ہسپتال چوک سگنل فری کیے جائیں - محمد نور الہدیٰ

لاہور ڈیڑھ کروڑ سے زائد کی آبادی کا شہر ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاہور سمیت پاکستان کی آبادی میں مسلسل تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بڑھتی آبادی کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بھی روز بروز گھمبیر ہوتے جارہے ہیں۔ آپ جس سڑک، جس شاہراہ سے گزریں، گاڑیوں کی طویل قطاریں صبر کا امتحان لیتی دکھائی دیتی ہیں۔ اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہونا معمول بن چکا ہے۔ اس ٹریفک جام سے کتنے مسائل جنم لیتے ہیں، کتنی کہانیاں وجود میں آتی ہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ کہیں ایمبولینس چیخ چیخ کر راستہ مانگ رہی ہوتی ہے تو کہیں کسی گاڑی یا رکشے میں بچے جنم پا رہے ہوتے ہیں …… سونے پر سہاگہ یہ کہ لاہور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اکھڑی، کھودی سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک مسائل میں گذشتہ چند برسوں میں جو خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، اس نے عوام کو بھی نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل کے حل کے لیے انڈر پاسز، اوور ہیڈ برج، میٹرو، اورنج لائن ٹرین کی صورت میں مختلف ترقیاتی پراجیکٹس متعارف کروائے ہیں۔ ان پراجیکٹس کی اپنی اپنی اہمیت و افادیت ہے، لیکن اس کے باوجود ٹریفک کا اژدھا قابو میں نہیں آرہا، اور آئے گا بھی کیسے ؟ لاہور نہ صرف آبادی بلکہ صنعتی اعتبار سے بھی پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ دیگر شہروں اور دیہاتوں کے لوگ روزگار کے لیے کراچی کے بعد ترجیحاً لاہور کا رخ کرتے ہیں ، ان کا 70 فیصد حصہ تو لاہور میں ہی مستقل آباد ہوکر رہ گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان بھر سے لوگ روزگار کے ساتھ ساتھ حصول تعلیم اور علاج معالجے کے لیے بھی لاہور کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زیادہ آبادی کا حامل اور سیاسی مرکز ہونے کی وجہ سے اس شہر میں سہولیات بھی زیادہ ہیں۔ یہاں ہسپتال اور تعلیمی اداروں کی قابل ذکر تعداد ہے۔ 11 بڑے سرکاری ہسپتال صرف لاہور میں ہیں، جہاں سے استفادہ کے لیے پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ کم از کم 6سے 7 ہزار مریض صرف آؤٹ ڈور میں علاج کے لیے آتے ہیں۔ یوں جب دیگر شہروں کے افراد یہاں کا رخ کریں گے تو ظاہر ہے رش بڑھے گا، اور ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ آئے گی۔ لہٰذا اس ضمن میں موثر پلاننگ کی ضرورت ہے، جس پر ہمارے متعلقہ اداروں کی توجہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انا مارچ کی بھینٹ چڑھتا کشمیر! شیخ خالد زاہد

لاہور کی مولانا شوکت علی روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ، شارع فاطمہ جناح، شاہدرہ، بند روڈ …… یہ وہ اہم سڑکیں ہیں جہاں بڑے سرکاری ہسپتال واقع ہیں۔ ان سڑکوں پر رش کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ہسپتالوں کے سامنے شاہراہوں پر ٹریفک جام ہونا ایک عمومی بات بن کر رہ گئی ہے۔ ایمبولینسوں کے سائرن، گاڑیوں کی پوں پوں اور لمبی قطاریں …… یہ ان روٹس کی پہچان ہیں۔ اگرچہ بے ہنگم ٹریفک میں پھنسے ہونے کے باوجود، ہر فرد کا دل کرتا ہے کہ اپنے پیچھے فریاد کرتی ایمبولینس کو راستہ دے، لیکن بدترین بدنظمی اور شدید رش کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکتا ۔ ہمارے ہاں سڑکوں پر پہلے ہی گنجائش سے زیادہ ٹریفک چل رہی ہے جبکہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ بنیادی طور پر ہم ایک بے صبری قوم واقع ہوئے ہیں، جس کی جھلک ہم روزانہ سڑکوں پر دیکھتے بھی رہتے ہیں۔ ہمیں جہاں تھوڑی سی جگہ دکھائی دیتی ہے، گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک دوسرے سے پہلے نکلنے کی کوشش ٹریفک جام کا باعث بنتی ہے اور پھر اسے پیچھے آنے والے سینکڑوں لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ امر ہمارے مجموعی رویوں اور ’’مہذب‘‘ ہونے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اخلاقی طور پر حکام بالا اور بالخصوص منصوبہ سازوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہسپتالوں کے قرب و جوار میں ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ورکنگ اور موثر پلاننگ کریں اور کچھ نہیں تو وہ چوک اور شاہراہیں، جہاں ہسپتال ہیں، وہاں اور اس کے دونوں اطراف سے کم از کم آدھا کلومیٹر کے فاصلے تک کو ٹریفک سگنل سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ہسپتالوں کے آس پاس ٹریفک سگنل اور موڑ نہیں ہوں گے تو اطراف میں ٹریفک کا دباؤ بھی نہیں رہے گا۔ یوں ہسپتال جانے والوں کو ان کا حق بھی ملے گا اور بروقت علاج بھی ۔ وگرنہ ہسپتالوں کے سامنے اور آس پاس نصب ٹریفک سگنلز مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے کسی اضافی کرب سے کم نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

شہباز شریف اگرچہ زبردست ترقیاتی ویژن کے حامی راہنما ہیں اور اس ویژن کی تکمیل کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ اس امر کی گواہی لاہور سمیت پنجاب میں جہاں جہاں بھی ترقیاتی کام ہوئے، اور ہورہے ہیں، وہاں کا ہر شہری دے گا۔ کوئی شک نہیں کہ ان کے بنائے گئے منصوبے عوام کے لیے مفید اور دیرپا ہیں اور شہریوں کو بہترین سفری سہولیات دینا ان کی ترجیحات میں شامل ہے …… لیکن یہ امر بھی حقیقت ہے کہ آپ جس قدر مرضی وسیع المعیاد منصوبہ جات بنا لیں، انڈر پاسز، پُل، روڈ بنا لیں، ٹرینیں اور بسیں بھی جتنی مرضی چلا لیں، سڑکیں جتنی چاہے کشادہ کرلیں، بڑھتی ہوئی آبادی اور ہمارے مجموعی رویوں کے باعث ٹریفک کو کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے …… کیونکہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ بحیثیت عوام، ہم ایک دوسرے کو تہذیب اور شائستگی کا صرف درس ہی دے سکتے ہیں، دوسرے کا غلط کام دیکھ کر دل ہی دل میں اسے کوس ہی سکتے ہیں، جبکہ ہم خود بھی وہ تمام عوامل کررہے ہوتے ہیں، جسے دوسرے کے کرنے پر ہم برا جانتے ہیں۔

لہٰذا جناب شہباز شریف سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مذکورہ اہم مسئلے پر بھی توجہ دیں، فی الفور نوٹس لیں اور تمام ہسپتالوں کے اطراف کے راستے ہنگامی بنیادوں پر سگنل فری کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف بہت سے لوگوں کا بھلا ہوگا بلکہ ان کے لیے یہ منصوبہ صدقہ جاریہ کا بھی باعث ہوگا۔ واضح رہنا چاہیے کہ ہسپتال چوکوں کو سگنل فری کرنے کا منصوبہ دیگر ترقیاتی منصوبوں سے بڑا اور اہم منصوبہ ہے اور مستقبل کی اولین ضرورت بھی۔