18 دسمبر، عربی زبان کا عالمی دن - راجہ ماجد معظم

اس وقت پوری دنیا میں7ہزار زبانیں بولی جاتیں ہیں۔ان ہزاروں زبانوں میں سے سب سے زیادہ بولی جانے والی دس زبانوں میں عربی زبان کا پانچواں نمبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی 6 مختلف زبانوں میں سے ایک عربی زبان بھی ہے۔ ہر سال 18 دسمبر کو عربی زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں عربی زبان کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ زبان اپنی فصاحت وبلاغت کی وجہ سے بہت معروف ہے، جاہلیت کے زمانے میں میں بھی عرب والوں کو اپنی فصاحت وبلاغت پر بہت ناز تھا،اسی وجہ سےوہ غیر عربوں کو عجمی یعنی گونگا کہتے تھے۔ اگر ہم عربی زبان کے کلمات اور مفردات کو دیکھیں تو باقی تمام زبانوں سے سب سے زیادہ کلمات اسی زبان میں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے لیے عربی زبان زبان کا انتخاب کیا۔یہ وہ زند ہ زبان ہے،جو پندرہ سوسال سے مختلف علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس مقدس زبان میں ہی ہم اللہ تعالیٰ سے پانچ وقت میں ہم کلام ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کے لیے بنیادی عربی زبان سیکھنا انتہائی ضروری ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اس زبان سے نابلد ہے اور چند رٹے ہوئے فقرے دہرا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہےکہ ہم سب عربی زبان سے واقف ہوں تاکہ جب ہم اپنے رب سے مخاطب ہوں تو ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیا کلام کر رہے ہیں؟

عربی زبان بہت سی زبانوں کی اصل اور جڑ ہے۔کئی زبانوں میں عربی زبان کے کلمات بولے جاتے ہیں، خاص طور پر اردو، ترکی، فارسی، کردی، انڈونیشی،البانی، مالیزی، سبانی اور مالطی زبانوں میں بے شمار الفاظ بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ انگلش زبان میں بھی سینکڑوں الفاظ عربی زبان سے ماخوذ ہیں۔ پوری دنیا میں سب سے بہترین خطاطی عربی زبان میں ہوتی ہے۔ اس زبان میں کثرت سے مترادف الفاظ بولے جاتے ہیں، مثلا شیر، تلوار اور اونٹ کے لیے سینکڑوں نام ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ دنیامیں سب سے قدیم زبان عربی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یعرب بن قحطان وہ پہلا شخص ہے جس نے عربی زبان کا آغاز کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے عربی زبان بولی۔ ایک روایت میں یہ بھی ہےکہ حضرت آدم علیہ السلام کی زبان عربی تھی اور اہل جنت کی زبان بھی عربی ہوگی۔

عربی زبان قرآن وحدیث کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے سورۃ یوسف میں قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمانے کے بارے میں فرمایا: اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قُرْانًا عَرَبِیًا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (سورۃ یوسف:۲) ترجمہ: ‘‘بے شک ہم نے اسے عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم سمجھو’’۔ اس آیت کی وضاحت میں مولانا صلاح الدین یوسف اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ تمام آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد انسانوں کی رہنمائی ہے۔ یہ مقصد اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں۔ اس لیے ہر آسمانی کتاب اس قومی زبان میں نازل ہوئی جس قوم کی ہدایت کے لیے اتاری گئی تھی۔ قرآن مجید کے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے، اس لیے قرآن مجید بھی عربی زبان میں نازل ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی زبان اپنی فصاحت وبلاغت اور ادائے معانی کے لحاظ سے بہترین زبان ہے۔ تمام زبانوں سےفصیح،واضح اور وسیع ہے۔ جو فرد، معاشرہ یا قوم اس قرآن اور اس کی زبان سے جڑ جاتا ہے، وہ دنیا وآخرت میں فلاح پا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی قرآن کے ذریعے سے عرب کے بدوؤں کودنیا کا امام بنا دیا۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ قرآن تمام زبانوں سے زیادہ اشرف زبان میں، تمام رسولوں سے زیادہ شرف رکھنے والے رسول پر، تمام فرشتوں سے زیادہ شرف رکھنے والے فرشتے کی سفارت کاری کے ذریعے اتری اور زمین کے تمام قطعوں اور علاقوں سے سب سے زیادہ باشرف علاقے مکہ میں، سال کے سب سے اشرف مہینے رمضان اور اس کے سب سے باشرف وقت لیلۃ القدر میں اتری۔سو اس کتاب کا باشرف ہونا اور تمام کتابوں سے اشرف ہونا ہر لحاظ سے کامل ہے۔

مولانا جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفیسر ‘‘در منثور ’’میں ایک حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘ میں عرب سے تین وجہ سے محبت کرتا ہوں، میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہےاور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی’’۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشعرأ میں فرمایا: بِلِساَنٍ عَرَبِیٍّ مُبِیْن (الشعرأ: ۱۹۸) ترجمہ:‘‘( اس قرآن کا نزول) فصیح عربی زبان میں ہوا ہے’’۔

اس آیت کی وضاحت میں مولانا ابوالاعلی مودودیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ ان انبیا میں شامل ہیں، جنہیں عربی زبان میں خلق خدا کو متنبہ کرنے کے لیے مامور فرمایا گیا تھا، یعنی ہود، صالح، اسماعیل اور شعیب علیہم السلام۔ رب العالمین کی طرف سے یہ تعلیم کسی مردہ جناتی زبان میں نہیں آئی ہے،نہ اس میں کوئی معمے کی سی گنجلک زبان استعمال کی گئی ہے، بلکہ یہ ایسی صاف اور فصیح زبان میں ہے کہ جس کا مفہوم ومدعا ہر عرب اور ہرو ہ شخص جو عربی زبان جانتا ہو، بے تکلف سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے جو لوگ اس سے منہ موڑ رہے ہیں، ان کے لیے یہ عذر کرنے کا کوئی موقع نہیں ہےکہ وہ تعلیم کو سمجھ نہیں سکتے، بلکہ ان کے اعراض وانکار کی وجہ صرف یہ ہےکہ اسی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں فرعونِ مصر، قوم ِابراہیم، قوم ِنوح، قومِ لوط اورقومِ عادوثمود مبتلا تھے۔

آج کے دور میں بعض لوگوں کا خیال ہےکہ عربی زبان بہت مشکل ہے اور اس سیکھنا بہت کھٹن مرحلہ ہے۔ جو لوگ ایسی بات کہہ رہے ہیں، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو جھٹلا رہے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس کی زبان کو آسان کردینے کی خوش خبری سنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں چار مرتبہ فرمایاکہ‘‘ اور بے شک ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے۔پس تم میں کوئی غوروفکر کرنے والا ہے’’۔ (سورۃ القمر:۷)

اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور اس کی زبان کو بہت آسان کر دیا ہے، بس تھوڑے سے غور وفکر کی ضرورت ہے اور یہی غور وفکر اور محنت انسان کو اپنے رب سے جوڑ سکتی ہے۔

عربی زبان اور سلف صالحین کے اقوال

ابوبکرحمد بن انباری ؒاپنی کتاب‘‘ مسبوک الذہب ’’میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مشہور مقولہ لکھا ہےکہ ‘‘عربی زبان سیکھو، یہ تمہارے دین میں سے ہے’’ ایک اور روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقولہ لکھا ہےکہ‘‘ عربی زبان میں پختگی پیدا کرو، یہ تمہارے ذہن اور عقل میں اضافہ کرے گی’’۔

امام ابن تیمیہؒ نے عربی زبان سیکھنے کوواجب قرار دیا ہے۔ ان کے بقول چونکہ قرآن وحدیث کو سیکھنا فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی صرف عربی زبان سیکھ کر ہی ہو سکتی ہے، لہٰذا اس زبا ن کو سیکھنا واجب اور فرض ہے۔ ابن جنیؒ اپنی کتاب ‘‘خصائص’’ میں لکھتے ہیں کہ بہت سے اہل ِعلم لوگ شریعت سے اس لیے گمراہ ہو گئے کہ وہ عربی زبان سے ناواقف تھے۔ امام سیوطی ؒنے‘‘ المزھر ’’میں ذکر کیا ہے کہ عربی زبان کا سیکھنا دینی اعمال میں سے ہے، چونکہ قرآن مجید کے الفاظ کے معانی صرف اسی زبان کے ذریعے ہی سے سیکھے جاسکتے ہیں، لہٰذا اس زبان کا سیکھنا فرضِ کفایہ ہے۔

تفسیر آلوسی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک مقولہ نقل کیا گیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ‘‘ جب تمہیں قرآن کے بعض معانی واضح نہ ہورہے ہوں تو انہیں عرب کے دیوان میں تلاش کرو’’۔ اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن فہمی کے لیے عرب کے قدیم شعراء کے دیوانوں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، اور ان دیوانوں کا فہم صرف عربی زبان پر مکمل عبور حاصل کرکے ہی پایا جاسکتاہے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو عربی زبان میں غلطی کرنے پر سزا دیتے تھے۔ ابو ایوب سختیانی ؒ سے جب عربی زبان میں غلطی ہوجاتی تھی تو فوری طور پر اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت مانگتے تھے۔

عربی زبان اس لحاظ سے بہت نازک زبان ہےکہ بعض اوقات معمولی غلطی سے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے عربی زبان پڑھتے وقت اس کے مخارج اور اعراب پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس حوالے سے امام اصمعیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر خوف آتا ہے،جو عربی سے نابلد ہیں،کیونکہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس قول ‘‘ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے’’ کے مصداق نہ بن جائیں۔

ٹیگز