ہجر یا ہجرت - صالحہ سراج

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

جیسے صحرا میں ہولے سے چلے بادِ نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

دن بھر کے جلتے بُھنتے، شرارے اُگلتے سورج نے جونہی مغرب کے پار ساکت و جامد سمندر کے آخری کنارے میں منہ چھپایا، شہرِ ناشاد پچھم کی سَمت سے آنے والی خوشگوار ہوا کے جھونکوں سے جھوم اُٹھا۔ میں نے تناؤ سے چور ہوتے جسم کو آرام کرسی پر گرادیااور دھیرے دھیرے کنپٹیوں کو انگلیوں کی پوروں سے مَسلتی رہی۔ یہاں کچھ آرام ملا تو گردن کی پشت پر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر سر کو یہاں وہاں جھٹکنے لگی۔گویا دماغ کے زینے پہ سوار خیالات کی رو کو کسی جانب دھکیلنا مقصود ہو۔ جی بہلانے کے خیال سے موبائل فون تھام کر آنے والے پیغامات کو ادھ کھلی آنکھوں کے جھروکے سے دیکھنے لگی۔ اچانک سر سری نظر دور دیس پار موجود اِک مانوس اجنبی کے پیغام سے جا ٹکرائی۔ کچھ لحظہ ٹھٹھکی۔ میں نے تیزی سے انگلیوں کی ضرب سے اسکرین کو پیچھے کی جانب دھکیلا۔

"Hello, How are you and how's your family?"

سامنے کچھ الفاظ جگمگا رہے تھے۔ جی نے کہا اتنے برس بعد آنے والے اس پیام کا جواب دینا اچھا ہے۔ سو ہاتھ اسکرین پر تیزی سے پھسلنے لگے۔ ”السلام علیکم“ ہم سب اچھے ہیں، الحمد للہ اور خیر و عافیت سے ہیں۔ آپ اپنا حال احوال بتائیں؟“ زبانِ غیر میں باہم گفتگو کرتے دو مانوس اجنبی محوِ کلام تھے۔ ”مَیں بھی ٹھیک ہوں۔ کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ بات کروں۔ “ جواب حاضر تھا۔ ”ہممم، اچھا کیا۔ “ مَیں نے ٹائپ کیا اور بھیج دیا۔ ”اور کیا ہورہا ہے آج کل؟“ ایک نیا سوال سامنے تھا۔ ”کچھ خاص نہیں، اُسی پرانی ڈگر پر زندگی دوڑ رہی ہے۔ “ مَیں نے Send کا بٹن دبایا۔ پیغامات کے خانے میں ٹائپنگ کا کیفیت نامہ جگمگا رہا تھا۔ ”اچھا تو کیا آپ کا یہاں آنے کا کوئی پراگرام نہیں؟ مَیں آپ کو دعوت دیتا ہوں۔ پلیز آپ ضرور آئیے گا۔ آ پ کو ”اپنے وطن“ آ کر اچھا لگے گا۔ “ یہ پڑھتے ہی مَیں ایک لمحہ کو مسکرائی اور انگوٹھا کی پیڈ پر مارنے لگی۔ ”ہاہاہاہا!!! میرا وطن؟ آپ کو معلوم تو ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ “ ”اوہ ہاں! معذرت آپ کے آباء و اجداد کا وطن“۔ تصحیح کے ساتھ ایک اور پیغام حاضر تھا۔ ”جی ضرور کیوں نہیں! زندگی نے موقع دیا تو مَیں اس سے فائدہ اٹھانا پسند کروں گی۔ “ مَیں نے مسکراتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری اور کلک کردیا۔ ”ضرور مَیں آپ کا منتظر رہوں گا۔ “ خوشدلی سے جواب دیا گیا۔ ”شکریہ“ (ہممم، اب کیا کہوں؟؟؟؟شاید کہنے کو کچھ نہیں بچا۔ )مَیں سوچتی رہی۔ دوسری جانب چند ثانیے بعد میسج لکھنے کی ٹون سنائی دینے لگی اور میری آنکھیں اضطراب کا شکار ہوگئیں۔ بجھتی اسکرین یکدم روشن ہوئی۔ ”سُنا ہے پاکستان بہت دلکش بہت حسین ہے؟“ مسکراتی ہوئی علامت کے ساتھ پیغام موجود تھا۔ دل میں گویا ٹھنڈک اُتر گئی۔ بے ساختہ انگلیاں کی پیڈ پر فراٹے بھرنے لگیں۔ ”جی بالکل! بے حد و بے حساب! میرے وطن کی خوبصورتی مبہوت کردینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپ نے یقیناً ہمارے شمالی علاقوں کا حسن انٹرنیٹ پر ایکسپلور کیا ہوگا۔ “ تھکا ماندہ چہرہ اچانک جذبات و احساسات کی حدّت سے چمکنے لگا۔ ”جی بالکل، شاید اگلے برس ایک کانفرنس کے سلسلے میں میرا اسلام آباد پاکستان آنا ہو۔ کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ میرے لیے چند بہترین تفریحی مقامات کا انتخاب کر کے رکھیں۔ مَیں وقت نکال کر وہاں جانا چاہوں گا۔ “ ”جی ضرور!“ میں نے ہامی بھری۔ ”آپ کو معلوم ہے ہمارے دیش کی ہریالی اور خوبصورتی میچ لیس ہے۔“ َہاہاہاہا قہقہہ بار تصویر کے ساتھ میسج موبائل فون کی سطح پر نمودار ہوا۔ ”جی۔ ۔ ۔ بالکل ایسا ہوسکتا ہے۔ میں نے کچھ تصاویر دیکھی ہیں۔ اچھا مجھے ایک کام کے سلسلے میں جانا ہوگا۔ آپ سے بات کرکے اچھا لگا۔ خدا حافظ“ نجانے کیا ہوا مَیں نے پیغام بھیجا اور اسکرین آف کردی۔ "Take care, bye''

موبائل فون کی روشنی پھر جل اُٹھی۔

میں نے رُخ پھیر کرکرسی کی پشت سے سر ٹکا کر اپنی آنکھیں موند لیں۔ ایک ہی خون کی ڈور سے بندھے ناطے کس قدر اجنبیت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ دو ملکوں کی سرحدوں اور نظریہ و فکر کی بندشوں نے میرے باپ کے خونی و سلبی رشتوں کونامانوس رنگوں میں ڈھال دیا۔ بے ہنگم خیالات نے محشرِ خیال میں کہرام مچارکھا تھا۔


پُوربُ بنگلہ شِیا موُلِی موئے

پنچ ندی تِیرے اُورونی موئے

دو شار سندھو مورو صحرائے

جھنڈا جیگے سی آزاد

پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد

خیبر دَرے دَرے پتہ کا باہی

مینگھنا کُولے جَتو بیر سپاہی

پرچھّو پَر تچھّیر ملن آگاہی

دنیا کرے سی آزاد

پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد

ہاہاہاہا... واہ واہ واہ!!!

ابو ایک بار پھر، ابو ایک بار پھر سے پڑھیں ناں! ابو اب مجھے جھولے میں بٹھائیں ناں،
ابو پاکستان زندہ باد والی نظم، ابو جھولا۔
**
اباجان (ڈاکٹر محمد سراج الحق) کی آواز میں مشرقی پاکستان کا مقبول ترانہ
بقول اباجان کے ہم 1960ء میں یہ ترانہ گایا کرتے تھے۔۔

یہ ترانہ مشرقی پاکستان کے شاعر جناب غلام مصطفی نے اسکول کے طلباء کےلیے تحریر کیا تھا اور یہ ترانہ مشرقی پاکستان کے اسکولوں میں بچے اسمبلی میں گایا کرتے تھے
ترجمہ:
پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد
مشرقی پاکستان مکمل سرسبز و شاداب خطہ ہے
پنج آب کی وادی کھیتی باڑی سے ایسے مزین ہے جیسا کہ یہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے ہے
سندھ کا دوردراز علاقہ بھرپور صحرائی علاقہ ہے
یہاں کا ہر بندہ آزادی کا پرچم لیے متوالا ہے
خیبر کے ہر دروازے پر پاکستان کے محافظ پرچمِ پاکستان لے کر چوکس و چوکنا ہیں
میگنا (بنگال کا دریائے میگنا) کے کنارے پر نڈر و بہادر محافظینِ پاکستان حفاظت کی خاطر چٹان بن کر کھڑے ہیں
ہم نے مشرق اور مغرب کے ملاپ کا نعرہ لگا کر سیلِ رواں بن کر "ایک دنیا" کو غلامی سے آزاد کیا ہے۔

پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد پاکستان زندہ باد)**

ٹھک ٹھک۔! اوں ہوں
ایک جھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی۔
”کیا ہوا؟ یہ کمرے میں اتنا اندھیرا کیوں کر رکھا ہے۔ اور تم اتنی جلدی سورہی ہو وہ بھی کرسی پر۔“
سعدی کی تیز آوازتاریکی میں گونجی۔
”کیا ہے بھئی! پلیز لائٹ مت کھولنا۔ مجھے سونے دو۔ سر درد سے پھٹا جا رہا ہے۔اور پلیز دروازہ بند کر دو۔“
میری جھنجھلاتی ہوئی بوجھل آواز سن کر وہ خلافِ معمول تابعداری سے کمرے سے نکل گئی۔
اس گھپ اندھیرے میں نہ کوئی سایہ تھا کہ میرا ہم سبو ہوتا، نہ چاند تھا کہ ہم سخن بنتا۔ جسم حرکت سے انکاری تھا۔ خیالات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر میرے اندر ہچکولے لے رہا تھا۔ کئی لمحے گزر گئے۔ نیند پلکوں سے کوسوں دور تھی۔ دل کی دھڑکن صدائے تیشہ کی مانند سنائی دیتی تھی۔ اس پر مستزاد بیتے دنوں کی یادوں نے آ گھیرا۔
”ابو کیا آپ کو وہ سب لوگ کبھی یاد نہیں آئے؟ ابو کیا آپ ایک بار بھی نہیں جا سکتے؟ ابو سب تو جاتے ہیں آپ کیوں نہیں؟“
میں نے عید کے پر مسرت موقع پر ہی رنگ میں بھنگ ڈالنے کی ٹھانی۔ ایسا کرنے میں مجھے کوئی تامل اس لیے نہیں ہوا کہ ٹیلی فون پر ہزاروں کلومیٹر دور بہت دور موجود خون کے رشتوں سے بات کرتے ہوئے پہلی مرتبہ میں نے ان کی آنکھوں میں سرخی دیکھی۔ نمی کو پی جانے میں انہیں ملکہ جو حاصل ہے، سو آنسوؤں کا دیدار ہمیں کبھی نصیب نہ ہوا۔
میں نے بھی تُنک کر سوال کر ہی ڈالا، گویا آج جذبات میں تلاطم برپا کر کے ہی اٹھنا تھا۔
”ابو بتائیے نا آخر کیوں؟“
مگر ان کا وہی ایک جواب تھا جسے برسوں کی دُھول بھی دھندلا نہ کر سکی۔
”ارے بھئی! ہمارا تو یہی وطن ہے۔ اب تو جینا مرنااسی مٹی میں ہے، آپ ہی ہمارا سرمایہ ہیں، اب ہم کیوں پلٹ کر دیکھیں۔“
مسکراتے لبوں نے آنکھوں کی سرخی کو معدوم کر دیا۔ کشادہ پیشانی پر آئے ہوئے بالوں کو سر کی پچھلی جانب پھیرتے ہوئے ابا جان متبسم چہرہ لئے باہر نکل گئے۔

”ارے لڑکی سنو تو سہی۔۔۔یہ پکڑو۔۔۔“
امی تیزی سے کمرے میں آئیں۔ موبائل تھما کر واپس مڑیں۔ میری سوالیہ نگاہوں کو دیکھ کر کہا”تمہارے سیف بھائی کا فون ہے، دبئی سے۔ تم سب سے بات کرنا چاہتے ہیں۔“
اوہ اچھا۔ میں نے فون کان سے لگا کر سلام کیا۔
دوسری طرف سے پر جوش انداز میں جواب موصول ہوا۔
”و علیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ! بہنا کیسی ہیں آپ؟ بھائی کو بھول گئی نا؟ کوئی رابطہ نہیں۔“
وہی شکوہ کہ جس کے جوابِ شکوہ سے میں کتراتی آئی ہوں۔
‘‘نہیں نہیں بھائی ایسی بات تو نہیں، وہ بس مصروفیت ایسی ہے کہ موقع ہی نہیں ملتا۔ اور سنائیں، آپ سب کیسے ہیں؟ گاؤں میں سب کیسے ہیں؟’’
میں نے پہلو بچانے میں ہی عافیت جانی۔
‘‘ہاں سب ٹھیک ہے الحمدُللہ، اور بہنا !آپ نے ابھی تک اپنی زبان نہیں سیکھی کیا؟ آپ کی امی تو ماشاء اللہ بہت بھالو بنگلہ بولتی ہیں، آپ ان سے سیکھیں ناں۔ دیکھیں جب گاؤں آئینگے تو سب سے بات چیت میں آسانی ہوگی۔’’
ان کے اس حملے کے لئے میں تیار نہ تھی۔ بس جی جی ہی کہہ پائی۔ ہوا س مجتمع ہوئے تو کہا۔
‘‘دراصل بھائی یہاں ایسا کوئی ماحول نہیں۔ ہر طرح کی زبان بولنے والے،مختلف ثقافت کے لوگ یہاں رہتے ہیں، شروع سے ہی اردو بولتے آئے ہیں اس لئے کبھی بنگلہ سیکھنے کا موقع نہیں ملا نہ ہی کوئی خاص ضرورت محسوس ہوئی۔ ہاں اگر ماحول ملے تو ضرور سیکھنا چاہوں گی۔ آخر کو عربی،انگریزی،پشتو، پنجابی، اور کسی قدر سندھی بھی بول لیتی ہوں، مجھے زبانو ں سے محبت ہے۔’’
میں نے ایک سانس میں ہی بات واضح کرنا چاہی۔
”اچھا اچھا بنگلہ بھی سیکھو، ارے آخر بنگلادیشی ہو اپنی زبان سیکھنا ضروری ہے۔“
سیف بھائی کی اس بات نے ایک لحظہ میں دماغ کی چولیں ہلا دی۔ تُرنت جواب دیا۔
”او ہو بھائی آپ سے کس نے کہا ہم بنگلادیشی ہیں۔ ہم پورے دل و جان سے پاکستانی ہیں۔ہاں بنگالی ضرور ہیں مگر پاکستانی۔“
میرے دو ٹوک لہجہ نے انہیں کھسیانی ہنسی ہنسنے پر مجبور کر دیا، کافی دیر ان کے ہنسنے کی آواز اسپیکر پر گونجتی رہی۔ پھر انہوں نے دعا دے کر اجازت چاہی۔

اسی سوز و ساز، پیچ و تاب اور خیالات کے مد و جزر میں شب گزرتی رہی۔ ذہن کی اسکرین پر ایک اور منظر چھا چکا تھا۔
”ارے یار! میں تو سمجھتی ہوں کہ 16 دسمبر کی جنگِ آزادی میں بنگالی حق بجانب تھے۔ اگر مشرقی پاکستان کے باشندے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے اور انہوں نے عَلمِ بغاوت بلند کیا تو ایسا کیا عجب کیا؟ میں تو اس ناول کے مصنف سے اتفاق نہیں رکھتی۔“
یہ کہہ کر اس نے کمانڈو فور ناول میرے سپرد کر دیا۔ میں دم سادھے اپنی اس ہمدمِ دیرینہ کے خیالات کو استعجاب و استفہامیہ نظروں سے سنتی رہی۔ میری حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹک سا گیا۔
”ہاں تم ٹھیک کہتی ہو۔ یوں تو پھر بلوچستان کو بھی آزادی ملنی چاہیے۔ اور یہ جو جئے سندھ، اور سندھو دیش، سندھ کھپے کے نعرے سنائی دیتے ہیں، تمہارا اس بابت کیا خیال ہے؟ اب تو خود مختار کشمیر کے غلغلے بھی بلند ہونے لگے ہیں۔ صحیح کہتی ہو تم۔ پھر تو ہر دعوے دار کو اس کو مدعا سن کر زمین کا ٹکڑا دے دلا کر فارغ کرنا چاہیے۔ آزادی دے دینی چاہیے۔ ملک کی شیرازہ بندی ویسے نہ سہی یوں سہی۔“
جانے کیسے میں بول پا رہی تھی۔ کبھی کبھی مجھے خود پر حیرت ہوتی ہے۔
”پیاری سہیلی! دکھ، افسوس، درد، تعجب شاید معمولی لفظ ہوں ،جو آج مجھے تمہاری نظریاتی اور سیاسی بصیرت جان کر ہوا۔ کبھی فرصت میں ملنا ،ہجر کا دکھ کیا ہے؟ میں تمہیں سناؤں گی۔ حجرت کی انتہا پر سر خوشی ملے گی ،مگر کبھی اس کی تہہ میں اتر کر اس کی گہرائیوں کو جانچنا۔بڑی نمی ہے دوست وہاں بڑی نمی ہے۔“


یہی ظالم مہینہ تھا

چٹانیں برف اوڑھے تھیں

بڑی سفاک سردی تھی

ہماری سرحدوں پر

دشمنوں سے جنگ جاری تھی

فتح کے خواب دل میں تھے

لبوں پر بھی دعائیں تھیں

دعائیں رنگ نہ لائیں

مشقت کام نہ آئی

خبر آئی کہ سب کچھ ہار بیٹھے ہیں

مقدر کے قلم نے اک شکست فاش

لکھ دی ہے..

ابلتا خون رگوں میں

برف بن کر رہ گیا تھا

نگاہوں میں تحیر جم گیا تھا

ہمارا جسم دو حصوں میں

یکدم بٹ گیا تھا

ہمارا ایک بازو کٹ گیا تھا