جہانگیر ترین کا سیاسی مستقبل - قادر خان یوسف زئی

پاکستانی تاریخ میں عدلیہ کا جتنا اہم کردار موجودہ دور میں نظر آیا ہے اس سے قبل عدلیہ کے فیصلوں پر عوامی انتظار کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری و اہم ترین رہنما جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر نا اہل قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر دیا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کو انسائیڈر ٹریڈنگ کا مجرم قرار دیا جبکہ عمران خان کی نا اہلی کے لیے دائر درخواست کو متاثرہ فریق نہ ہونے کے جواز کے سبب مسترد کردیا۔ مذکورہ کیس پر وکلا نے 100 گھنٹے سے زائد دلائل اور 73 مقدمات کے حوالے دیے جبکہ اس دوران درجن بھر ممالک کی اعلیٰ عدلیہ کے تقریباً تین درجن فیصلوں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔سپریم کورٹ نے درخواستوں کی 50 سماعتیں کیں اور یہ کیس ایک سال تک چلا۔واضح رہے کہ انسائیڈر ٹریڈنگ کووائٹ کالر کرائم میں بڑا مالیاتی جرائم میں گردانا جاتا ہے۔2007 ء میں انسائیڈر ٹریڈنگ اسکینڈل نے عالمی مالیاتی اداروں کو متحرک کردیا تھا اُس وقت مالیاتی اسکینڈل میں اہم پاکستانی شخصیات کے نام بھی سامنے آئے تھے لیکن اُن کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کئی مغربی ممالک و امریکا سمیت پاکستان میں سخت قانون ہونے کے باوجود موثر کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ امریکہ کی ایف بی آئی ٹیم پاکستان میں انسائیڈر ٹریڈنگ کے اہم کرداروں سے متعلق تحقیقات کرنا چاہتی تھی لیکن اُس کے بعد انسائیڈر ٹریڈنگ کے عالمی اسکینڈل وقت کی دھول میں فراموش کردیا گیا۔ پاکستان کی ا سٹاک مارکیٹ اور مالیاتی شعبے سے منسلک ماہرین اس سارے عمل کو بہت تشویش کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کامالیاتی شعبہ بالخصوص اور معیشت باالعموم اتنی مستحکم نہیں کہ اس نوعیت کے سکینڈل میں کسی اہم بروکر ہی کی شمولیت کا جھٹکا برداشت کر سکیں، حکومت عہدیدار کا نام سامنے آنا تو دورکی بات ہے۔ ان ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ شاید اسی بنا پرحکومت ایف بی آئی کو پاکستان آ کر براہ راست پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت کے غیر قانونی عمل میں شریک جرم پائے گئے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کے250صفحات پر مشتمل فیصلے میں جہانگیر ترین کے حوالے سے مزید کس قسم کی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بادی النظر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے پاکستانی سیاست میں زیادہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نا اہلی کی تلوار سے بچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ عمران خان کے سیاسی مخالفین کے لیے یہ فیصلہ مایوس کن ثابت ہوا ہے کیونکہ سیاسی مخالف عمران خان کے خلاف نا اہلی کے منتظر تھے۔ جہانگیر ترین کی نا اہلی کا فیصلہ حسب توقع تھا اور سیاسی کردار کے حوالے سے پس منظر میں جہانگیر ترین کی پارٹی فیصلوں میں اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ جہانگیر ترین کے خلاف اور عمران خان کے حق میں فیصلہ آنے پر حسب توقع پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس فیصلے پر دانیال عزیز نے کہنا تھا کہ ـ" فیصلہ سکرپٹ کے مطابق ہے اس میں جہانگیر ترین کو قربان کرکے عمران خان اور پی ٹی آئی کو بچایا گیا ہے"۔عمران خان اور جہانگیر ترین نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے۔ جس کے بعد بس الزامات کی سیاست رہ جاتی ہے جس کا براہ راست نشانہ عدلیہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما واضح طور پر عدلیہ کے فیصلے پر تنقید کررہے ہیں بقول احسن اقبال کہ" مبینہ طور پر عمران خان اور نواز شریف کی نا اہلی کے لیے دو مختلف پیمانے استعمال کیے گئے۔"گو کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کا معاملہ الیکشن کمیشن پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

تحریک انصاف میں دھڑے بازیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اس لیے اس فیصلے کے اثرات تحریک انصاف کی داخلی سیاست پر زیادہ نمودار ہوں گے۔ لیکن جہانگیر ترین، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سب سے معتبر اور قریب ترین احباب میں شامل ہیں جنھوں نے تحریک انصاف کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ فیصلے کے بعد عمران خان ذہنی تناؤ سے فی الوقت باہر آگئے ہیں تاہم ان پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک مقدمہ چل رہا ہے اگر اس کا فیصلہ بھی قومی انتخابات سے قبل آجاتا ہے تو پاکستان کی قومی سیاست میں بڑی تبدیلی واقع پذیر ہوسکتی ہے۔ تاہم اس قسم کے مقدمات میں جلد فیصلے نہیں کیے جاتے۔ فی الوقت جہانگیر ترین، اپنی سیاسی جماعت میں اب پہلے سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں۔ گو کہ بعض سنجیدہ حلقوں کی جانب سے یہ بات اٹھائی گئی ہے کہ عمران خان اخلاقی اقدار کی بڑی بڑی باتیں کرتے رہے ہیں۔ انہیں اپنی پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے انسائیڈر ٹریڈنگ جرم میں ملوث ہونے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کی جماعت کی کلیدی حیثیت رکھنے والے کے جرم سے عمران خان بے خبر ہرگز نہیں رہے ہوں گے۔ اخلاقی طور پر پارٹی رہنماؤں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ تاہم پاکستانی معاشرے میں ایسی روایات کم پائی جاتی ہیں۔ اس لیے تحریک انصاف کی کوشش یہی ہوگی کہ سیاسی مخالفین جہانگیر ترین کی ذات کو بنیاد بنا کر عمران خان کے خلاف نئی مہم جوئی شروع نہ کر دیں تاکہ تحریک انصاف کے ووٹ بنک پر کوئی فرق نہیں پڑے۔ عمران خان نے جس طرح اپنی جماعت کو پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سامنے ووٹرز کے سامنے دوسرے آپشن کے طور متعارف کرایا ہے اس کے اثرات آئندہ ہونے والے قومی انتخابات میں واضح طور پر نظر آئیں گے۔جہانگیر ترین کی نا اہلی کے بعد تحریک انصاف کی قومی سیاست یا علاقائی سیاست میں کسی بھی قسم کی بھونچال آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تحریک انصاف اس کیس کو بنیاد بنا کر پاکستان مسلم لیگ ن کے خلاف مزید جارحانہ رویہ اختیار کرسکتی ہے کہ تحریک انصاف نے عدلیہ کا فیصلہ قبول کیا لیکن پاکستان مسلم لیگ ن عدلیہ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کی نا اہلی پر بھی عدلیہ مخالف مہم چلا رہے ہیں۔ گوکہ پاکستان مسلم لیگ ن عدلیہ مخالف مہم کے کسی بھی قسم کے الزام کی تردید کرتی ہے لیکن نون لیگ کے رہنماؤں کے جارحانہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے حدیبہ پیپرز مل کے دوبارہ کھولے نہ جانے پر نون لیگ نے اطمینان کا سانس ضرور لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حدیبہ پیپرز مل پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اپیل کی مدت گذر چکی ہے۔ تکنیکی بنیادوں پر میاں نواز شریف کے حق میں فیصلہ کیا گیا۔ عام عوامی رائے یہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو اپنی جماعت میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاتون کو برہنہ کرکے تھانے میں بہیمانہ تشدد - رانااعجازحسین چوہان

تحریک انصاف کی قیادت ماضی کی سیاست کو مزید جلا بخش کر حکمران جماعت کے خلاف بتدریج مزید سخت رویہ اختیار کرے گی۔دوسری جانب عدلیہ کے فیصلے سے جہانگیر ترین کی اپنی جماعت میں سیاسی حیثیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی گو کہ جماعت میں اُن سے کئی رہنماؤں کو شدید اختلاف رہا ہے۔ حال ہی میں عدالتی فیصلے سے قبل عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر جہانگیر ترین کے پارٹی فیصلوں کے خلاف تحریک انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاج و مظاہرہ کیا تھا۔ جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی سنیئر رہنما جہانگیر ترین کے پارٹی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ لیکن عمران خان کا جہانگیر ترین پر بھرپور اعتماد انہیں اپنی جماعت میں پارٹی پوزیشن میں کمزور نہیں کراسکا۔ اب یہ تحریک انصاف کے اخلاقی اقدار کے دعوؤں کا امتحان ہے کہ کیا تحریک انصاف اعلی عدلیہ سے نا اہل قرار دیئے جانے والے کو سیاسی ذمے داریاں جاری رکھنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ تحریک انصاف اخلاقی طور پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف۔ موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے لیکر وزیر خزانہ اسحاق دار، قومی اسمبلی کے اسپیکرایا ز صادق، وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال، صوبائی وزیر قانون ثنا اللہ کو مستعفی ہونے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انسائیڈر ٹریڈنگ کے مجرم، صادق اور امین نہ رہنے والے اور عدلیہ کے فیصلے کے مطابق عدالت میں غلط بیانی اور جھوٹ بولنے والے کو اپنی سیاسی جماعت میں کیا کردار دیں گے۔ گو کہ عمران خان نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے عندیہ دیا ہے کہ وہ فیصلے کو قبول تو کرتے ہیں لیکن فیصلے کے خلاف اپیل بھی کریں گے۔ یہ عمران خان کا دوہرا بیانیہ ہے کہ ایک جانب عدالت کے فیصلے کو جہانگیر ترین اور عمران خان قبول بھی کررہے ہیں۔ انسائیڈرٹریڈنگ میں جہانگیر ترین اقبال جرم بھی کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فیصلے کے خلاف اپیل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان جہانگیر ترین کے خلاف فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں لیکن بظاہر اسے تسلیم تو کررہے ہیں لیکن اس فیصلے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی بھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اُن کا حق بھی ہے۔ اسی طرح جہانگیر ترین کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے عمران خان اپنی اخلاقی اقدار کے دعوؤں پر کتنا پورا ترتے ہیں یہ منظر بھی عوام کے سامنے آجائے گا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اصولی طور پر عدلیہ سے سزا یافتہ شخص کو سیاسی جماعت کی مرکزی کمان دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا اس لیے عمران خان نے اگر جہانگیر ترین کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا ہے تو پھر اپنے دعوؤں کو سچا ثابت کرنا ہوگا، میاں نواز شریف کے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر بننے پر جن تحفظات کا اظہار تحریک انصاف کی جانب سے آیا تھا۔ اب وہی امتحان جہانگیر خان کی شکل میں تحریک انصاف کی قیادت کے سامنے ہے کہ وہ نا اہل و انسائیڈر ٹریڈنگ کے مجرم کے سیاسی مستقبل پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔