمام کا سب سے زیادہ فائدہ آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف کو ملتا نظر آرہا ہے..اور فوج بھی بوجوہ اس انضمام کا سب سے بڑا حمایتی ہے.......لہذا ایک طرف تو نواز لیگ عمران خان کو آنے والے الیکشن میں فائدہ نہیں دینا چاہتی دوسری طرف فوج سے اپنی بے عزتی کا بدلہ غریب قبائل کو مزید محکوم رکھ کر لینا چاہتی ہے.....اور اس مقصد کیلئے فضلوالرحمان اور محمد خان اچکزئی کو آگے لگایا ہوا ہے........لیکن تاریخ اور فاٹا کے عوام اس ٹرائیکا کا قبائل کے ساتھ یہ ظلم اور بد نیتی کبھی نہیں بھولی گی....اخر کب فاٹا پاکستان بننے گا ؟ اپنے تو اسے بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں..