عمران خان، جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ... کیا کھویا کیا پایا؟ - زبیر علی خان

عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس فیصل عرب نے عمران خان کے متعلق اضافی نوٹ لکھا۔ یہ اضافی نوٹ عمران خان کی نااہلی کیس کے فیصلے کے بعد ممکنہ سوالات کے جواب بھی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے اپنے اضافی نوٹ میں عمران خان کا کیس نواز شریف کے کیس سے موازنہ کرنا غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پر منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثے اور ٹیکس چوری کے سنگین الزامات تھے۔ جسٹس فیصل عرب نے اضافی نوٹ میں نواز شریف کے تیس سال کے دوران عوامی عہدوں پر فائض رہتے ہوئے اثاثے بنانے اور تسلی بخش ذرائع پیش کرنے کی ناکامی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے عہدوں پر دیانتدار اور ایماندار شخص کا ہونا بہت ضروری ہے ۔

عمران خان نااہلی کیس کے تفصیلی فیصلہ میں ججز نے عدلیہ کے اوپر اٹھتے ہوئے سوالوں کا بھی جواب دیا۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے حنیف عباسی کا درخواست دائر کرنا بد نیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخواست عمران خان کی نواز شریف کیخلاف کیس دائر کرنے کا کاؤنٹر بلاسٹ ہے مجھ جیسے لوگ جو کبھی مایوس ہو کر عدلیہ پر سوال اٹھاتے ہیں عدالت نے ان کو بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ "جس حکومت کے امور میں بددیانت لوگ ہوں وہ قوم جلد راستے سے بھٹک جاتی ہے۔ حکومت صرف ایگزیکٹو کا نام نہیں، مقننہ اور عدلیہ بھی حکومت کا حصہ ہے۔"

اس فیصلہ کو پڑھ کر "مجھے کیوں نکالا" اور "کیوں نہیں نکالا" کا جواب مل جاتا ہے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں کس نے کیا کھویا کیا پایا ؟

عمران خان کو کلین چٹ دینے کے بعد آنے والے دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں تیزی کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔ چونکہ عمران خان کے سیاسی حریف بھی ان پر کرپشن کا الزام لگانے سے جھجکتے ہیں اور ایک بار پھر عمران خان کی مالی طور پر شفافیت پر عدالت عظمیٰ نے مہر ثبت کر دی، جس سے عمران خان کو سیاسی طور پر مضبوطی ملے گی اور ان کا کرپشن کے خلاف بیانیہ مزید تقویت پکڑے گا ۔ عمران خان آئندہ انتخابات میں> جو ہوتے نظر نہیں آرہے، کرپشن سے پاک سیاستدان کے طور پر میدان میں اتریں گے جبکہ دوسری جانب حکمران جماعت کا سربراہ کرپشن کے الزام میں سزا بھگت رہا ہوگا۔ ایسے میں عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہونا کو ئی حیرانگی کی بات نہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   جوش میں ہوش کا دامن مت چھوڑیں - خالد ایم خان

رہا جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ تو پورا ملک بلکہ ملک سے باہر بھی لوگ عمران خان کو ہی پی ٹی آئی سمجھتے اور تسلیم کرتے ہیں ۔ جہانگیر ترین کے جانے سے پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد بھی خوش نظر آتی ہے۔ جہانگیر ترین کے اوپر پارٹی ہائی جیک کرنے کا تاثر بھی کارکنان کے اندر پرورش پا رہا تھا اب وہ بھی زائل ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد جہانگیر ترین اخلاقی طور پر اپنے پارٹی عہدے سے بھی سبکدوش ہوجائیں گے اور یہ بات بھی پارٹی کے ہی مفاد میں جائے گی۔

آخر میں بات "ہیلی کاپٹر "کی، پاکستان تحریک انصاف کو قریب سے دیکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ اس جماعت میں کتنے ایسے لوگ موجود ہیں جو ہیلی کاپٹر کی چابیاں لیے عمران خان کے پیچھے پھرتے ہیں۔ جہانگیر ترین نے جس مہارت سے اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کر رکھا ہے وہ اس شخص کا ایک کمال ہے ورنہ پارٹی کا جتنا فنڈ اکٹھا ہوتا ہے، جہانگیر ترین اس کا ایک فیصد بھی نہ دیتے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ سر ہوں تو ٹوپیاں بہت!