کاش! - ہالہ غازی فاروقی

یہ 1400 برس قبل کا ایک منظر ہے۔ افق پر گردو غبار کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ کب سے محو انتظار لوگ اچک اچک کر ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ان کی شان و شوکت اور جاہ و جلال کا کیا عالم ہوگا جن کی ہیبت سے قیصر و کسری کے ایوان لرزتے ہیں؟ کہ اچانک وہ نظر آتے ہیں۔ لمبا قد، وجیہہ چہرہ جو بے انتہا رعب لیے ہوئے ہے، اونٹ کی نکیل تھامے، خراماں خراماں چلتے ہوئے۔ لوگ جو ایک عظیم الشان قافلے کے گمان میں تھے، حیران رہ جاتے ہیں، سوالیہ نظریں پوچھتی ہیں کہ کیا یہی ہیں وہ جن کی دہشت دشمنوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہے؟ ان کا غبار سے اٹا لباس اس سوال کی نفی کرتا ہے، لیکن ان کا بے انتہا رعب دار چہرہ دیکھ کر یقین کامل ہوجاتا ہے کہ ہاں یہی ہیں وہ!

وہ قریب آتے ہیں، لوگوں کو سلام کرتے ہیں، بیت المقدس، جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے، تمام انبیاء کا مسجَد ہے، آسمانی سفر کی ابتدا ہے، اس ارض مقدس کی چابیاں لیتے ہیں۔ ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ بیت المقدس میں داخل ہوتے وقت اچھا لباس زیب تن کر لیں، چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوتے ہیں؛ ہماری عزت صرف اسلام میں ہے۔ یہ فرما کر بیت المقدس میں داخل ہوتے ہیں۔ پھر کہا جاتا ہے کہ اگر ارادہ ہو تو کلیسا میں نماز ادا کر لیں، وہ آئندہ آنے والی عیسائیوں کی نسلوں کے حقوق کے تحفظ کا خیال کرتے ہیں اور منع فرما دیتے ہیں۔ نماز کے لیے وہ جگہ منتخب کرتے ہیں جہاں خدا کے محبوب پیغمبروں نے نماز ادا کی۔ اپنے رتبے کو پس پشت ڈال کر اس جگہ کی صفائی شروع کر دیتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے ساتھی بھی آگے بڑھ کر اس کار خیر میں حصہ لیتے ہیں۔ مجمع انگشت بدنداں ہے، یہ کون لوگ ہیں؟ کس طرح کے لوگ ہیں کہ دنیا ان سے دہشت زدہ ہے مگر یہ کسی کام میں شرم محسوس نہیں کرتے؟ انہیں کیا معلوم کہ یہی عاجزی تو ان کے جاہ و جلال کی وجہ ہے کہ جو خالق کے سامنے عاجزی اختیار کرے، مخلوق کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نماز سے فارغ ہوتے ہیں۔ عیسائیوں کو امن کی دستاویز لکھ کر دیتے ہیں۔ بغیر کسی خون خرابہ اور تلوار و خنجر کے تمام عوام ان کے تابع ہوجاتے ہیں۔ یوں انبیاء کی سرزمین میں امن قائم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت کیوں نہیں ہوسکتا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

وقت گزرتا ہے۔ اسی بیت المقدس کے لیے بہت سی لڑائیاں ہوتی ہیں۔ یہ 1400 برس بعد کا منظر ہے۔ اسی بیت المقدس میں، جو کبھی امن کا گہوارا بن چکا تھا، لوگ جمع ہیں۔ چیخ و پکار جاری ہے۔ مسلمان مرد، بچے اور عورتیں جو اس عظیم الشان خلیفہ کے اخلاق کے نتیجے میں مسلمان ہونے والوں کی اولاد میں سے ہیں، لہو لہان ہیں، ایک اور عمرؓ کو پکار رہے ہیں۔ ایک ایسا حکمران جو اپنے عروج کی وجہ صرف اسلام کو سمجھتا ہو، جو شمشیر و سناں کو اوّل اور طاؤس و رباب کو آخر درجے پر رکھتا ہو۔

بیت المقدس جو امام الانبیا نبی آخر الزماں کی جائے امامت ہے، صیہونیوں کے قبضے میں ہے اور مسلمان جو اب 1400 برس بعد پہلے سے دوگنی اور چوگنی سے بھی زیادہ تعداد میں ہیں، ان کی اکثریت ہر چیز سے بے پرواہ ہوکر اپنے حال میں مست ہیں۔ ان کے حکمران اپنے اسلاف سے غداری میں مصروف ہیں۔ فلسطین کے نہتے اور مظلوم عوام عمرؓ اور خالدؓ بن ولید کو پکار رہے ہیں، جو آج کی اسلامی دنیا میں کہیں نہیں ہے، جو اب شاید کبھی نہ آسکے۔ پھر بھی وہ امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ کاش کبھی عمرؓ، ابو عبیدہؓ، عمروؓ بن عاص نہ سہی، کوئی صلاح الدین ایوبی یا کوئی محمد بن قاسم ہی ان کی پکار سن لے۔ کاش!