16 دسمبر 1971ء سے 2014ء تک - سعدیہ نعمان

یخ بستہ ہوائیں، برف ہوتے جذبات، رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کو منجمد کرنے والی فضا، عجب اک وحشت کا سماں، سرما کی طویل راتیں کاٹے نہیں کٹتیں.

جونہی دسمبر شروع ہوتا ہے میرے اندر کی برف پگھلنے لگتی ہے. باہر کی سرد ہوا روح میں حرارت سی جگا دیتی ہے. سقوط ڈھاکہ، دل کی دھڑکن کو تیز کرنے والے اور دماغ پہ ہتھوڑے کی طرح برسنے والے دو ہی الفاظ ہیں، جن کے پس منظر میں طویل داستا نیں ہیں، بےحسی اور بےغیرتی کی، غداری اور بےایمانی کی، بک جانے اور بیچ ڈالنے کی، اور ہاں سچ اور وفاداری کی بھی، لگن اور ایمانداری کی بھی.

یہ داستانیں بھی یہیں بکھری ہوئی ہیں.
شہید وفا بھی بہت، اور آنکھوں سے لہو بہاتے غازی بھی بہت.
پھر بھی شکست ہمارا مقدر ٹھہری. آخر کیوں؟
ہمارے حصہ میں صرف ہجر کی راکھ ہی بچی، کیوں؟

ہم ساری قوت ایمانی، جوش جوانی، وعدہ وفا اور عزم و ہمت سمیت قیدی بنا لیے گئے.
وہ زخم زخم تاریخ کیلنڈر کا حصہ یوں بنی ہے کہ کانٹا بن کر چبھتی رہتی ہے.

اب یہ کیسا موسم ہے کہ درد کچھ اور بڑھا جاتا ہے؟ کربلا کا میدان ہو یا ڈھاکہ کا ریس کورس گراؤنڈ، جنگ وہی ہے جو ازل سے جاری ہے، منظر اور کردار بدلتے ہیں،
باہر وہی رات کا سناٹا ہے، منجمد فضا ہے، اندر اک طوفان ہے، بے چینی ہے، کشمکش ہے.
اپنوں کے لگائے زخم کتنے گہرے ہوتے ہیں کہ بھرتے نہیں، ان سے قطرہ قطرہ لہو رستا ہی رہتا ہے.
یہ جنگ تو پرانی ہے، یہ دو افراد اور دو ملکوں یا دو اقوام کی جنگ نہیں،
یہ دو نظریات کی جنگ ہے، یہ حق و باطل کی جنگ ہے، یہ طاغوتی نظام اور بندگان خدا کی کشمکش ہے، یہ اس کردار کی بلندی کی گواہی ہے جس کی انتہا حسین اور ابتدا اسماعیل ہے.

16 دسمبر 2014
سرخی کچھ اور نمایاں ہو جاتی ہے، ہمارے معصوم خون میں نہلائے گئے، قیامت سی قیامت تھی، ظلم ہی ظلم.
کیسی لہو رنگ تاریخ کے وارث ہیں ہم، پاکستانی ہونے کی حیثیت سے نہیں، امتی ہونے کی حیثیت سے بھی. ہمارے معصوم جگر گوشوں کے لاشے کبھی ارض فلسطین پہ، کبھی شام کبھی کشمیر اور کبھی پشاور میں تڑپتے رہتے ہیں،گھاؤ لگتے رہتے ہیں اور ہم محض آہیں اور سسکیاں بھرتے رہتے ہیں.
کب نظر آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

اب سمجھ میں آتا ہے وہ محبوب مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو اور امتی امتی کی پکار، کتنا کچھ کھو چکے ہم؟ آج سازشو ں کو پہچانا نہ جانا تو بہت کچھ اور لٹا بیٹھیں گے.
آنکھوں پہ چھائی دھند چھٹے تو دیکھو،
کچھ راہیں تو متعین ہیں،
کیسا واضح منظر تو سامنے ہے کہ حقیقی منزل کا پتہ تو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ سلم ہمیں سمجھا گئے تھے، قرآن ہاتھوں میں تھما گئے تھے، خود چل کے دکھا گئے تھے. نشان راہ ہم نے اپنی غفلت سے کھو دی
تو سیدھی راہ کو کھوجنا تلاشنا اب ہماری ذمہ داری ہے،
اور اب منزل کے لیے تیز تر گامزن ہونا ہے.
اس سچی اور حسین منزل کے راہی تو بنیں، پھر خواہ دوران سفر ہی جان جائے، منزل تک پہنچ بھی نہ پائے، وہ سفر خود اک شہادت بنے گا ہماری نجات کے لیے،
اخروی اور ہمیشگی کی نجات کے لیے
آؤ ہم تم چلیں
اس حسیں راہ پر
جس کے آخر میں ہے
ترے رب کی رضا
میرے رب کی رضا

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.