16 دسمبر اور کچھ لفظی تصاویر - ابو انصار علی

تاریخ بے رحم اور تلخ ہی نہیں، سبق آموز اور مستقبل کا کارگر انتظام کرنے کا بندوبست بھی بنتی ہے، بس شعور کی آنکھ کھلی رہے، جھوٹ اور فریب کی لفظی گرد میں سچائی ویسے ہی برآمد کرنےکی آرزو ہو، جیسے مجسمہ ساز کو ہوتی ہے، جسے خبر ہے کہ اچھے خاصے بڑے پتھر میں، ایک بڑا ہی خوبصورت رُوپ موجود ہے، بس اردگردسے کنکر ہٹانے کی دیر ہے۔ تاریخ کی حقیقت تک پہنچنےکے لیے، ایک حق طلب قاری سے بھی بس جستجواور تھوڑی محنت درکار ہے، پھر درست تصویر اوراصل بات خود بخود سامنے ہوگی، یہی پانےکا اصول ہے، یہی کوشش کا کلیہ ہے، یہی عمل کا تقاضا ہے اور یہی طلب پر ملنے کا وعدہ ہے۔

16‌‌ دسمبر ویسے تو ہر برس آتا ہے،لیکن پاکستان پر دو بار قہر بن کر آیا، جس نے یہاں کے باشندوں کے جسموں کو ہی نہیں ان کی روحوں کو بھی چھلنی چھلنی کر دیا۔ ایک بار 1971ء میں ملک دولخت ہوا، اغیار کی سازش بھی تھی اپنوں کا ستم بھی، غیر کی وعدہ خلافی بھی تھی، اپنوں کے دھوکے بھی، ہزاروں لاشیں گریں، کئی ہزار قید ہوئے، کئی پھانسی چڑھے اور کئی نے پاکستان سے محبت میں وہ اذیتیں بھی برداشت کیں جو واجب بھی نہ تھیں۔ دوسری بار 2014ء میں ڈیرھ سو سے زائد بچوں پر مشتمل پاکستان کے مستقبل کو لہولہان کیا گیا، ان کی جان لے لینے کا عمل اتنا سفاک تھا کہ روح ایک بار پھر کانپ اٹھی، ملک پر کالی گھٹا کا سایہ پھر منڈلانے لگا، بڑے اور مضبوط فیصلے کا تقاضا ابھرا، سب ایک ہوئے، دشمن کے انجام کا آغاز ہوا اور پھر آہستہ آہستہ کامیابی ملی، راہ کھلی، عوام کا اعتماد بڑھا اور وطن کے دشمن سے لڑنے کا حوصلہ جوان ہوا۔

کیوں ہوا؟ ایسا دو بار کیوں ہوا؟ اس میں دشمن کون تھے؟ اپنےکون تھے؟ پاکستان کن کی آنکھوں میں کل بھی کھٹکتا تھا اور آج بھی چبھتا ہے؟ کسے پاکستان میں ادارے مضبوط نہیں چاہئیں؟ یہ کس کا ایجنڈا ہے کہ محب وطن عوام اور وطن کے محافظوں کے درمیان چپقلش بڑھتی رہے، ملک میں بس انارکی ہو، ہر دہشت گردی کے واقعے، حکمرانوں کی سیاسی غلطیوں کے پیچھے وردی کا نعرے لگانے والے کون ہیں وہ؟ ایسےہی کچھ تو بنگلادیش میں ہوا تھا، ایساہی کچھ کرنےکی بلوچستان میں کوشش کی گئی، ایسی ہی گفتگو الطاف حسین نے اردو بولنے والے بانیان پاکستان کی اولادوں کی زبان سے کرانے کی کوشش ہے۔یہ کون لوگ ہیں؟ ہم آپ کو چند واقعات تصاویر دکھاتےہیں، تاریخ کے اوراق سے، حقیقت کی زبان سے۔

ایک تصویر... لارڈ ماؤنٹ بیٹن، موہن داس کرم چند گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو میں ہندوستان کی آزادی زیر بحث ہے۔ اب یہ آزادی متحدہ ہندوستان کو ملے یا تقسیم کا عمل ہو؟ اس نقطے پر گاندھی جی، ماؤنٹ بیٹن کو تجویز دیتے ہیں،متحدہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم محمد علی جناح ہوں اور ملک نہ ٹوٹے، کمیونسٹ نظریے کا حامل نہرو گاندھی جی کی تجویز سے ہلکا سا اختلاف کرتے ہیں۔

دوسری تصویر... لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گھر دعوت ہے، چار لوگ کھانے کی میز پر موجود ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ، فاطمہ جناح ؒاورماؤنٹ بیٹن اور اُن کی اہلیہ۔ان کے سامنے گاندھی جی کا نام لیے بغیر متحدہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم کی تجویز دہرائی جاتی ہے۔ قائداعظم کو ہندو اکثریت کےملک میں قیادت کی بڑی پیشکش ہوتی ہے لیکن وہ انکار کرتےہیں،ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تہذیبی فرق کو چند جملوں میں واضح کرتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کے تصور کو دلائل سے واضح کرتے ہیں۔

ایک رخ اضافی... جدوجہد ہوتی ہے۔ برصغیر ہندو اور مسلم اکثریتی علاقوں کے دو قومی نظریے پرتقسیم ہوتا ہے۔ تشکیل پانے والے پاکستانی علاقوں سے ہندو اور بھارتی علاقوں سے مسلمان تاریخ کی بڑی ہجرت کرتےہیں۔ اس موقع پر فسادات پھوٹ پڑتےہیں،خون بہتا ہے،مسلم قیادت نے فسادات بھڑکانے، آگ لگانے اور سب کچھ راکھ کردینے کےکوئی احکامات نہیں دیے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کانگریس قیادت نے اس دوران اور بعد میں وہ چالیں چلیں کہ خون بھی مسلمانوں کا بہا، ریاستوں پر بھی قبضے بھی ان کی ہوئے، ان کی اکثریت کو لالچ یا بندوق کی نوک پر یرغمال بنایا گیا اور کئی مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل نہ ہوسکےاور تنازع بڑھتا چلاگیا، دو ملک بن گئے، بہرحال انتظام چلنے لگا۔

تیسری تصویر... پاکستان میں صدارتی ریفرنڈم کا بازار گرم ہے۔ ایک طرف جمہوری جدوجہد سے ملک لینے والے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی بہن فاطمہ جناح، جو آزادی تک پہنچنے والے راستے میں اپنے بھائی کی ہر طرح معاون و مددگار رہیں۔ دوسری طرف ملک کے بنیادی نظریے سے الٹ شخصیت کا حامل، پہلا آمر ’ ایوب خان ‘ہےاور ان کا دست بازو، ذوالفقار علی بھٹو۔پھر جمہوریت کو ہرانے،کردار کشی، نوٹ، اقتدار کی چمک کو زبردستی جتا دیا جاتا ہےاورملک میں نفرت کا بیج بونےکی کوشش ہوتی ہے۔ وجہ فاطمہ جناح ؒ اور ان کے حامی نہیں، تاریخ یہ بات صاف صاف درج کرتی ہے۔

چوتھی تصویر... 65 ءکی جنگ کےبعد بھارت سے ایوب خان کےمعاہدے پر ذوالفقار بھٹو کو اختلاف ہوتا ہے،اقتدار کی راہ داری سے پیپلز پارٹی بنانے کا سفر شروع ہوتا ہے،پارٹی بنتی ہے، عوامی احتجاج پر ایوب اقتدار یحییٰ خان کو منتقل کرتےہیں،الیکشن ہوتےہیں،بھاری اکثریت مجیب کو ملتی ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے،اقتدار اسے منتقل ہو،سازشی تانے بانے بنتے ہیں، مذاکراتی دور چلتا ہے، پاکستان میں اس دوران اہم کردار صرف بھٹو، یحییٰ اور شیخ مجیب ہیں اور چوتھا کوئی نہیں۔ مذاکراتی عمل میں ضد، ہٹ دھرمی اور انانیت عروج پر پہنچتی ہے، بات اقتدار کی منتقلی کےبجائے ملک کی علیحدگی کے سفر چل پڑتی ہے۔

پانچویں تصویر... اہم امور پر مشاورت کےلیے ایک میٹنگ میں اردگرد کی کرسیوں پر وفاقی وزراء ہیں اور آمنے سامنے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور آرمی چیف جےمانک شا ہیں"میں چاہتی ہوں کہ مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا جائے۔"

"آپ اس کے نتائج جانتی ہیں ؟" جےمانک شا نے وزیراعظم سے جوابی سوال کرڈالا۔

"ہاں! جنگ ہےاور وہ ہوتی ہے تو ہو!"

اس موقع پر جنرل انہیں بغیر تیاری کے جنگ پر مکمل شکست کا یقین دلاتا اوراپنا استعفیٰ پیش کرنےکےلیے تیار ہوجاتاہے۔ اندراگاندھی گہری سوچ میں پڑجاتی ہیں اور پھرکہتی ہیں "چیف! تم میری خواہش(مشرقی پاکستان پر حملے یعنی خود مختارملک میں مداخلت) سے واقف ہوگئے ہو، بتاؤ کامیابی کیسےہو؟"

"مجھےمہلت دیں، تیاری اور مکمل تیاری کے بعد حملے میں جیت ہماری ہی ہوگی۔ "

چھٹی تصویر... شیخ مجیب،بھٹو اور یحییٰ اپنی اپنی ضد پر اڑےہیں،ملک سیاسی لحاظ سے کمزور ہورہا ہے،ایسےمیں بھارت عوامی لیگ سے وابستہ عناصر( مکتی باہنی) کو تربیت، اسلحہ اور نوٹ دیتا ہے۔ اندرا گاندھی ان کا مقدمہ بین الاقوامی دنیا کے سامنے لڑنے کا عز م دہراتی ہیں،لیکن اس وقت کی پاکستانی سیاست تینوں کلیدی کردار ملک کے مسائل کےحل کے لیے ذمہ دارانہ رویہ نہیں اپناتے۔ حکومت اور بنگلا زبان بولنے والے پاکستانیوں میں دوریاں بڑھتی جاتی ہیں، آگ کا لاوا پھوٹ پڑتا ہے۔ پاک فوج کو (بھارت کے تربیت یافتہ مگر) اپنے ہی عوام سےمزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کردار ٹس سے مس نہیں ہوتے،شدت بڑھتی ہے،دھواں گہرا ہوتا ہے، صف بندی مضبوط تر ہوتی ہے اور پھر بھارت منصوبہ کے مطابق حملہ کرتا ہے۔ ایسےمیں بھارت کے ساتھی بنگالیوں کی طرح، پاک فوج کی حامی بنگالی بھی، کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کی حفاظت کا عزم لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں،لڑتے ہیں،جان دیتے ہیں اور اپنی جان بزرگ و برتر ذات کے سپرد کردیتے ہیں اور خون آشام رات میں بنگلا دیش بن جاتا ہے۔ ایسےمیں ایک کردار کہتا ہے، خدا کا شکر ہے، (جہاں مجھے اقتدار ملے گا، وہ) پاکستان بچ گیا۔

ایک اضافی رخ اور... پھر آہستہ آہستہ تاریخ کے اوراق میں پاکستان توڑنےکی وجہ بننے والے کردار اپنے اپنے عبرتناک انجام کوپہنچتےہیں،ان کے سیاسی وارث تک بدل جاتےہیں،ان کے نام پر سیاست ہوتی ہے، ووٹ بھی ملتےہیں اور اقتدار کی راہداری کارستہ بھی کھلتا ہے،لیکن ملک نہ قائداعظم ؒ کی آرزوؤں کے مطابق ڈھلتا ہے اورنہ ہی( صرف نعروں میں زندہ )قائدعوام کےوعدے پورے ہے۔ بس کرپشن ہوتی ہے، دولت باہر منتقل ہوتی ہےتاکہ اپنا اور اپنی اولاد کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکےاورمعاشی اور انتظامی نہیں اخلاقی لحاظ سے بھی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے 70 برس بعد بھی عوام صاف پانی، اچھے ماحول، بہتر تعلیم، صحت کے اچھے مراکز اور سفر کی بہتر سہولیات سے بھی محروم ہیں، بہرحال ملک چل رہا ہے۔

ساتویں تصویر نائن الیون واقعے کے بعدملک کے حکمران اپنی نظریاتی حیثیت بدلتے ہیں، خود جدید دنیا سےہم آہنگ کرنے دعویٰ لےکر اٹھتے ہیں، خود کو امریکا کا دوست قرار دیتےہیں،اپنے پڑوسی ملک پر حملے کی راہ ہموار کرنے میں معاونت دیتے ہیں اور ملنے والے معاشی فوائد کے گن گاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ پڑوسی ملک میں امریکا بھارتی مداخلت کو سرپرستی دینےلگتا ہے،اس بار پاکستان میں بدنامی اسلام اور اس کے ماننے والوں کے کھاتے میں ڈالنےکا منصوبہ بنایا جاتا ہے،بھارت وہاں بیٹھ کر پاکستان پر حملہ آور ہونے والے گروہ کے لوگوں کوایک بار پھر تربیت دیتا ہے، انہیں اسلحہ اورنوٹ دیے جاتے ہیں اور پھر ملک بھر میں خاک اور خون شروع ہوتا ہے۔ اسی دوران 16 دسمبر ایک بار پھر آتا ہے، ’ازلی دشمن کےپہلے، ملک دولخت کرنے والے گہرے وار کی تاریخی ‘تاریخ۔اس بار نشانہ پاکستان کے مستقبل کے روشن چراغ بنتے ہیں اور پھر "اب اور نہیں" کا فیصلہ ہوتا ہےاور دشمن کے عزائم کی پرت در پرت تہہ کھلتی ہے اور پتا چلتاہے تحریک طالبان پاکستان کا اصل پشتی بان کون ہے، رااور سی آئی اے!

ملک کو خون کے آنسو رلانے والے دونوں 16 دسمبروں کی ایک مختصر تاریخ آپ کے سامنے ہیں، اس کے کردار آپ کے سامنے، ان کے نظریات آپ کے سامنے، ان کی پہچان واضح ہے۔ بس فیصلہ کریں، ان سےنجات کا، ان کی سوچ کے انکار کا... اور عزم کریں کہ ’ہم اپنے دیس پہنچان کو مٹنےنہیں دیں‘!