بائیکاٹ کا ہتھیار اور قومی یکسوئی کا فقدان - حامد کمال الدین

ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ہتھیار اٹھوانے کی بات کی جاتی ہے تو اعتراضات کا ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے:

•حضرت یہ جو فیس بک آپ استعمال کر رہے ہیں، یہ بھی ’ان‘ کا ہے، سب سے پہلے تو اس کو چھوڑیے نا!

•اور وہ جو ٹویٹر ہے اس پر سے بائیکاٹ کےلیے ٹویٹ کرنا، کیسا کھلا تضاد ہے!

•اور شاید یہ بائیکاٹ کے حق میں آپ لکھ بھی کسی اینڈرائڈ سے رہے ہیں، پہلے اس کو تو چھوڑا ہوتا!

میرے دیکھنے میں، ایسے اعتراضات اٹھانے والے حضرات دو طرح کے ہیں۔ ایک جو اسلامی سیکٹر اور اس کے ایشوز کا مذاق اڑانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہی میں اب ہمارے وہ جدت پسند دیندار بھی آنے لگے جو ہر مسئلے میں لبرلز کو ’اسلامی دلائل‘ فراہم کرنے کا محاذ سنبھالے بیٹھے ہیں اور جو اپنی ’اسلامی‘ بولی سے ہر موقع پر اُن کا کیس مضبوط کرنے کی باقاعدہ کوشش کرتے ہیں۔ میرے نزدیک اس فریق کو تو نظراندا کرنا ہی عوامی سطح پر ایک بہترین پالیسی ہے۔ دوسرا، ہمارا وہ گروہ جو واقعتاً دشمن کو زک پہنچانے میں سنجیدہ ہے، لیکن ’’بائیکاٹ‘‘ کا ہتھیار استعمال کرنے کی بابت اس کے ہاں کچھ اشکالات پائے جاتے ہیں۔ اپنے ان بھائیوں کے ساتھ ہمارا اگر کچھ اختلاف ہو گا تو وہ ’نکتۂ نظر‘ کا ہو گا، خواہ ہم انہیں کسی بات کا قائل کر لیں یا وہ ہمیں۔ زیرنظر مضمون اسی سنجیدہ فریق کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے جو دشمن کو کچھ نہ کچھ نقصان پہنچانے کی ضرورت پر ہمارے ساتھ متفق ہے۔

سب سے پہلی بات اس سلسلہ میں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ ’’بائیکاٹ‘‘ کوئی شریعت کے منصوص مسائل میں نہیں آتا جو یہ سوال کیا جائے کہ ’’پھر ہم اپنی اشد ضرورت کی چیزیں دشمن سے کیسے خرید کر سکیں گے‘‘!؟ وہ اہل علم جو امت کو یہ ہتھیار اٹھوانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ان کا مستنَد (علمی دلیل) اس باب میں کوئی براہِ راست نص نہیں بلکہ ’’ذرائع اور وسائل‘‘ کا ایک فقہی باب ہے نیز موجودہ دور میں معاشی جنگوں کا ایک مطالعہ جو اپنی فقہی تکییف میں اسی ’’ذرائع و وسائل‘‘ والے مسئلہ ہی کی جانب لوٹتا ہے۔ نص کی جانب اس ضمن میں اگر رجوع ہے تو وہ ایک ضمنی انداز میں ہی (اس کا کچھ بیان ہمارے ایک گزشتہ مضمون کے آخر میں موجود ہے)۔ پس جب یہ ایک منصوص مسئلہ نہیں، اور اس باب میں کل سہارا اسلام کے ان عمومی اصولوں پر ہے کہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ ناکارہ کرنے کی کوشش کی جائے اور ہر آدمی اس میں حصہ ڈالنے کی فکر کرے، تو اس سے خودبخود واضح ہے کہ ایسا کرتے ہوئے آپ کو اس حد تک بہرحال نہیں جانا جہاں دشمن سے بڑھ کر خود آپ کا نقصان ہو رہا ہو۔ ٹیکنالوجی وغیرہ آپ کی بنیادی ضرورت ہے، وہ اگر دشمن آپ کو بیچنے پر آمادہ ہے تو خود وہ ’’ذرائع اور وسائل‘‘ کا باب ہی آپ کو اسے لینے سے منع نہیں کرے گا؛ بلکہ اسے حاصل کرنے کی ہدایت کرے گا۔ البتہ خالی تعیش اور مزے کی چیزیں دشمن سے خریدنے کی صورت میں اگر عالم اسلام روزانہ کروڑوں اربوں روپیہ یہودی کی نذر کرتا ہے، جس کا ایک حصہ وہ اپنے صیہونی بندوق بردار کو باقاعدہ چندے میں دیتا ہے، اور جوکہ ایک واقعہ ہے، تو ’’ذرائع اور وسائل‘‘ کا فقہی مبحث یہاں آپ سے کہے گا کہ اپنی اس زبان کے ’’مزے‘‘ پر ذرا کنٹرول کرو اور دشمن کو مضبوط کرنے کے عمل میں وہ حصہ مت ڈالو جس سے تم خود بالکل بھی مضبوط نہیں ہو رہے بلکہ صرف دشمن پل رہا ہے۔ (یعنی ٹیکنالوجی وغیرہ بیچ کر دشمن اگر اپنی معیشت کو مضبوط کر بھی رہا تھا تو اسے خرید کر تم بھی کچھ نہ کچھ مضبوط ہو رہے تھے۔ لہٰذا وہاں معاملے کا ایک پہلو اگر اس ڈیل میں ’’مانع‘‘ تھا تو ایک دوسرا پہلو اس کا ’’موجب‘‘ بھی ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کسی وقت ’’مانع‘‘ ’’موجب‘‘ پر بھاری ہو گا تو کسی وقت ’’موجب‘‘ ’’مانع‘‘ پر۔ ٹیکنالوجی کی اشیاء میں اغلب طور پر ’’موجب‘‘ بھاری ہو گا جبکہ تعیش کی اشیاء میں ’’مانع‘‘)۔ یہاں سے؛ ’’تعیش اور زبان کے مزے‘‘ کی اشیاء کو ’’ٹیکنالوجی‘‘ وغیرہ اشیاء پر قیاس کرنا درست نہ رہا؛ اور ان میں ایک واضح فرق آ گیا۔ تو اب اس قوم کا حال دیکھو جو دشمن سے جوتے کھانا تو قبول کر لے لیکن زبان کا مزہ اور جسم کی راحت چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو خواہ اس سے ان کے بھائیوں کے سینے چھلنی ہونے میں حصہ کیوں نہ پڑ رہا ہو؛ البتہ اسے اس پر توجہ دلائی جائے تو دلیل ’ٹیکنالوجی‘ کی دے!

یہ بھی پڑھیں:   میں فلسطین ہوں - عصمت اسامہ

ہاں ’’بائیکاٹ‘‘ کا یہ جو سبق ہے، حتیٰ کہ چاکلیٹ اور سافٹ ڈرنک لینے سے اجتناب پر مخالف کی یہ چوٹ کہ ’پھر یہ دشمن سے ٹیکنالوجی کی اشیاء بھی کیوں لیتے ہو‘‘... اسے بھی میں تو اپنی قوم کے حق میں مفید ہی دیکھتا ہوں؛ بس اگر ذرا ہم اس میں حمیت اور نظر پیدا کر لیں۔ مخالف کی چوٹیں ان شاء اللہ مجھے اور میری قوم کو مسلسل یہ یاد دلائیں گی کہ کیوں یہ ٹیکنالوجی بھی مجھے دشمن سے لینا پڑ رہی ہے؛ یہ بھی کیوں میری اپنی نہیں ہے۔ یہ ایک آئینہ ضرور ہے جسے بہرحال مجھے دیکھنا ہے۔ اسے دیکھنے میں حرج نہیں؛ بلکہ اس میں بھی فائدہ ہی فائدہ ہے۔ نتیجتاً، ان چوٹوں کا اثر لے کر یہ تو نہیں کہ ہم دشمن کے ساخت کردہ سامانِ تعیش کی اپنے یہاں ریل پیل کر لیں (جوکہ وہ چاہتا ہے)، البتہ اپنی بنیادی ضرورت کی چیزوں میں خود کفیل ہونے کی ایک کسک ضرور ہر دم ہمارے اندر تازہ ہو جائے (جوکہ نظر اور حمیت نہ ہونے کے باعث شاید ہم میں پیدا نہیں ہو رہی)۔ اصل چیز وہ ’’نظر‘‘ ہی ہے جو حاصل ہو تو مخالف کی چوٹیں بھی آپ کو زندگی دے جاتی ہیں۔ اور ہمیں تو بلاشبہ ان چوٹوں کی ضرورت ہے، اللہ انہیں جزائےخیر دے!


ایک اور سوال ہے جس کا جواب آپ کو بھی شاید میرے ساتھ مل کر سوچنا ہو: بائیکاٹ کی یہ صدا اتنی بار لگانے کے باوجود ہمارے یہاں کامیاب کیوں نہیں ہو رہی؟

اس کے جواب میں بہت سی باتیں ہوں گی مگر ایک بات جو میرے ذہن میں آ رہی ہے وہ یہ کہ بائیکاٹ کی ’’آواز‘‘ ضرور کسی خاص موقع پر بلند کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر بائیکاٹ بذاتِ خود کسی خاص موقع پر ’’کروانے‘‘ کی چیز نہیں بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ کرکے کوئی نتیجہ دکھانے کی چیز ہے۔ کسی نے اسے ایک کل وقتی پراجیکٹ کے طور پر ابھی تک نہیں لیا۔ اس کےلیے، اگر اتنا ہو جائے کہ اپنی بہت سی جماعتوں میں سے صرف ایک جماعت ایسی ہو جو اس کو وقتی موضوع بنانے کی بجائے اپنا کل وقتی موضوع بنا لے اور اسے اٹھا کر منبر و محراب تک جا پہنچے، اور اپنے کچھ مرکزی مضامین میں اس کو جگہ دے دے (بہتر یہ ہے کہ اس محاذ کو اٹھانے کےلیے کوئی جماعت اپنے یہاں اس کےلیے مختص ایک شعبہ بنا دے جو مسلسل اپنی رپورٹ اور کارگزاری پیش کرے)، تو ان شاء اللہ یہ امت ایسی گئی گزری نہیں کہ دشمن کے خلاف ایسا آسان ہتھیار اٹھانے سے بھی گریز کرے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب بڑی اشیاء ہمارے ہاتھ میں نہیں اور بس کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی ہمارے عام عوام کے کرنے کی رہ گئی ہوں؛ اور جبکہ دشمن اپنے ہاتھ سے وہ مسلسل اسباب ہمیں فراہم کر رہا ہو جو ہماری قوم میں ایک داعیۂ عمل پیدا کرنے کےلیے نہایت کافی ہیں۔ بس عوام کی ایک پوزیشن سمجھنے کی کوشش کریں: عوام ہمیشہ ’’پیچھے چلنے‘‘ کے ہوتے ہیں اور ایک ’’مسلسل عملی توجہ اور راہنمائی‘‘ کے ضرورتمند رہتے ہیں، ویسے خواہ آپ انہیں کتنے ہی فلسفے سنا لیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ’’نکتے‘‘ بتانے والے ہم جیسے بہت ہیں انہیں ’’لے کر چلنے‘‘ والا یہاں کوئی نہیں۔ سب کو موقع پر ہی ایک چیز یاد آتی ہے اور وہ اسے موقع پر ہی داغ کر کسی اور ’موضوع‘ کی طرف چل دیتا ہے۔ پلاننگ اور لیڈرشپ اسے نہیں کہتے۔ اس چیز کا جب تک ہم بندوبست نہیں کر لیتے، عوام سے مایوس ہونا درست نہیں۔